انتہائی غیر سیاسی اور جھوٹی کہانی


ہیلو؟ ہیلو؟ جی کون صاحب ہیں آپ کی آواز صاف سنائی نہیں دے رہی اونچا بولنے کی کوشش کریں۔
کون ہے بیٹا؟

ابا جان صبح سے فون بج رہا ہے آپریٹر کہتی ہے ٹرنک کال ہے، لیکن آواز نہیں آتی یوں لگتا ہے جیسے کتے کے غرانے یا بھونکنے کی آواز ہے۔ اللہ جانے کون ہے۔

ارے بیٹا یہ ٹرنک کال ہے، برطانیہ کے نمبر سے ہو گی کال تمہارے انکل کی، ان کے گھر نسلی کتوں کے جوڑے ہیں۔

اوہ اچھا، بیٹی کچھ الجھی سی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
یہ ستر پچھتر سال پرانی کہانی ہے جب ٹیلی فون کا مطلب رئیس ابن رئیس ہوا کرتا تھا۔

خان صاحب کے دادا کو اٹھارہ سو ستاون میں دو گوروں کو بچانے پہ خان صاحب کا خطاب ملا، ساتھ ہی ہر طرح کی عنایات جو ان کے پوتے تک آئی اور انگلی نسلیں بھی منہ میں سونے کا چمچ لے کر آنے والی تھیں۔

پاکستان بننے کے بعد ان کی طاقت میں اور بھی بڑھوتری آئی۔ اب وہ چھوٹے موٹے نواب صاحب تھے، اتفاق سے ان کا علاقہ ایسی جگہ تھا جہاں تقسیم سے کوئی فرق نہیں پڑا وہ جہاں تھے وہاں ہی رہے اور اب وہ پاکستانی تھے۔

اگلے روز آخر کار فون لگ ہی گیا۔ آپریٹر نے نہایت متانت سے کہا سر آپ کی ٹرنک کال ہے اب آواز صاف تھی، خان صاحب کے گورے دوست نے بتایا کہ میں کل سے بات کرنے کو تڑپ رہا تھا، جانتے ہو کیوں؟

میرے نئے تجربے سے ایک نئی نسل کا کتا بن گیا ہے۔ اس کتے کے ماں باپ دونوں ہی ایک نسل سے ہیں، لیکن میرا یہ نیا کتا دنیا کا واحد کتا ہے جو انسانی خدو خال اور انداز رکھتا ہے۔

میں نے کتے کی اس نئی نسل کا نام محافظ رکھا ہے۔

پانی کے جہاز سے جوڑا کراچی آ رہا ہے، تم فوراً کراچی جاو اور اسے پورے پروٹوکول کے ساتھ گھر لاؤ، اس کے لیے کمرا صاف اور تیار کروا کے جانا، اور ہاں ”ضروری بات تم محافظ کو غلطی سے بھی کتا نہیں کہو گے“

یاد رہے تم اور تمہارے گھر کا کوئی فرد بھی محافظ کو ”کتا“ نہیں کہے۔

خان صاحب کے دوست ان کے بچپن کے ساتھی تھے جب وہ بورڈنگ اسکول شملہ میں تھے اس وقت دونوں کی دوستی ہوئی، کہنے کو تو انگریز تھے لیکن پیدائشی ہندوستانی تھے اردو لکھنوی انداز میں بولتے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے اور واپس یوں دوڑے آئے جیسے کوئی دیسی پردیس میں اکیلا ہو، ماں باپ کی قبریں بھی لاہور میں ہی تھیں، تقسیم کے بعد جب واپس انگلستان گئے تو ادھیڑ عمری کا دور شروع ہو چکا تھا، وہاں جا کر اپنے گھر جا نام لاہور کاٹیج رکھا، اب جانوروں پہ تجربات کرتے ہیں، یہ ان کی زندگی کے بڑے اور کامیاب ترین تجربات میں سے ایک تھا۔ ان کی شدید ترین خواہش تھی کے سب سے پہلے خان صاحب ہی اس انوکھے تجربے سے مزہ لیں۔

خان صاحب دوڑتے بھاگتے کراچی کی بندرگاہ پہنچے اپنے ساتھ بیگم اور چھوٹی بیٹی کو بھی لائے، راستے میں سب کو سمجھایا گیا کہ محافظ کو کتا بھولے سے بھی نہیں کہنا، گھر کے تمام نوکروں کو بھی ڈھیروں ہدایات دی گئی تھیں۔

خان صاحب بندرگاہ پہ اب کسی زنجیر میں بندھے کتوں کے جوڑے کے منتظر کہ کیا دیکھتے ہیں، سامنے سے عجیب و غریب مخلوق باہر آئی اور خان صاحب آپ کو ڈاکٹر صاحب نے میرے لیے بھیجا ہے۔

میں یہاں ہوں!
اوہ محافظ خوش آمدید، تم بھی ڈاکٹر صاحب کی طرح اردو کے ماہر ہو۔
جی جی میں ان کی تخلیق جو ہوں۔
محافظ لیکن انہوں نے دو افراد کا کہا تھا تم اکیلے ہو؟

اوہ خان صاحب کیا بتاؤں، وہ میرے ساتھ تھی لیکن سالی نے ان تھوڑے سے دنوں میں دوستیاں شروع کر دیں اور ابھی وہ کسی اور کے ساتھ ہے، bloody bitch

Don ’t worry چلو گاڑی کی طرف وہاں میری بیگم اور بیٹی ہیں تمہاری منتظر۔

محافظ کو دیکھ کر دونوں عورتیں خوفزدہ ہو گئیں، انسانی جسم پہ کتے کا چہرہ آواز انسانوں جیسی لیکن باتوں کے درمیان غرانے کی آواز سے خوفناک کیفیت ہو رہی تھی۔ لڑکی نے آہستہ سے ماں کے کان میں کہا امی اس روز فون پر یہی تھا۔

اور اس کی آنکھوں میں یہ سوچ کے آنسو آ گئے کہ اب یہ اس کے گھر میں رہنے والا تھا۔

کراچی سے واپسی کا سفر ان تینوں نے بہت شدید پریشان حالت میں کیا، خدا خدا کر کے گھر آ یا، سب اپنے اپنے کمروں میں گئے اور گھبراہٹ میں رونے کے قریب ہو گئے کہ یہ کیا بلا گھر لے آئے ہیں۔

خان صاحب نے سرونٹ کوارٹرز میں سے ایک کمرے کو کتے کے حساب سے ترتیب دیا تھا۔ اب وہ سوچ میں پڑ گئے کہ کتے کو کہاں رکھا جائے، گھر کی بالائی منزل پہ ایک خالی کمرہ تھا اسے جلدی جلدی بیڈروم کی طرح سجایا گیا، اپنے بیٹے کے کمرے کا سامان خان صاحب نے کتے کے کمرے میں رکھوا کر اسے کہا، ڈئیر محافظ جس شے کی حاجت ہو گھنٹی بجا دینا، ملازم آ جائے گا۔ اب تم بھی آرام کرو ہم بھی کچھ آرام کر لیں۔

کتے کو اوپر بھیج کر خان صاحب نے اپنے دوست کو کال کی اور پوچھا بھائی یہ کیا شے بھیج دی ہے میری بیوی اور بیٹی خوفزدہ ہیں اور اس کی جوڑی اسے چھوڑ گئی اف کس مصیبت میں ڈال دیا بھائی؟

ارے بھئی خان صاحب آپ بوڑھے ہو گئے ہیں۔ ایک دو دن بعد آپ محافظ کے فین نا ہو جائیں تو میرے نام کا کتا پال لینا۔ ہاہاہاہا۔

محافظ نے آتے ہی سب سے اس کی پسند کی بات کی خان صاحب کے ساتھ تاش اور شطرنج، بیٹی کے ساتھ صبح ایکسرسائز، شام میں ٹینس اور بیگم صاحبہ کے ساتھ وہ طرح طرح کے کھانے بناتا۔

خان صاحب کے سارے دوست احباب اب اس کے دوست۔ کوئی ایک نہیں جو محافظ کا فین نہ ہو، انتہا تو یہ ہوئی کہ خان صاحب کی بیٹی نے کہا، ابا جان میری شادی محافظ سے کروا دیں، اب ہم ایک دوسرے کے بنا زندگی نہیں گزار سکتے۔

خان صاحب نے کچھ دیر شور کیا لیکن پھر مان گئے، شادی کے بعد اب محافظ گھر کا فرد تھا، آہستہ آہستہ اس ہر شے پہ اپنا پورا قابو کر لیا، خان صاحب اب ہر بات کے لیے محافظ سے مشورہ کیا کرتے، وہ کہتا صحیح تو صحیح، غلط تو غلط۔

محافظ بے انتہا زیرک اور شاطر دماغ والا تھا، خان صاحب چار بچوں میں سے تین برطانیہ میں رہتے تھے، اور سب سے چھوٹی اور چہیتی بیٹی اب محافظ کے قابو میں تھی۔

محافظ خان صاحب اور گھر کے تمام نوکروں کو گھر چلانے کے آداب سکھایا کرتا۔

خان صاحب سے اس نے مختلف اوقات میں گھر اور جائیداد اپنے نام کروا لئے، اس عرصے میں اس کے چار بچے بھی ہو چکے تھے، یوں اب خان صاحب اپنے ہی گھر کے اندر مہمان بن چکے تھے، جب پانچویں بچے کی ولادت قریب آئی تو محافظ نے خان صاحب سے کہا!

ڈیڈی کیا ہی اچھا ہو کہ آپ سرونٹ کوارٹر میں شفٹ ہو جائیں، آپ اور امی اب چونکہ کافی بڑی عمر اس گھر میں گزار چکے اب ہمیں کھل کے رہنے کی جگہ چاہیے۔

خان صاحب نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا کتے کے پلے تیری یہ اوقات؟

محافظ غرانے لگا، اتنے زور سے بھونکا کہ گھر کے در و دیوار لرز اٹھے، سارے ملازمین رونے لگے کہ کہیں محافظ خان صاحب کو کاٹ نہ لے سب نے خان صاحب سے منت سماجت کی کہ خدارا سرونٹ کوارٹر چلیں۔

خان صاحب نے اپنا سامان اٹھایا تو محافظ نے کہا بڑے صاحب یہ میرے گھر کا سامان کس سے پوچھ کر اٹھا رہے ہیں؟

خان صاحب نے اپنی بیگم اور نوکر کی مدد سے کپڑے اور دوا دارو جمع کیے اور اسی کمرے میں جانے گئے جو کئی سال قبل محافظ کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ جاتے جاتے بیٹی کی طرف حسرت سے دیکھا تو بیٹی نے بھی محافظ کی طرح بھونکنا شروع کر دیا،

دونوں میاں بیوی روتے روتے شاگرد پیشہ کی طرف چل دیے۔

Facebook Comments HS