صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے کارکنوں پر تشدد کا رجحان
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ مگر انسان باہمی بھائی چارے کے درس کو بھلا کر باہمی تعصب کو پالنے والا بن چکا ہے۔ ”تشدد“ محض چار حروف سے مل کر بننے والا ایسا لفظ ہے جس کی وسعت میں نظام کائنات کی نا خوشگواری اور انتشار سمٹ آتا ہے۔ تشدد کے مفہوم کی اگر ہم بات کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ شدت پسندی سے منسلک ہر چیز کو تشدد کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے۔ تشدد بنیادی طور پر، کسی کے ناروا سلوک، ظالمانہ اور درند گانہ رویے کو کہتے ہیں۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ ہم جب بھی تشدد کی بات کرتے ہیں ہمارے سامنے انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے جو تشدد پسندی کا دعوی دار ہے۔ ہمارے بزرگ پنجابی میں کہتے تھے،
” پتر کلا تے رکھ وی بھیڑا لگدا اے“
مطلب یہ کہ، اکیلا تو درخت بھی کہیں پر ہو اور اس کے آس پاس کوئی اور درخت نہ تو وہ برا لگتا ہے انسان تو پھر انسان ہے۔ مگر اب صورت حال اس کے بر عکس ہے۔ اب ایک انسان کا سب سے بڑا ڈر دوسرا انسان ہے۔ ایک شاعر نے کہا تھا:۔
”کسی درخت کو جنگل میں ڈر نہیں لگتا
یہ آدمی ہے جو خدشات کا بنا ہوا ہے ”
ہم آئے روز اخبارات میں، سوشل میڈیا اور نیوز چینلز پر ایسے بہت سے تشدد کے کیسز سنتے اور دیکھتے ہیں کہ انسانیت کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ ان کیسز میں اکثر و بیشتر ہسپتال کے عملے پر تشدد کے متعلق وڈیوز اور تصاویر سامنے آتی ہیں۔ کبھی مریض کے لواحقین ڈاکٹر حضرات کو گالی دیتے نظر آتے ہیں تو کبھی ہسپتال کے باقی محافظ عملے سے بدتمیزی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اگر بات میڈیکل سٹاف کی ڈیوٹی کی کریں تو ایک عام فہم بندہ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ان کو کس جرم کی پاداش میں یہ سزا دی جا رہی ہے۔ یورپ میں ڈاکٹر حضرات نے ایک ہفتے میں 42 گھنٹے کام کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس ہمارے ملک میں، ایک ڈاکٹر کو ایک ہفتے میں 80 گھنٹے اور ایک میڈیکل افسر کو 36 گھنٹے نہ صرف کام کرنے کا کہا جاتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اوور ٹائم لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ڈیوٹی کے ایسے اوقات سے ان کی ازدواجی اور عائلی زندگی بھی بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح سے متاثر ہو رہی ہوتی ہے۔ ڈاکٹرز اور انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ کوئی بھی آنے والی حکومت اس طرف توجہ دینا بھی گوارا نہیں کرتی۔ ایک شاعر نے حکومت وقت کی اس بے حسی کا نقشہ کچھ یوں کھینچا:۔
”کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے ”
یہاں پر ایک اور بات قابل توجہ ہے کہ میڈیکل سٹاف اور زندگی بچانے والے محافظین میں صرف ہسپتالوں کا عملہ ہی نہیں آتا بلکہ ایمبولینس اور 1122 کے ملازمین بھی شامل ہوتے ہیں۔ 1122 ملک پاکستان کی ایک بہترین ایمرجنسی سروس ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم لوگ اتنے بے حس ہیں اکثر جھوٹی کالز 1122 پر کرتے ہیں جس کہ وجہ سے کسی اور جگہ پر موجود، کوئی سیرس مریض زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ کیوں کہ متعلقہ علاقہ میں اس وقت کوئی ایمرجنسی وین موجود نہیں ہوتی۔
میڈیکل عملے کے لئے ہر مریض اہم ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک، امیر غریب، چھوٹے بڑے، مسلم غیر مسلم اور کالے گورے کی تمیز نہیں ہوتی۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہسپتالوں میں میڈیکل اسٹاف میں اقلیتی عملہ بھی شامل ہوتے ہے۔ ایک عیسائی ڈاکٹر اور نرس بغیر کسی مذہبی تفریق کے نہ جانے کتنے ہی مسلمان مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک سب سے بڑا مذہب انسانیت اور سب سے بڑا درس انسانیت کی خدمت ہی ہے۔ اسی طرح مسلمان ڈاکٹرز اور نرسیں بھی ہسپتالوں میں آنے والے غیر مذہبی مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوتے ہیں۔ میرے نزدیک تو مساجد سے زیادہ بھائی چارے اور مساوات کا درس ہمیں ہسپتالوں میں ملتا ہے۔
بعض اوقات تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ میڈیکل عملے کو اپنا سیاسی اثر و رسوخ دکھایا جاتا ہے اور انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ہر بندے کا کوئی نہ کوئی رشتے دار کہیں ملازم ہوتا ہے یا کسی سیاسی پارٹی کا کارکن ہوتا ہے تو وہ اس چیز کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے میڈیکل عملے پر تشدد کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ہسپتالوں میں میڈیکل عملے کی ہڑتالیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی ہٹ دھرمی ہے جو یہ ہڑتال کر رہے ہیں۔ حالاں کہ دیکھا جائے تو اس میں سارا قصور تو ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے تشدد کے ذریعے انہیں ہڑتال پر مجبور کرتے ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی مریض انہی ہڑتالوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ مگر ہماری بے حسی کے ہم ہڑتال کی اصل وجوہات کا سد باب کرنے کی بجائے الٹا میڈیا ٹرائل چلا کر سارے نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر میڈیکل اسٹاف کو اس کا ذمہ وار ٹھہراتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔
آج کل کرونا کی وبا کا مسئلہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ یہ ایک ایسی وبا ہے جس نے بغیر حدود و قیود کی تفریق کئیے، بغیر نسلوں، رنگوں اور مذاہب میں تفریق کئیے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک بھی اس وبا کی زد میں ہیں۔ ویکسین کے تجربے کا عمل مراحل میں ہے۔ ہر انسان اس سے متاثر ہو رہا ہے۔ مگر انسانوں کا ایک ایسا طبقہ ہے جو اس وبا سے باقی انسانوں کی نسبت زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ یہ طبقہ، صحت کے محافظ اور سہولیات فراہم کرنے والے عملے کا ہے۔
مریض بے شمار جراثیم لے ہسپتال میں آتے ہیں۔ کرونا کے مریض تو انتہائی تشویش ناک اور مہلک جراثیم لے کر ہسپتالوں میں آتے ہیں۔ جہاں گھر والے بھی ان مریضوں سے اجتناب کر رہے ہوتے ہیں وہاں یہی طبقہ ہی باقی رہ جاتا جو ہر لمحے ان کی دیکھ بھال میں لگا رہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی میڈیکل اسٹاف کے کارکنان لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اگر یہ طبقہ بھی اپنے ہاتھ پیچھے ہٹا لے تو ایک دن میں لاکھوں لوگ اس وبا کی نذر ہو کر موت کی گود میں سو جائیں۔ ہمیں اس طبقے پر تشدد کرنے کی بجائے ان کی محنتوں اور جراءت مندانہ کاوشوں کو سراہنا چاہیے۔


