پی ایس ایل 6: پاکستان سپورٹس بورڈ سیزن 6 کے بقیہ میچز کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ کیوں نہیں کر پایا؟
گذشتہ دو روز کے دوران پاکستان سپر لیگ 6 کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں مختلف قیاس آرائیاں زور پکڑتی رہی ہیں اور سیزن 6 کے باقی میچز کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں متضاد خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام گذشتہ کئی روز سے ابوظہبی میں موجود ہیں جہاں وہ امارات کرکٹ بورڈ اور ابوظہبی کی حکومت سے رابطے میں ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ پاکستان سپر لیگ کے مستقبل کے بارے میں بدھ کے روز بھی کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکا اور اس نے فرنچائز مالکان کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ابوظہبی کی حکومت کی جانب سے حتمی جواب کے لیے جمعرات تک انتظار کر لیا جائے اور اگر کوئی مثبت جواب نہیں آتا تو پھر ایونٹ کو ملتوی کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہو گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ یہ لیگ یکم جون سے شروع کر کے اسے ہر حال میں 20 جون کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن عید کی چھٹیوں کے بعد ابوظہبی کی حکومت اور امارات کرکٹ بورڈ سے رابطے اور پھر مثبت جواب ملنے میں تاخیر کی وجہ سے وہ بے یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
اس بے یقینی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لیگ میں شریک ٹیموں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو کووڈ ٹیسٹ کی منفی رپورٹ آنے کے بعد تین روز کے قرنطینہ کے لیے جمعرات کی صبح کراچی اور لاہور کے ہوٹلوں میں چیک ان ہونا تھا لیکن انھیں چیک ان ہونے سے روک دیا گیا تھا۔
سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن غیر ملکی کرکٹرز کو پاکستان آ کر یہاں چارٹرڈ فلائٹس میں شامل ہونا تھا ان میں متعدد کھلاڑی اپنے ملکوں میں ایئرپورٹ پہنچ چکے تھے یا پہنچنے والے تھے کہ انھیں مطلع کیا گیا کہ وہ ابھی پاکستان روانہ نہ ہوں۔
واضح رہے کہ لیگ میں حصہ لینے والی ٹیموں کو 22 مئی کو دو چارٹرڈ فلائٹس سے ابوظہبی روانہ ہونا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پی ایس ایل 6 ملتوی: بائیو سکیور ببل کی مبینہ خلاف ورزیوں پر الزامات اور سوالات
پاکستان سپر لیگ کے بقیہ مقابلے اب کراچی میں جون میں منعقد ہوں گے: پاکستان کرکٹ بورڈ
یکم جون سے پی ایس ایل 6 کے بقیہ میچوں کا آغاز، تمام میچ کراچی میں
غیرملکی کرکٹرز کی ویکسینیشن
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابوظہبی کے حکام سے اس بارے میں بھی تحریری یقین دہانی مانگی ہے کہ پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والے غیر ملکی کرکٹرز کو ویکسینیشن سے مستثنی قرار دیا جائے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں اور آفیشلز کی پاکستان میں ویکسینیشن ہورہی ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کسی غیر ملکی کرکٹر کی ویکسینیشن کی ضمانت کیسے دے سکتا ہے؟
انڈین اور جنوبی افریقی براڈ کاسٹنگ عملے کو ابوظہبی میں داخلے کی اجازت
پاکستان کرکٹ بورڈ جس براڈ کاسٹر کے ذریعے پی ایس ایل میلہ سجانے کا خواہشمند ہے اس کے عملے میں شامل انڈین اور جنوبی افریقی سٹاف ہی اب اس ایونٹ کی راہ میں ایک اور رکاوٹ بن گیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ کووڈ کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے انڈیا اور جنوبی افریقہ سے آنے والے عام مسافروں کو متحدہ عرب امارات میں داخلے کی اجازت نہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ چاہتا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کی کوریج کرنے والی براڈ کاسٹنگ کمپنی کے کریو میں شامل انڈین اور جنوبی افریقہ کے افراد کو اس پابندی سے مستثنی قرار دیا جائے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابوظہبی کی حکومت سے کہا ہے کہ جس طرح لیگ میں حصہ لینے والے کھلاڑی اور کوچنگ سٹاف چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے لاہور اور کراچی سے ابوظہبی پہنچیں گے اسی طرح کوریج کرنے والے براڈ کاسٹر کے دو گروپ بھی جنوبی افریقہ اور انڈیا سے چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے ابوظہبی پہنچیں گے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نہیں چاہتا کہ جنوبی افریقی اور انڈین کریو سٹاف کو ابوظہبی پہنچ کر وہاں داخلے کی اجازت نہ ملے اور بورڈ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے لہذا اس نے ابوظہبی حکومت سے اس بارے میں تحریری یقین دہانی مانگی ہے۔
اب یہ لیگ کب ہو گی؟
پاکستان کرکٹ بورڈ مارچ میں یہ ایونٹ کراچی میں ملتوی ہونے کے بعد اسے یکم سے بیس جون تک کرانا چاہتا تھا کیونکہ اس کے فوراً بعد پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ کے دورے پر جانا ہے لیکن اب دوسری مرتبہ لیگ ملتوی ہونے کی صورت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے اتنا آسان نہیں ہو گا کہ وہ اسے ری شیڈول کرے کیونکہ اس سال اس کا انٹرنیشنل کلینڈر مصروف ہے۔
اکتوبر میں اسے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کھیلنی ہے۔ پھر اکتوبر نومبر میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہو گا اس کے بعد پاکستانی ٹیم بنگلہ دیش جائے گی اور پھر ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان آئے گی۔
اس صورتحال میں ستمبر میں یہ لیگ ممکن ہو سکتی ہے ۔ ستمبر میں پاکستانی ٹیم کو افغانستان کے خلاف صرف محدود اوورز کی سیریز کھیلنی ہے۔
ابوظہبی کا انتخاب کیوں ہوا تھا؟
پاکستان سپر لیگ 6 کا آغاز کراچی میں 20 فروری کو ہوا تھا لیکن چار مارچ کو اسے اس وقت ملتوی کرنا پڑا جب شریک ٹیموں کے چند کھلاڑیوں کے کووڈ ٹیسٹ مثبت آئے تھے، اُس وقت تک لیگ کے 14 میچز کھیلے جا چکے تھے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے چھ فرنچائز ٹیموں کے مالکان کے ساتھ رابطے میں رہنے کے بعد پی ایس ایل کے باقی ماندہ میچوں کو جون میں کراچی میں ہی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن ملک میں کووڈ کی مجموعی خراب صورتحال کے پیش نظر حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ لیگ یہاں منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس یہی ایک راستہ باقی رہتا تھا کہ وہ اس ایونٹ کو متحدہ عرب امارات لے جائے۔
پاکستان سپر لیگ کے مارچ میں ملتوی کیے جانے کے بعد یہ بات یقینی ہو گئی تھی کہ اگر یہ لیگ دوبارہ ہوئی تو اس میں شامل غیرملکی کرکٹرز اپنی بین الاقوامی مصروفیات کے سبب شامل نہیں ہو سکیں گے لہذا پاکستان کرکٹ بورڈ نے گذشتہ ماہ متبادل کھلاڑیوں کا ڈرافٹ تیار کیا تھا جس کے ذریعے نئے غیرملکی کھلاڑیوں کی شمولیت ہوئی تھی۔
لیگ کے جون میں ہونے کی صورت میں جن نئے کھلاڑیوں کو چھ ٹیموں نے اپنے سکواڈ میں شامل کیا تھا ان میں قابل ذکر نام نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل، ویسٹ انڈیز کے آندرے رسل، سری لنکا کے تشارا پریرا، جنوبی افریقہ کے یانیمن ملان اور آسٹریلیا کے عثمان خواجہ تھے۔
بنگلہ دیش کے شکیب الحسن، لٹن داس اور محمود اللہ بھی پی ایس ایل کھیلنے والے تھے لیکن انھوں نے بعد میں یہ کہہ کر دستبرداری اختیار کر لی کہ وہ 31 مئی سے شروع ہونے والی ڈھاکہ پریمیئر لیگ میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔
بائیو سکیور ببل کے لیے غیرملکی کمپنی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے ملتوی شدہ بیس میچوں میں کسی قسم کی سیفٹی بے ضابطگی سے بچنے کے لیے ایک برطانوی کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں کہ وہ ایک مؤثر بائیوسکیور ببل تیار کرے۔
یہ وہی کمپنی ہے جس نے گذشتہ سال دبئی میں کھیلی گئی آئی پی ایل میں بائیو سکیور ببل تیار کیا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے برطانوی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کا مقصد یہی ہے کہ مارچ میں لیگ جس انداز سے ختم ہوئی اس صورتحال سے بچا جائے کیونکہ ان چودہ میچوں کے دوران سیفٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات سامنے آئے تھے جن میں ایک کپتان اور کوچ کا اپنے فرنچائز مالک سے ملنا جو بائیو سکیور ببل کا حصہ نہیں تھے۔
کھلاڑیوں کا ہوٹل میں باہر سے کھانے منگوانا، سالگرہ منانا، فیملیز سے ملاقاتیں کرنا، باہر کے لوگوں کے ساتھ سیلفیاں بنوانا جیسے واقعات شامل ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایس او پیز اور سیفٹی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کے لیے ڈاکٹر فیصل محمود اور ڈاکٹر سلمی عباس پر مشتمل دو رکنی کمیٹی قائم کی تھی۔ اگرچہ اس کمیٹی کی رپورٹ کو منظرعام پر نہیں لایا گیا تاہم کمیٹی نے ایونٹ کے دوران متعدد نوعیت کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی تھی۔
پاکستان سپر لیگ کے اس طرح ملتوی کیے جانے کے پس منظر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر میڈیکل ڈاکٹر سہیل سلیم کا مبینہ استعفی بھی شہ سرخیوں میں رہا جن پر پی ایس ایل کے دوران بائیو سکیور ببل پر عملدرآمد نہ ہونے کی ذمہ داری ڈال دی گئی تھی۔
ڈاکٹر سہیل سلیم ابتدا میں خاموش رہے لیکن بعد میں انھوں نے میڈیا میں آ کر کہا کہ انھوں نے خود استعفی نہیں دیا بلکہ ان سے لیا گیا تھا۔


