سرزمین افغانستان اور سپر طاقتیں


 افغانستان وہ سرزمین ہے جس نے نامور دلیر بہادر جنگجو حکمران پیدا کیے ان میں سلطان محمود غزنوی شہاب الدین غوری اور احمد شاہ ابدالی کے ذکر کے بغیر افغانستان کی تاریخ ادھوری ہے افغان عوام کی فطرت ہے کہ وہ اپنے پر کسی بھی غیر ملکی کی حکومت یا قبضہ برداشت نہیں کرتے ہیں۔ افغانستان ہمیشہ حملہ آور افواج کے لیے قبرستان ہی ثابت ہوا ہے بیسویں صدی کا زمانہ تھا اور تاج برطانیہ کی حکمرانی تقریباً آدھی دنیا پر بڑی شان و شوکت سے چل رہی تھی برصغیر پر قبضہ مکمل کر لینے کے بعد انگریز سرکار کی توجہ افغانستان پر مرکوز ہوئی افغانستان کا بادشاہ ان دنوں دوست محمد خان تھا اور اس کے روس کے ساتھ بھی بڑے گہرے دوستانہ تعلقات قائم تھے انگریزوں نے افغانستان میں برطانیہ نواز حکمران لانے کا فیصلہ کیا۔

ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ آکلینڈ نے 1838 میں افغانستان پر حملہ کر دیا اس طرح پہلی انگریز افغان جنگ کی شروعات ہوئی کافی جانی و مالی نقصان برداشت کر کے بالا آخر انگریز سرکار 1839 میں افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے انگریزوں نے بادشاہ دوست محمد خان کو تخت سے اتار کر اس کی جگہ اپنے منظور نظر شاہ شجاع کو کابل کے تخت پر بیٹھا دیا۔ شروعات کے دنوں میں تو سب بظاہر ٹھیک دکھائی دیتا رہا رفتہ رفتہ افغانوں نے انگریزوں کے خلاف بڑی زبردست گوریلا جنگ شروع کردی روزبروز انگریزوں کا جانی و مالی نقصان بڑھنے لگا افغان عوام نے بغاوت برپا کردی کابل اور جلال آباد کے دروں اور گھاٹیوں میں تعینات 16 ہزار برطانوی فوجی دستوں کو افغانوں نے قتل کر دیا 1842 میں برطانوی افواج کے قتل کا بدلہ لینے کی غرض سے جنرل پولاک افغانستان میں بڑی فوج کے ساتھ داخل ہوا اس نے بہت بڑی تعداد میں افغانوں کا قتل کیا۔

جنرل پولاک کی کارروائیوں کے باعث افغانستان میں مسلح مزاحمت اور گوریلا حملوں میں واضح کمی ضرور واقع ہوئی تاہم یہ مسلح حملے مکمل طور پر اختتام پذیر نہیں ہوئے اس تناظر میں نئے ہندوستانی گورنر جنرل لارڈ ایلسن یورو نے موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی برطانوی فوج کو فوری طور پر افغانستان سے واپسی کا حکم جاری کیا کیونکہ گورنر جنرل جانتا تھا کہ موسم سرما کی افغان مسلح مزاحمت برطانوی افواج کے لیے بہت بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

جب برطانوی فوج نے افغانستان سے انخلا کا آغاز کیا تو اس وقت کابل قندھار، غزنی اور جلال آباد برطانوی فوج کے زیر قبضہ تھے بیسویں صدی کی سپر طاقت برطانیہ افغانستان میں شکست کھا کر وہاں سے نکلا۔ سال 1979 تھا سابق سوویت یونین کی دلچسپی افغانستان میں دن بدن بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی ان دنوں افغانستان کے صدر حفیظ اللہ امین تھے سوویت یونین کو یہ خدشات لاحق تھے کہ حفیظ اللہ امین کا جھکاو امریکہ و یورپ کی جانب ہے لہذا سوویت یونین نے افغانستان پر زمینی و فضائی راستوں سے حملہ کر دیا حفیظ اللہ امین کی حکومت کا تختہ الٹا دیا گیا ان کی جگہ سوویت یونین کے وفادار ببرک کارمل کو افغانستان کا صدر بنا دیا گیا۔

روسیوں کا خیال تھا کہ وہ چند ہفتوں مہینوں میں افغان مسلح مزاحمت کا خاتمہ کر کے واپس اپنے ملک چلئے جائیں گئے روسیوں کے سب اندازے غلط ثابت ہوئے افغانوں نے بڑی زبردست مزاحمت گوریلا جنگ شروع کردی۔ سوویت یونین نے اپنی پوری طاقت افغان جنگ جیتنے میں لگا دی 10 برس تک روس افغانوں سے برسرپیکار رہا سال 1989 میں سوویت یونین نے افغانستان سے انخلا کا آغاز کیا اس زمانے کی سپر طاقت سوویت یونین بھی افغانستان میں بڑی عبرتناک شکست کھانے کے بعد مختلف ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔

سال 2001 میں امریکہ میں دہشت گردی کا واقع رونما ہوا جس کے باعث 3 ہزار سے زائد امریکی شہری ہلاک ہوئے نائن الیون حملوں کا قصور وار امریکہ نے اسامہ بن لادن اور القاعدہ نیٹ ورک کو ٹھہرایا ان دنوں افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی اور اسامہ بن لادن افغانستان میں موجود تھا۔ طالبان نے اسامہ کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور یوں دنیا کی موجودہ سپر طاقت امریکہ نے افغانستان پر جنگ مسلط کردی طالبان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا امریکہ 2 دہائیوں سے افغانستان میں قیام امن اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے میں مصروف ہے افغان جنگ کو امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ بھی کہا جا رہا ہے۔

امریکی افواج نے سال 2011 میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ آپریشن کر کے اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا امریکی محکمہ دفاع کے مطابق افغانستان میں 2001 سے 2019 تک فوجی اخراجات 778 بلین ڈالرز تھے 2300 سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور 21 ہزار سے کے لگ بھگ زخمی ہوئے 2 لاکھ سے زائد افغان عوام لقمہ اجل بنے 78 ہزار افغان سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے نیز 84 ہزار کے قریب مخالف جنگجو افراد ہلاک ہوئے 22 کھرب 60 ارب ڈالر سے زائد کے اخراجات کرنے کے باوجود امریکہ کو افغانستان میں شکست کا سامنا ہے۔

دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی اسلحہ سے لیس امریکہ و نیٹو افواج نے افغانستان سے واپسی کے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی صدر بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا اعلان کر دیا ہے امریکی حکام کے مطابق 11 ستمبر کو نائن الیون واقع کی بیسویں برسی کے موقع پر افغانستان سے مکمل فوجی انخلا مکمل کر دیا جائے گا۔ اس تناظر میں امریکہ طالبان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے افغان عوام کا مزاج فطرت ہی ایسی ہے کہ یہ اپنے پر کسی قابض افواج کی حکومت برداشت نہیں کرتے سابقہ سپر طاقتیں برطانیہ سوویت یونین کو افغانستان کی سرزمین بالآخر چھوڑنی پڑی تھی آج امریکہ بھی سابقہ سپر طاقتوں کی پیروی کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

Facebook Comments HS