یار! میں بھی انسان ہوں


شروع اس خوبصورت نام یا احساس سے جو ہمیں سکون فراہم کرتا ہیں۔ چاہیے وہ وقتی طور کا ایک خیال ہوں، یا ہماری ساری زندگی کی مجموعے کا ایک جملہ ہو۔ ہم نے جتنا جی لیا، بس کافی ہے۔ جو بھی کیا اس پر پشیمانی نہیں۔ اس معاشرے کا ایک عام سا باسی ہوں۔ نیند بھی آتی ہے اور ساتھ میں باقی لوگوں کی طرح کھانے پینے جیسی ضروریات بھی محسوس کر لیتا ہوں۔ اس دنیا کی درجہ بندی کے لحاظ سے ایک طالب علم شمار ہوتا ہوں۔ طالب علم بھی ایسا جیسے کچھ سمجھ آئے یا نہ آئے، کلاس ہمیشہ لیتا ہوں اور استاد چاہیے بورڈ پر لکیر کی کھینچے، وہ بھی نوٹ کر لیتا ہوں۔

چونکہ ہم ایک معاشرتی زندگی میں جی رہے ہیں۔ ہر روز لوگوں سے ملنا جلنا بھی ہوتا ہے۔ لوگوں سے مل کر محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ایک خیالی سوچ پر چلتی ہے۔ جیسا کہ میں چند مثالیں اٹھا کہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ مثلاً ایک پولیس کانسٹیبل جس کی پوری زندگی صرف ایک بات پر اکٹھی ہوتی ہے کہ کبھی پروموشن ملے اور میں بھی بڑا افسر بن جاؤں۔ اس ایک خیال کے پیچھے وہ بھاگتا ہے اور بس اس کی زندگی کے اعتبار سے یہ اس کے لئے سب سے مفید سوچ ہے۔

وہ الگ بات ہے کہ اسے کچھ ملے یا نہ ملے۔ اس طرح دو ٹیکسی ڈرائیور جو کہ ہر انجان شخص کو اپنا سواری سمجھتا ہے اور ایک مرکوز نظر کا مظاہرہ ہر شخص کی طرف کرتا ہے۔ ان میں سے ایک کو کسی دوسرے سے چند روپے زیادہ ملے تو وہ فخریہ انداز سے اپنے ساتھی ڈرائیور کی دو راتوں کا نیند خراب کرتا ہے کہ مجھے اضافی روپے ملے۔ بس اس کے لئے یہی سوچ اس کی زندگی اور حال کا نقشہ کھینچتی ہے۔ اس طرح کے ہزاروں مثالیں ہیں۔ یعنی ہر شخص کے اپنے شعبہ زندگی تک ان کے خیالات اور تصورات محدود ہوتے ہیں۔

بس آپ کو چاہیے کہ اشارہ دیں، تو وہ خود بخود آپ کو اپنی ساری ابتدا سے موجود لمحوں تک کہانی بیان کرتا ہے۔ جیسے آپ کا کوئی سروکار نہیں ہو گا لیکن آپ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ سب سن لو گے یا سننا پڑے گا۔ ہر شخص کے لئے خوشی اور غم کا معیار جدا جدا ہے۔ اگر میں خوشی محسوس کرتا ہوں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ سارا زمانہ خوش ہے۔ اس طرح حالت غم میں اس طرح کا کچھ صورتحال ہوتا ہے۔ اگر زندگی گزارنے کے لئے روٹی، پانی اور کپڑا چاہیے تو پھر ایک فیملی کی کیا ضرورت؟

کوئی شخص مخلص نہیں ہو سکتا، جب تک وہ احساس اور جذبات رکھتا ہوں، کیونکہ ہر کسی کے لئے سب سے پہلے اپنا وجود ہے۔ تو پھر اس بناوٹی رشتوں سے کیا ہمدردی؟ اپنی انا پرستی اور خود غرضی کی وجہ سے لوگ تو لمحوں میں رنگ بدل لیتے ہیں، اس میں اتنی بڑی بات نہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے لوگوں کے خواہشات بھی عجیب لگتے ہیں۔ پتہ ہے ایک باپ اپنے بیٹے سے کفالت کا طلبگار ہوتا ہے۔ بھلا کیا یہ بھی ایک خواہش ہے؟ اس طرح اور بھی بہت سے قریبی لوگ آپ کو اپنی بات منوانے کے لیے قائل کرتے ہوں گے اور ہر طرف سے آپ پہ اپنا حق جتانے کی بھرپور کوشش کریں گے اور بار بار آپ کو یہ یاد دلانے کی کوشش کریں کہ آپ جو ہے وہ ہماری وجہ سے ہے اور آپ کے ہر بات پر لاجواب کرنے کی کوشش کرے نگیں۔ میرا اس زندگی میں اہمیت، میرا وجود قسم سے میرے لئے کچھ بھی نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں اپنے آپ کے لئے نہیں ہوں۔ ہر کوئی اپنا حق مجھ پر ظاہر کرنا چاہتا ہے۔

میں کون ہوں؟ میں کیا چاہتا ہوں؟ مجال ہے کہ کسی کو پرواہ بھی ہو۔ لوگوں کو تو پرواہ ان عوامل کی ہے۔ جس کو لوگوں نے مجھ سے وابستہ کیے ہیں۔ یہ باتیں ہر پڑھنے والے نے سنی ہوگی کہ ہمیں آپ پر مکمل بھروسا اور اعتماد ہے۔ اک لمحہ کے لئے سوچے تو وہ آپ کی قابلیت کی تعریف نہیں بلکہ اپنی انا اور خود غرضی کا عملی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یار! میں، میں ہوں۔ مجھے سونا ہے تو سونا ہے۔ مجھے جاگنا ہے تو جاگنا ہے۔ مجھے معاف کر دیا جائے۔

Latest posts by خان وزیر اورک زئی (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments