جھوٹ موٹ کی ایک کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل تو خیر کوویڈ کی وجہ سے میری زندگی گھر سے دفتر تک محدود ہو گئی ہے۔ لیکن کوویڈ سے پہلے بھی پچھلے کئی برس سے چھوٹی عید ہو کہ بڑی عید۔ میں گھر سے نہیں نکلتا۔

ایک سبب تو یہ ہے کہ لگ بھگ ہر سال کوئی نہ کوئی مصیبت آ جاتی ہے یا پھر یاد دلا دی جاتی ہے۔ سیلاب آ گیا ہے عید سادگی سے منائیں، زلزلہ آ گیا عید سادگی سے منائیں، خود کش بمبار کھلے گھوم رہے ہیں وہ کسی بھی اجتماع یا عید گاہ پر ہلہ بول سکتے ہیں۔

افغان بھائی پھرمصیبت میں ہیں عید سادگی سے منائیں۔ برباد فلسطینیوں کی دربدر زندگی کو پیشِ نظر رکھ کے عید منائیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مظلوموں سے یکجہتی دکھانے کے لیے عید سادگی سے منائیں۔ کوویڈ سے بچتے ہوئے عید سادگی سے منائیں وغیرہ وغیرہ۔

حالانکہ صدرِ مملکت یا وزیرِ اعظم سادگی سے عید منانے کی اپیل نہ بھی کریں تب بھی خطِ غربت کے بوجھ سے دبی چالیس فیصد آبادی عید سادگی سے ہی مناتی ہے۔ یہ آبادی دو وقت کی روٹی ہی پیٹ بھر کے کھا لے تو اس کی عید ہے۔ چہ جائیکہ نئے کپڑے ، جوتے اور بچوں کی فرمائشیں پوری کرنے کا سپنا دیکھ پائے۔

میں نے لگ بھگ پانچ برس پہلے رپورٹنگ کے دوران لاہور شہر سے بیس کلومیٹر پرے ایک گاؤں میں لوگوں سے پوچھا۔ آپ کے پاس اتنی بھینسیں اور بکریاں ہیں۔ دودھ اور گوشت کی تو کوئی کمی نہیں ہو گی۔ سب یک زبان بول پڑے۔ دودھ تو ہم بڑی بڑی کمپنیوں کے ایجنٹوں کو بیچ دیتے ہیں۔ بس چائے بنانے کے لیے تھوڑا سا بچا لیتے ہیں۔ بکریاں اور بھینیس کاٹ دیں تو پھر دودھ کس کا بیچیں ؟ دیسی مرغی پالنے کا رواج نہیں رہا۔ بہت ہی تیر مارا تو ہفتے میں ایک بار برائلر مرغی کا گوشت خرید لیا۔

رہا مٹن اور بیف تو سال بھر میں تین بار نصیب ہوتا ہے۔ کسی کی ختنہ یا شادی ہو تب۔ کوئی مر جائے تب یا پھر بڑی عید پر کوئی رحم دل امیر آدمی یا این جی او قربانی کا گوشت بانٹ رہی ہو تب۔

جس گاؤں میں یہ گفتگو ہو رہی تھی وہ اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کے رائے ونڈ ریزیڈینشل کمپلیکس سے لگ بھگ دو کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ آج اس گاؤں کے مکین پانچ برس پہلے کے مقابلے میں بہتر زندگی گذار رہے ہیں، پہلے سے زیادہ مشکل گذر بسر کر رہے ہیں یا ان کے حالاتِ زندگی جوں کے توں ہیں ؟ میں لاعلم ہوں۔

رہی بات روسا کی تو ان کے بچوں کا تو ہر دن ہی عید ہے۔ ان بے چاروں کو سادگی کا مطلب ویسے بھی نہیں معلوم اور معلوم ہو بھی جائے تو بھی کیا کر لیں گے۔

پر میرا عید پر اپنے کمرے میں رہنے کا سبب کچھ اور ہے۔ سوچتا ہوں کون سی عید۔ عید تو بچوں کی ہوتی ہے۔ گھر سے باہر نکلوں گا بھی تو کیا کروں گا۔ سب کی اپنی اپنی مصروفیات ہیں ۔ کہاں جاؤں گا۔

نہ وہ رات ہے جو صبح کے انتظار کی خوشی میں جاگتے جاگتے گذرتی تھی اور بچے والدین کی ڈانٹ کے ڈر سے جھوٹ موٹ آنکھیں بند کر کے بستر پر پڑے پڑے کروٹیں بدلتے رہتے تھے۔

نا وہ باپ ہے جو اچھلتے کودتے بچوں کو چاند رات پر نئے کپڑے اور جوتے دلانے جھلمل جھلمل بازار میں لے جاتا تھا۔ نہ وہ دادی اور نانی رہیں جو عیدگاہ سے لوٹنے کے بعد ایک ایک روپے کا بڑا سکہ ہر بچے کی ہتھیلی پر دھرنے سے پہلے جیتے رہو پھلو پھولو کہتے ہوئے ماتھا چومتی تھیں۔

ہم سٹپٹا بلکہ پگلا جاتے تھے کہ دو تین روپے کی عیدی کیسے ٹھکانے لگائیں۔ پھر یہی ہوتا تھا کہ چاندی کے ورق والی میٹھی املی خرید لی، گولا گنڈا چوس لیا۔ اوپر نیچے جانے والے لکڑی کے جھولے میں چڑھ بیٹھے۔ لال پنی والی عینک خرید کے ناک پر بٹھا لی اور پوں پوں کرنے والی چوبی پیپنی خرید کے جابجا بجانے لگے۔ ہرے کھوپرے والی بڑی قلفی پر جی للچا گیا۔ حسرتی آنکھوں والے بندر کا ناچ دیکھ لیا۔ سر پے اوپر تلے بارہ گھڑے رکھ کر ناچنے والی خانہ بدوش عورت کو منہ کھول کے تکنے لگے۔

پٹھان کی چھرے والی بندوق سے فائر کر کے دو تین غبارے پھوڑ ڈالے۔ کچھ پیسے پھر بھی بچ گئے تو ان سے مٹی کا گگھو گھوڑا ، ٹین کی موٹر کار یا گھنگرو والا جھنجنا لے لیا۔ اور جیب ہلکی ہوتے ہی دھینگا مشتی اور موج مستی کرتے کرتے سفید جھک کپڑے خوب میلے کر کے گھر لوٹ آئے۔ اماں نے کپڑے گندے کرنے کے جرم میں تھپڑ گال پر رسید کر دیا اور کھینچتی ہوئی غسل خانے میں لے گئیں۔ ڈانٹ اور پانی سے نہلایا اور پھر سے صاف کپڑے پہنا دیے۔ اور پھر پلاؤ زردے پر پل پڑے اور پھر مارے تھکن کے انٹا غفیل ہو گئے۔ لو جی ہو گئی عید۔

اب میں بس اتنا کرتا ہوں کہ جو جو بچہ کمرے میں سلام کرنے آتا ہے اسے سو روپے کا کرارا نوٹ دے دیتا ہوں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بچہ سیدھا بلٹ ٹرین کی رفتار سے محلے کی دوکان پر جائے گا۔ ایک کولڈڈرنک یا سنتھیٹک جوس کا ٹھنڈا کاغذی ڈبہ لے گا ، دو پیکٹ چپس یا بسکٹ کے اٹھا لے گا اور سمجھے گا کہ عید ہو گئی۔

پچھلی عید پر کچھ بچے مجھے گھیر کے بیٹھ گئے۔ بابا آپ جب ہمارے جتنے تھے تب بھی عید کے دن کمرے میں ہی رہتے تھے یا باہر نکلتے تھے ؟ ۔ میں نے انھیں وہی کچھ بتایا جو ابھی ابھی آپ نے سنا۔ سب بچے ایک دوسرے کو دیکھ کر دیدے گھمانے لگے۔ مجھے معلوم تھا ان کے من میں کیا چل رہا ہے۔ بڈھا سٹھیا گیا ہے۔ ہمیں بچہ سمجھ کر نہ جانے کیا اٹائیں سٹائیں بک رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔

ایک بچہ بول پڑا بابا یہ گھگو گھوڑا ، اوپر نیچے جانے والا لکڑی کا جھولا ، ٹین کی کار ، چاندی کے ورق والی میٹھی املی ، غبارے پھوڑنے والی بندوق ، لال پنی کی عینک ، گھنگرو والا جھنجھنا ، پیپنی، ہرے کھوپرے والی قلفی، سر پر بارہ گھڑے رکھ کے ناچنے والی عورت ہم نے تو کبھی نہیں دیکھے۔ یہ کہاں ملتے ہیں۔ ہمیں یہ سب دیکھنا ہے ؟

میں اس اچانک فرمائش پر سٹپٹا گیا۔ ارے بھئی میں تو جھوٹ موٹ کی کہانی سنا رہا تھا۔ ایسا کچھ نہیں تھا ، ایسا کچھ نہیں ہے ۔ تم لوگ آخر جنوں اور پریوں کی کہانی بھی تو سنتے ہو۔ بس یہ ایسی ہی کہانی تھی۔

اور پھر دھیرے دھیرے کمرہ بچوں سے خالی ہوتا چلا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *