انتہا پسندی کے اسباب اور سدباب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انتہا پسندی دور حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انتہا پسندی کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ ”کوئی بھی نظریہ یا عمل جو کسی دوسرے کے لئے تکلیف کا سبب بن جائے“

انتہا پسندی کسی بھی قسم کی ہو، اس کی جڑیں ہمارے اپنے گھر سے پیدا ہوتی ہیں۔ ہمارا عمومی رویہ یہی ہے کہ کسی بھی معاملے میں یا تو ہم بہت زیادہ مثبت ہو جاتے ہیں یا بہت زیادہ منفی، ہماری اولاد کے ساتھ ہمارا برتاؤ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کچھ والدین اپنی اولاد کو اس حد تک آزادی دے دیتے ہیں کہ اپنے فرائض بھی بھول جاتے ہیں اور کچھ والدین اپنی اولاد کی آزادی ایسے سلب کرلیتے ہیں کہ وہ اپنی تعلیم یا اپنا کوئی خواب بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا پاتے۔

واضح رہے کہ یہاں آزادی سے مراد ذہنی آزادی ہے۔ زیادہ تر کیسز میں ہم مؤخر الذکر رویہ ہی اپناتے ہیں اور یہیں سے اصل مسائل شروع ہوتے ہیں۔ ہم ایک فرد کے طور پر ان کی آزادی چھین لیتے ہیں اور انہیں اس بات پہ مجبور کرتے ہیں کہ وہ ویسا ہی سوچیں جیسا ہم چاہتے ہیں اور وہی سب کچھ کریں جو ہمیں ٹھیک لگتا ہے۔ ان پر مذہب اس حد تک تھوپ دیا جاتا ہے کہ انہیں اسلامی تعلیمات زنجیریں نظر آتی ہیں اور مذہب ایک ایسا پنجرہ جس میں صرف اتنی سی آکسیجن مہیا کی جاتی ہے جس سے سانسوں کا تسلسل جاری رہے اور اس پنجرے میں بند وہ محض پھڑپھڑا سکتے ہیں لیکن اس میں تازہ ہوا کا حصول کسی طور ممکن نہیں۔

اس شدت پسندی کی ایک وجہ بدلتی ہوئی سوچ اور حالات کو قبول نہ کرنا اور خود کو اس کے مطابق نہ ڈھالنا بھی ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں بچے نئے جہان کھوجنے کی جستجو میں ہیں وہیں ہمارے کچھ بڑے اس نئی دنیا کو ماننے پر ہی تیار نہیں ہیں۔ انہیں آج بھی یہ لگتا ہے کہ بچوں کو انہی ڈھکوسلوں سے بہلا سکتے ہیں لیکن آج کے دور کا بچہ عقیدت کا چورن نہیں کھاتا، اسے کسی بھی بات کو ماننے کے لیے ٹھوس دلائل چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً پچاس فیصد نوجوان گھر میں تو رہتے ہیں لیکن وہ گھر والوں کے ساتھ نہیں ہوتے۔

اس میں کسی حد تک قصور بچوں کا بھی ہے جو بڑوں کا نظریہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ شدت پسندی دونوں طرف سے ہے اگر بڑے بچوں کے لیول پہ جا کے نہیں سمجھتے تو بچے بھی بڑوں کی بات سننے کو تیار نہیں۔ لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس انتہا پسندی میں زیادہ حصہ بڑوں کا ہے۔ یہ سرد خانہ جنگی پھر غصے، ضد اور تعصب کو جنم دیتی ہے جو بعد میں ہمارا مزاج بن جاتا ہے اور ہم اپنے سماجی تعلقات میں بھی یہی رویہ اپناتے ہیں۔

انتہا پسندی کا جو بیج ہمارے گھر میں بویا جاتا ہے اس کا پھل اس صورت میں ملتا ہے کہ ہم کسی کی بھی بات نہیں سن سکتے اور اگر کوئی ہماری رائے سے اختلاف کرے تو اسے ہم انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔

مذہبی شدت پسندی تو ہمارے یہاں اس قدر پائی جاتی ہے کہ اس پہ بات کرنا بھی گویا خود کو موت کے منہ میں دھکیلنا ہے۔ مذہب کے نام پر ہم خون بہا رہے ہیں، اپنوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ اگر کوئی چار دن مسجد میں باجماعت نماز ادا کر لے تو وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ جس کے لئے چاہے کفر کا فتویٰ جاری کر سکتا ہے۔ یہاں میں ان لوگوں کو دوش دینا چاہوں گی جن کی ذمہ داری ہم تک وہ دین پہنچانا تھا جو نبی اکرم صلعم لے کے آئے تھے لیکن وہ لوگ منبر پر بیٹھ کر انتہا پسندی کو ہوا دے رہے ہیں۔

اسلام نے بھائی چارے پر زور دیا اور جنہیں انبیاء کے وارث کہا گیا انہوں نے اسلام کے ماننے والوں کے دل میں اس قدر زہر بھر دیا کہ ایک مسلک کو ماننے والے کسی دوسرے مسلک کے ماننے والوں کے ساتھ نماز تک نہیں پڑھ سکتے۔ ہم نے خطیب الگ کر لیا، امام الگ کر لیا، مسجد الگ کر لی اور پھر اسلامی تعلیمات بھی الگ کر لیں۔ ہمارا مذہب الگ اسلام ہے اور ہمارے ہمسائے کا مذہب ایک دوسرا اسلام ہے۔ یہ انتہا پسندی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم مذہب کے نام پر گردن تو اڑا سکتے ہیں لیکن مذہب کے نام پر معاف نہیں کر سکتے۔

ہم اسلام سے متعلق کسی بھی نقطے پر سوال نہیں اٹھا سکتے کیونکہ انتہا پسندی ہمارے دماغوں میں اس طرح بھر چکی ہے کہ ہم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ قرآن پاک کی اس آیت کو بھی پس پشت ڈال چکے ہیں جہاں غور و فکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ صاف سی بات ہے کہ اگر ہم کسی بھی موضوع کی گہرائی میں اتریں گے اور اس کے متعلق غور و خوض کریں گے تو ذہن میں کوئی نہ کوئی سوال تو پیدا ہوگا لیکن ہمارے یہاں سوال کرنے والے کو ملحد قرار دے کر اسے غور و فکر کرنے کا حکم دینے والے کے پاس پہنچا کر غازی کا تاج سر پہ سجا لیا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم مذہب کو سر پہ اٹھائے گھوم رہے ہیں جبکہ ہمیں اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا چاہیے۔

کچھ انتہا پسندی ذات پات کے فرق کی وجہ سے بھی ہے۔ جن ذاتوں کو اس لئے بنایا گیا تھا کہ ہر کسی کی الگ پہچان کا ذریعہ بنیں، انہیں ہم نے چھوٹی بڑی ذاتوں میں تقسیم کر کے عزت کا معیار بنا لیا۔ بات پھر وہیں پہ آ کے رکتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی کہ انتہا پسندی کسی بھی قسم کی ہو اس کی ابتداء گھر سے ہی ہوتی ہے اور سدباب بھی گھر سے ہوگا۔

مندرجہ ذیل کچھ نکات پر عمل کرنے سے انتہا پسندی کو کسی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے۔

* تحمل کو اپنے مزاج کا حصہ بنانا ہوگا تا کہ ہم اپنے علاوہ کسی اور کی بات بھی سن سکیں اور برداشت کر سکیں۔

* والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اتنی ہی آزادی دیں جس میں وہ اپنی اقدار نہ بھولیں۔

* علماء کرام اور پھر والدین کو بچوں پر اسلام تھوپنے کی بجائے انہیں اسلام کی اصل روح سے روشناس کروانا ہوگا۔

* ”ہمارے زمانے میں تو ایسا ہوتا تھا“ کہنے اور سوچنے کی بجائے آج کے دور میں بچے کی ذہنی اور نفسیاتی ضرورتیں کیا ہیں؟ اس پر غور کرنا ہوگا۔

* بچے کو صرف یہ سکھانا ہوگا کہ اسے کیسے سوچنا چاہیے۔ کیا سوچنا ہے؟ یہ بچے پہ چھوڑنا ہوگا۔

* گھر کا ماحول اس حد تک دوستانہ رکھنا ہوگا کہ اگر بچہ کسی نقطے پر الجھن کا شکار ہے تو وہ بلا جھجک والدین سے رجوع کر سکے۔

*بچوں کی تربیت اس نہج پر کرنی ہوگی کہ وہ انسانیت کو کسی بھی دوسرے نظریے سے مقدم جانیں۔

* نوجوانوں اور بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ اگر کوئی آپ کے نظریے یا رائے سے اختلاف کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ آپ کو غلط کہہ رہا ہے۔ بس وہ آپ سے تھوڑا مختلف سوچتا ہے اور اپنا ایک نظریہ رکھتا ہے۔ لیکن یہ سب بچوں کو سکھانے سے پہلے بڑوں کو خود سیکھنا ہوگا کہ اختلاف رائے ہی گفتگو کا اصل حسن ہے۔ اگر دنیا میں موجود سب انسان آپ کی طرح سوچنے لگیں تو یکسانیت سی پیدا ہو جائے گی۔

*بچوں کو سکھانے سے پہلے بڑوں کو اپنی سوچ کا دائرہ اس قدر وسیع کرنا ہوگا جس میں کسی بھی نظریے کو ماننے والے کی عزت کرنے کی گنجائش موجود رہے۔

اگر ان نکات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کی جائے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کچھ ہی عرصے میں ہم انتہا پسندی سے چھٹکارا نہ پا سکیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

کنول رضوان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments