کسی غریب کو نہ ہو


کرونا وائرس کی موجودہ لہر تیزی سے پھیل رہی ہے اور آئے روز لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنا شکار بنا رہی ہے۔ بیماری کو روکنے کے لیے سرکار کے پاس واحد حل کرفیو، بندیشیں اور لاک ڈاؤن ہے۔ یہ بندیشیں اور پاں ندیاں کسی صورت اس جان لیوا وائرس کا علاج نہیں لیکن اس کے سوا چارہ بھی نہیں ہے۔ عوام کا ایک بڑا حصہ مزدور پیشہ ہے جو دن کو مزدوری پر فقط اس لیے جاتے ہیں تاکہ ان کے گھر کا آتشدان سلگتا رہے۔ جب ان کو کام نہیں ملے گا تو ان کی ضرویات زندگی پوری نہیں ہوگی اور وہ پریشانیوں میں مبتلا ہو جائیں گے جو ہو رہا ہے۔

بار بار احتیاطی تدابیر کی طرف زور دیا جا رہا ہے لیکن ان کی حالت کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا کہ ان بچاروں کا کیا ہوگا۔ اس وبا میں بھی ایسے لوگ ہیں جو سنی ان سنی کر رہے ہیں اور بے دھڑک گھروں سے بلا ضرورت باہر نکل رہے ہیں اور نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی پریشانی کا سبب بن رہے ہیں۔ نہ اپنا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنے پیاروں کا دھیان ہے۔

بعض لوگوں کا قوت مدافعت مضبوط ہوتا ہے اور ان کو اس بیماری سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ معمولی نزلہ زکام سے زیادہ انہیں یہ بیماری تنگ نہیں کرتی اور وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن بعض لوگوں کو یہ بیماری ایسے لگ جاتی ہے کہ ان کی حالت غیر ہوجاتی ہے۔ زندگی کا دھڑکا لگتا ہے اور معتدد کی زندگی بھی چھن جاتی ہے۔ ڈاکٹر حضرات بار بار احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے کے مشورے دے رہے ہیں تاکہ اس بیماری میں مبتلا ہونے سے بچا جا سکے۔

اب خدا نخواستہ اگر کسی کو یہ بیماری لگ جاتی ہے تو ڈاکٹر مشورہ دیتے ہیں کہ اس فرد کو غذائیت سے بھر پور خوراک لینی چاہیے جس سے جسم میں اس بیماری کے خلاف لڑنے کی طاقت پیدا ہو جائے۔ ڈاکٹروں کی تجویز ہے کہ مریض کو وٹامنز، پروٹیزن، مرغے کا سوپ، فروٹ، بادام، ادراک، گرم پانی، سبزیاں اور پھل کھانے چاہیے۔ جس سے اس کی قوت مدافعت میں اضافہ ہو جائے اور بیماری سے لڑنے کے لیے طاقت پیدا ہو جائے۔ مریض کے لیے الگ روم اور باتھ روم کا انتظام ہونا چاہیے۔ اس کی ہر چیز الگ ہونی چاہیے نہ باتھ روم شیئر ہو اور نہ آئے دن کام آنے والی چیزیں کو گھر کے دوسرے افراد استعمال میں لائے۔

غریب کی ضروریات مشکل سے پوری ہوتی ہیں۔ جیسے تیسے گھر کا انتظام چل جاتا ہے۔ چاول اور سبزی کے سوا دیگر چیزوں کی لذت سے اس کا دہن نا آشنا ہوتا ہے۔ اس کو غذائیت سے بھر پور خوراک کا علم نہیں ہوتا اور نہ اس کی جیب اجازت دیتی ہے کہ وہ بیماری سے بچنے کے لیے یہ چیزیں نوش کریں۔ رہی بات الگ کمرے اور باتھ روم کی، غریبوں کے گھر چھوٹے ہوتے ہیں مشکل سے دو تین کمروں پر مشتمل اور خدا خدا کر کے بڑی مشکلوں اور محنت سے انہوں نے ایک باتھ روم بنایا ہوتا ہے۔

اب ایسے میں اگر کسی غریب کو یہ بیماری لگ جاتی ہے اس کو تو اپنے پورے خاندان کے ساتھ اس میں مبتلا ہونا ہے اور ٹھیک ہونے کے امکانات بھی کم بچتے ہیں۔ اب اس کا واحد حل اور امید اسپتال تھے جہاں ان کا دھیان رکھا جاتا، دوائی دی جاتی، ان کو آکسیجن وغیرہ فراہم کیا جاتا اور ان کی صحت کا خیال رکھا جاتا مگر افسوس کہ اسپتالوں میں بھی دیگر دفاتر کی طرح سفارش، جان پہچان کام آتی ہے۔ جس کی جان پہچان ہے اس کو اسپتال میں جگہ مل سکتی ہے۔

اللہ اس بیماری سے ہر فرد کو محفوظ فرمائے اور جلد سے جلد اپنے خزانوں سے شفا بخشے۔ ورنہ اگر اسی تیزی سے یہ پھیلتی رہی تو انسان سسک سسک کر یوں ہی مرتے رہیں گے۔ انسانیت سسکتی رہے گی اور انسان شرمسار ہوتا رہے گا۔ دعا ہے کہ اس عذاب سے ہر فرد محفوظ رہے۔

Facebook Comments HS