پلاسٹک کے پیڑ اور پہاڑ


ہم کراچی کے ایک مضافاتی علاقے ماڑیپور میں بستے ہیں۔ آج کوچ میں گھر سے دفتر آتے ہوئے راستے میں سڑک کے کنارے ایک سوکھے سڑے پیڑ پر نظر پڑی کہ اس پر نہ تو پتے نظر آرہے تھے نہ ہی پھل پھول البتہ کوئی دو تین درجن رنگ برنگے پلاسٹک بیگز ان کی بجائے اس پیڑ کی خشک اور کھردری شاخوں سے لپٹے، لٹکے اور لہراتے بلکہ لہلہاتے نظر آئے۔ ہم نے تو اس پیڑ کو پلاسٹک بیگز کا ہی پیڑ قرار دے دیا، لیکن یہ اور بات ہے کہ اس قرارداد نے ہمیں بے قرار ہی کر ڈالا! یوں بھی وطن عزیز میں اکثر قرار دادیں صرف بے قراری کا ہی باعث بنتی آئی ہیں۔ عمل کا فقدان ہی رہا۔ مثال کے طور پر قرارداد لاہور یا پھر کچھ ”بامقصد قراردادیں“ جیسا کہ قرارداد مقاصد وغیرہ۔

اس کے بعد جو ہم نے غور کیا تو زیر تعمیر ماڑی پور روڈ پر راستے بھر میں سڑک کنارے زمین پر چھوٹے بڑے کچرے کے ڈھیر نظر آئے جن میں بھی سب سے نمایاں چیز یہی شاپنگ بیگز تھے۔ اور یہ ڈھیر گویا کہ پلاسٹک کے ننھے منے پہاڑ لگ رہے تھے۔ اور ریاضی کے پہاڑوں کے طرح ”مضعف“ ہو رہے ہیں۔ مضعف یعنی ایک دونی دونی۔ دو دونی چار علی ہذا القیاس۔ آسان زبان میں کہیں تو دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔

یوں نہ تھا کہ ہم نے ان پیڑوں اور پہاڑوں پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا لیکن وہ غور طائرانہ تھا جبکہ یہ غور غائرانہ۔ بے بسی کے باوجود قاہرانہ بھی۔ لیکن قہر درویش برجان درویش کی مصداق اپنا ہی خون جلا کر رہ گئے۔

پلاسٹک بیگز اب تو خیر پاکستان کے طول و عرض میں ہی بکھرے نظر آتے ہیں لیکن ایک دور تھا کہ ارض پاکستان کم از کم اس سلسلے میں شاد آباد تھی کہ پلاسٹک بیگز کے عذاب سے محروم تھی۔ اور مختلف اقسام کے کپڑوں، تنکوں اور کاغذی نیز اخباری تھیلیوں اور لفافوں وغیرہ سے کام چلا لیتی تھی۔ اب تو سنا ہے کہ اخباری لفافوں سے چلنے لگیں ہیں۔

شہروں میں کچرا کنڈیوں میں ہر قسم کا کچرا بھرا بکھرا ملتا تھا لیکن یہ 90 سے 99 فی صدی تک قابل تحلیل ہوتا تھا۔ گاؤں دیہاتوں میں اروڑیاں / روڑیاں ہوتی تھیں جو کہ زیادہ تر گوبر وغیرہ پر مشتمل ہوا کرتی تھیں یا پھر کپڑوں کی دھجیوں، کاغذات اور کارڈ بورڈ کے سگریٹوں اور دواؤں کے پیکٹس سے سجی ہوتی تھیں۔ یہاں بھی سب کچھ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی ہی طرح قابل تحلیل ہوتا تھا۔

ہم نے پلاسٹک بیگز کا ذکر سب سے پہلے جناب الطاف شیخ صاحب کے کسی سفرنامے میں پڑھا تھا جس میں انہوں بہ حسرت ویاس شکایت کی تھی۔ ان کی تحریر لفظ بہ لفظ تو یاد نہیں آ رہی لیکن مفہوم کم و بیش اس طرح کا تھا کہ: ”یہاں ( سندھ مراد تھی یا پاکستان یہ بھی یاد نہیں ) تو آپ کچھ لیں تو چیز اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے یہاں تک کہ غیرملکی سیاح جب کوئی ہنر و حرفت کا نمونہ بطور یادگار لیتے ہیں تو وہ بھی اخبار میں لپیٹ کر پکڑا، رخصت کر دیا جاتا ہے، جب کہ مغربی ملکوں میں تو ہر چیز یہاں تک کہ سوئی بھی سلیقہ سے پلاسٹک وغیرہ کے خوبصورت ملفوف میں ڈال کر پیش کی جاتی ہے۔“

پھر ایسا وقت آیا کہ یا تو ان کی دعا قبول ہو گئی یا پھر ملک ترقی کرتا کرتا ”پلاسٹک کے دور“ میں داخل ہو گیا اور پاکستان میں بھی پلاسٹک کے بیگ در آئے اور ملک بھر میں بھاری مینڈیٹ کی طرح چھا گئے۔ اب سوئی تو کیا انسان کو ہی زندہ یا مردہ سموچا پلاسٹک بیگ میں ڈال کر سپلائی کر دیجیے!

ہم نہ تو ماہر ماحولیات ہیں نہ ہی موسمیات کے جان کار۔ بس ایک عام شہری جو کہ ابھی تک سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری نہیں ہوا۔ اور اس پر مستزاد کے شہر اندیشے میں بھی دبلا ہوتا رہتا ہے۔ سو ہم سمجھتے ہیں کہ پلاسٹک بیگز ایک بہت بڑی سہولت ہیں، اور اس مصنوعہ کی صنعت سے ہزاروں شہریوں کا روزگار بھی وابستہ ہے لیکن کیا کوئی بھی سہولت یا روزگار انسانی جان کی فوری یا تاخیر سے ہی سہی یقینی نقصان سے بچنے سے بڑھ کر ہے؟ کیا منشیات اور جوا وغیرہ سے بھی ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ نہیں ہوگا؟ تو کیا ان جرائم کا بھی سدباب نہ کیا جائے؟

پلاسٹک بیگ کا معاملہ پاکستان میں کچھ اسی طرح کا ہے جیسا کہ ناجائز تجاوزات اور تجاویز؛ کہ پہلے تو انہیں قائم ہونے دیا جاتا ہے اور پھر ان کو ہٹانے کے لیے آپریشن کیے جاتا ہے اور اس کے بعد پھر ان تجاوزات کو بار بار قائم ہونے دیا جاتا ہے اور یہ شیطانی چکر جاری ہے اور شاید جاری رہے۔

یا پھر کوئی لیڈر یا کمیٹی کہ بنائی جاتی ہے اور پھر ڈھائی مٹائی جاتی ہے۔ ”ہم تیرے چراغ ہیں جلائے جا بجھائے جا!“

ہم سمجھتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ پلاسٹک بیگز کا متبادل ممکن ہے بلکہ متبادل روزگار بھی ناممکن نہیں۔ کیوں کہ دنیا میں کہیں ایک سو اٹھائیس ملکوں نے ان بیگز پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور ان میں سے کئی اس کے ارزاں و گراں متبادل کے ساتھ اس پابندی پر عمل پیرا بھی ہیں۔ اور اس عمل کے اچھے نتائج بھی حاصل کر رہے ہیں۔ تو ہم کیوں نہیں؟

اس سلسلے میں اگر ضرورت ہے تو عقل سلیم اور عزم صمیم کی۔ اگر یہ دونوں چیزیں نایاب یا کم یاب نہیں ہیں تو یہ سب کچھ مرحلہ وار کیا جانا چاہیے۔ اور یہ سوچ ہونی چاہیے کہ اس مسئلے کے کبھی نہ ختم ہونے سے بہتر ہے کہ یہ مسئلہ مرحلہ وار تین چار یا پانچ خواہ دس سال میں ختم کیا جائے۔

اور یوں نہ صرف پلاسٹک بیگز کا مرحلہ وار خاتمہ ہو سکے بلکہ اس کا متبادل بھی بازار میں آ جائے اور لوگ بیروزگار بھی نہ ہوں۔ بصورت دیگر آئندہ انہی تین چار یا پانچ خواہ دس سالوں ان پلاسٹک بیگز کا مسئلہ اتنا بھی دشوار ہو سکتا ہے ہنگامی اقدامات کے باوجود کچھ بھی حاصل نہ ہو سکے گا۔ اور وطن عزیز میں ہرطرف پلاسٹک کے پیڑوں کے جنگل بیلے اور پہاڑ ٹیلے کھڑے نظر آئیں۔

Facebook Comments HS