لاچار سلامتی کونسل، امریکی ڈھٹائی اور مسلم امہ کا دوہرا معیار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امن ، سلامتی اور انسانی حقوق کے علمبردار سپر پاور امریکہ نے تیسری بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے اسرائیل میں جاری تشدد کے بارے میں مشترکہ بیان کی مخالفت کی ہے۔ اس طرح سلامتی کونسل اب تک غزہ پر حملوں کے بارے میں یہ بیان بھی جاری کرنے سے قاصر ہے کہ ’تشدد کے خاتمے ، عالمی قوانین کے احترام اور عام شہریوں و بچوں کی حفاظت‘ کو یقینی بنایا جائے۔ یہ قرار داد چین، تیونس، اور ناروے کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اگرچہ یہ کہا کہ اسرائیل میں تشدد کا سلسلہ بند ہونا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ہی صدر جو بائیڈن مسلسل یہ اعلان کررہے ہیں کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ان بیانات اور سلامتی کونسل میں امریکی رویہ سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم واشنگٹن کی آشیرباد سے ہی حملے جاری رکھنے کا اعلان کررہے ہیں۔ فی الوقت اس بات کا امکان نہیں کہ اسرائیل جلد ہی غزہ پر بمباری کا سلسلہ بند کردے گا۔ اس کی خواہش ہے کہ اسے عالمی دباؤ کے باوجود جتنی دیر تک امریکہ کی مکمل اعانت حاصل ہے، اسے حماس کی عسکری صلاحیت اور غزہ کے انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لئے استعمال کرے۔ یہی وجہ ہے کہ آج حملوں اور بمباری کے آٹھویں روز زیادہ شدت سے غزہ کو نشانہ بنایا گیا تاہم اس بار اسرائیلی طیاروں کا ٹارگٹ مخصوص عمارتیں ، سڑکیں اور اہم تنصیبات تھیں۔ یہ اشارے سامنے آئے ہیں کہ امریکہ نے اسرائیل کو پیغام دیا ہے کہ اگر حملوں میں شہری ہلاکتیں نہ ہوں تو بمباری کا سلسلہ کچھ عرصہ جاری رہ سکتا ہے۔

اس دوران واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی ہے کہ غزہ پر حملوں سے چند روز پہلے صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو ٹارگٹ پر درست نشانہ لگانے والے خصوصی میزائل فراہم کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس میزائل سسٹم کی قیمت 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔ تاہم غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد کانگرس میں بعض ڈیموکریٹک ارکان نے اس فروخت پر نکتہ چینی کی ہے اور اس فروخت کو معطل کرنے کی بات بھی کی جارہی ہے۔ حالانکہ امریکہ کے تازہ میزائلوں کے بغیر بھی اسرائیل کی فوجی طاقت غزہ کے نہتے اور بے وسیلہ شہریوں کی زندگی اجیرن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس قسم کی خبروں کو بھی امریکی قائدین کے دوہرے معیار کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکی لیڈر اسرائیلی فوج کے بے پناہ تشدد اور فوجی طاقت کے اندھادھند استعمال کے خلاف ایک حرف کہنے پر تیار نہیں ہیں اور نہ ہی اقوام متحدہ کو اس بارے میں کوئی بیان جاری کرنے یا قرارداد منظور کرنے کی اجازت دے رہے ہیں کیوں کہ امریکہ کے پاس کسی بھی قرار داد کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسی لئے سلامتی کونسل کے تمام ارکان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی قرارداد پر اتفاق رائے پیدا کرلیا جائے۔ موجودہ صورت حال میں امن قائم کروانے، جارحیت کے خاتمے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے بارے میں اقوام متحدہ کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آئی ہے۔

سلامتی کونسل اسرائیلی تشدد روکنے کی کوئی قرارداد منظور کر بھی لے تو بھی اس بات کا امکان نہیں کہ اسرائیل ایسی کسی قرارداد پر عمل کرے گا۔ اور نہ ہی عالمی ادارے میں اتنی طاقت اور صلاحیت ہے کہ وہ اسرائیل کو جارحیت سے باز رہنے یا رد عمل کا سامنا کرنے کا نوٹس دے سکے۔ اقوام متحدہ کو امریکہ سمیت اس کے حلیف ملکوں نے ویٹو کی بنیاد پر اپنا آلہ کار بنا رکھا ہے جو دن بہ دن اپنی اخلاقی حیثیت سے محروم ہورہا ہے۔ جب امریکی مفاد میں ہو تو افغانستان یا عراق پر حملہ کے لئے اقوام متحدہ کو آگے کرکے خود مختار ممالک کے خلاف طویل جارحیت کا ارتکاب کیا جاتا ہے یا ایران جیسے ملک کے خلاف پابندیاں لگانے کے لئے عالمی ادارے کو مجبور کیا جاتا ہے لیکن جب اسرائیل بے پناہ عسکری طاقت کے بل بوتے پر انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرتا ہے تو ’حق دفاع‘ کے نام پر اس کی حمایت کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی جاتی۔ اب یہ بات واضح ہورہی ہے کہ امریکہ اس وقت تک سلامتی کونسل میں ’جنگ بندی‘ کی قرار داد منظور نہیں ہونے دے گا جب تک واشنگٹن ا ور اسرائیل غزہ میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوجاتے۔

فلسطینی شہریوں کی بے بسی توکئی دہائیوں سے سب کے سامنے ہے لیکن جس پہلو کو عام طور سے فراموش کیا جاتا ہے وہ فلسطینی نوجوانوں میں پلنے والا غم و غصہ اور آزادی کی خواہش ہے۔ اسرائیل او ر اس کے حامی ممالک جب تک طاقت کے زور پر فلسطینیوں کی آواز دبانے، ان کے نمائیندوں کو ہلاک کرنے اور انہیں اپنی مرضی کے فیصلے ماننے پر مجبور کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا پر امن ماحول میں زندہ رہنے کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا۔ عسکری طاقت کے زعم میں اسرائیلی حکومت ضرور یہ سمجھنے کی غلطی کررہی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کو ہمیشہ کے لئے غلام رکھ سکتی ہے لیکن غزہ میں سامنے آنے والی مزاحمت اور امریکہ کی پشت پناہی سے حماس کی نمائیندہ حیثیت ختم کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود غزہ کے شہریوں کو حماس سے پیٹھ موڑنے پر مجبور نہیں کیا جاسکا۔ موجودہ حملوں کا اصل ہدف بھی دراصل اس امریکی و اسرائیلی خواب کی تکمیل ہے کہ کسی طرح حماس کو اتنا کمزور کردیا جائے اور غزہ کے شہریوں کی زندگی اتنی مشکل بنا دی جائے کہ وہ حماس کی بجائے ایسے لوگوں کو لیڈر ماننے پر آمادہ ہوجائیں جو اسرائیلی شرائط پر غلامانہ ’امن و آزادی ‘ کا کوئی نام نہاد معاہدہ کرنے پر راضی ہوں۔

حماس کے خاتمہ کی خواہش میں اسرائیل اور امریکہ تنہا نہیں ہیں۔ اگر ایک طرف ایران اور بعض دوسرے ممالک حماس کی حمایت کرتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح اسے راکٹ بنانے اور داغنے کی صلاحیت بہم پہنچاتے ہیں تو امریکہ نواز متعدد عرب ممالک حماس کے خاتمہ کے لئے اسرائیلی ایجنڈے سے نہ صرف متفق ہیں بلکہ اس مقصد کے حصول میں مدد فراہم کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ موجودہ تنازعہ اور حملوں کے تازہ سلسلہ نے ایک بار پھر یہ بات واضح کردی ہے کہ عرب ممالک، مسلم امہ یا انسان دوست عالمی طاقتیں فلسطینیوں کی حفاظت نہیں کرسکتیں بلکہ انہیں خود ہی اپنی طاقت بننا ہوگا اور اسرائیل کے استبداد اور امریکہ جیسی سپر پاور کے غیر انسانی طریقہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے مناسب اور قابل عمل حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

اسلامی دنیا کی طاقت کا مظاہرہ گزشتہ روز اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں دیکھا جاچکا ہے جہاں مختلف ممالک اپنے اپنے مفاد کے مطابق فلسطین اور غزہ کے مظلوم عوام کو دلیل کے طور پر استعمال کرتے رہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ 57 ملکوں کے اس نام نہاد اتحاد کے اجلاس کی اتنی اہمیت بھی نہیں تھی کہ اہم مغربی ممالک میں اس خبر کو نمایاں طور سے شائع کیا جاتا یا کسی تبصرہ میں یہ بیان ہوتا کہ اتنی بڑی تعداد میں اسلامی ممالک اسرائیلی حکمت عملی کو مسترد کرتے ہیں۔ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اگر او آئی سی میں شامل ممالک اسرائیل کی مذمت میں حقیقی معنوں میں ہم آواز ہوتے اور اجلاس کے دوران کی گئی تقریریں واقعی مسلمان لیڈروں کے دل کی آواز ہوتیں تو امریکہ کو کم از کم سلامتی کونسل میں ایک بے ضرر قرار داد کے راستے کی دیوار بننے کا حوصلہ نہ ہوتا۔ اس تصویر کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ متعدد مسلمان ممالک ایک طرف اسرائیلی جارحیت اور امریکی بے حسی پر گرمجوش تقریریں کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے امریکہ کو فلسطینی ’دہشت گردوں و انتہا پسندوں‘ کے خلاف اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواچکے ہوتے ہیں۔

حماس سمیت فلسطینی قیادت عالمی طور سے ملنے والے مالی وسائل کی وجہ سے بھی فلسطینی عوام کی حقیقی آواز بننے کی بجائے، ان ممالک یا عناصر کے مفادات کی نمائیندہ بن چکی ہے جو ان کی پر تعیش زندگی اور اقتدار قائم رکھنے کے لئے مالی اور اسٹریٹیجک امداد فراہم کرتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ آزادی کا مشترکہ مقصد ہونے کے باوجود مختلف فلسطینی گروہ کبھی مل بیٹھ کر کام کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔ جب تک یہ صورت حال تبدیل نہیں ہوگی ، اس وقت تک اسرائیلی پالیسی یا فلسطینی عوام کی حالت زار تبدیل ہونے کے بھی کوئی آثار نہیں ہیں۔ البتہ فلسطینی قائدین کو بھی بالآخر یہ سوچنا پڑے گا کہ جو نوجوان پتھر اٹھا کر جدید اسلحہ سے لیس اسرائیلی فوجیوں کے سامنے سینہ سپر ہوتے ہیں اور گولیوں کا سامنا کرتے ہیں، وہ کسی نہ کسی روز اپنے قائدین کی بے عملی اور مفاد پرستی کا بھی ضرور احتساب کریں گے۔

درحقیقت مین اسٹریم فلسطینی قیادت سے علیحدہ اور جارحانہ رویہ اختیار کرنے پر ہی حماس کو غزہ میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی تھی لیکن حماس کے لیڈر ایک طرف اسلامی شدت پسندی اور دوسری طرف بعض مخصوص ممالک کے عالمی اور ریجنل ایجنڈے کا حصہ بن چکے ہیں ۔ اب فلسطینی عوام کی بہبود ، آزادی اور حفاظت ان کے منشور کا اسی حد تک حصہ ہے جیسے اسلامی لیڈروں کےبیانات میں ’آخر دم تک آزادی فلسطین کی جد و جہد ‘جاری رکھنے کے عزم کا ذکر ہوتا ہے۔

مفاد، فریب اور گروہی تعصبات کی بنیاد پر اختیار کئے گئے یہ رویے فلسطینی عوام کی آزادی اور زندگی دونوں کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ انہیں بہر صورت تبدیل کرنا ہوگا۔ اس کا آغاز فلسطینیوں کی نئی نسل میں پیدا ہونے والے شعور سے ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1879 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *