این جی او، این جی او کھیلیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھلا ہو فیس بک کا جس نے ہماری ٹائم لائن کی گزشتہ تمام پوسٹ کی یاد دہانی کا سلسلہ بھی شروع کیا ہوا ہے، صبح صبح ایسے ہی فیس بک کھولی تو گزشتہ سال کی ایک خبر نظر سے گزری ہے کہ جنوبی پنجاب کی تحصیل تونسہ شریف میں خواتین میں غذائیت کی کمی پوری کرنے کے لیے غریب عورتوں میں تین تین زندہ مرغیاں مفت تقسیم کی گئیں کہ اگر خواتین چاہیں تو انہیں ذبح کر کے ان کا گوشت کھائیں یا انہیں گھر کے صحن میں کھلا چھوڑ دیں اور جب وہ انڈے دینے لگیں تو انڈے کھا کر اپنی غذائیت کی کمی کو دور کریں۔

خبر کے ساتھ ایک تصویر بھی شائع ہوئی تھی جس میں این جی او کے اعلیٰ عہدے دار شٹل کاٹ برقع میں ملبوس ایک عورت کو تین مرغیاں دے رہے ہیں۔ غریب عورتوں میں مرغیاں بانٹنا تو قابل تعریف ہے لیکن اس سے اگلی بات چونکا دینے والی ہے کہ تین مرغیوں کی تقسیم پر این جی او کے فی عورت اخراجات ایک لاکھ روپے تھے، یعنی 33 ہزار روپے فی مرغی ڈونرز کو پڑے۔ جب میں نے یہ خبر پڑھی تو اپنے ایک دوست سے اس بارے میں استفسار کیا کہ یہ کیا؟

تو وہ کہنے لگا کہ این جی اوز کے بجٹ اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ این جی اوز کی اکثریت اسی قسم کے سستے اور قابل نمائش پراجیکٹ عطیہ کنندگان سے فنڈز کی منظوری کے بعد فوٹو سیشن تک محدود رہ جاتی ہیں اور عوام میں 500 روپے کی ایک مرغی جیسی اشیاء تقسیم کرتی ہیں، غریب کو مفت میں تین مرغیاں مل جاتی ہیں اور اسی طرح سونے کا انڈا دینے والی مرغیوں کی بدولت مخصوص طبقہ فکر کے احباب کے گلشن کا کاروبار چلتا ہے۔ اس خبر میں تو نہیں بتایا گیا تھا لیکن تین مرغیوں کی خرید کے بعد باقی بچنے والے 99 ہزار پانچ سو روپے فی عورت، اس پراجیکٹ کے بارے میں فائیو اسٹار ہوٹل میں ہونے والی میٹنگز، تربیتی کورس، پبلسٹی، ماہرین کی خدمات، سوشل موبلائیزیشن، ڈاکومنٹیشن، مانیٹرنگ اور انتظامی اخراجات کی مد میں اس خاتون یا صاحب کی جیب میں چلے جاتے ہیں جو کافی تگ و دو اور متعلقہ افسران کی مٹھی گرم کرنے کے بعد مرغیوں کا منصوبہ منظور کروا تا ہے۔

اگر آپ بے روز گار ہیں اور آپ کے تعلقات بھی اوپر تک ہیں تو صرف ایک کام کریں کسی بھی ایسے کرنٹ ایشو کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک این جی او کا نام تجویز کریں جس کی بنا پر مخصوص ادارے یا غیر ملکی عطیہ کنندگان کے مذموم مقاصد کی تکمیل ہوتی ہو۔ اس کے بعد کسی بھی تعلیم یافتہ یا اس فیلڈ میں تجربہ کار فرد کی مدد سے ایک پروپوزل ( مکمل سکیم کا خاکہ) تحریر کروائیں اور لے کر سیدھا اسلام آباد پہنچیں اور فائل کو پہیے لگواتے ہوئے اپنی مرضی کے فنڈز اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کروائیں۔

اس سے اگلا کام اور بھی آسان ہے، آپ چند بے روز گار مرد و خواتین کو تین یا چار ماہ کے لئے معقول معاوضے پر ملازم رکھیں اور جس علاقے میں کام کرنے کا لائسنس آپ کو ملا ہے وہاں کی خواتین یا مردوں کو جمع کر کے ایک وقت کی چائے، سموسہ یا ایک لنچ بکس دے کر روزانہ کی بنیاد پر فوٹو سیشن کروائیں اور یہ جا وہ جا، مجھے این جی اوز کے ساتھ کام کرنے کا کوئی خاص تجربہ تو نہیں لیکن احباب کی سفارش پر ان کی مدد کرنے کا ایک وسیع تجربہ ہے۔

مجھے وہ دن یاد ہیں جب امن کی بھاشا کے نام پر مقامی یونین کونسلز میں تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انتظام کرنے والی این جی او کے افسر میرے پاس تشریف لائے اور ساتھ یہ عندیہ بھی دیا کہ مجھ سے پہلے جو صاحب اس نشست پر برا جمان تھے انہوں نے جاتے جاتے میرے کان میں پھونک ماری تھی کہ عباسی سے بچ کر رہنا یہ بہت چالاک انسان ہے۔ مجھے ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی کہ میں نے کون سی چالاکی کی ماسوائے اس کے کہ پوری یونین کونسل سے جنرل کونسلر جمع کیے اور مقامی ہوٹل میں اس این جی او کی گاڑی روزانہ کی بنیاد پر ان کو لے کر جاتی رہی، جہاں ایک ان پڑھ اور کم تعلیم یافتہ معاشرے کو فرد کو مذہبی انتہا پسندی کو کم کرنے کے طریقے سکھائے گئے۔

تعلیم اور سیاست سے تعلق اور وسیع حلقہ احباب ہونے کی بنا پر مجھے دیہی علاقوں میں کام کرنے والے اکثر این جی اوز سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، کئی مخلص اور اہل دل بھی ملے جو ایک درد مند دل رکھتے ہیں لیکن وسائل اور سفارش نہ ہونے کی وجہ سے اس فیلڈ میں کوئی قابل ذکر نام نہیں کما سکے۔ حال ہی میں خواتین کے حقوق اور تحفظ نسواں کے نام جو اودھم مچایا گیا ہے اس کے پیچھے بھی ایسی نام نہاد این جی اوز کا ہاتھ ہے جن کا کام سوائے پیسہ بٹورنے کے کچھ نہیں ہوتا۔

صرف تعلیم کو ہی لے لیجیے، گزشتہ چند سال سے ہمارے دیہات میں مختلف غیر حکومتی تنظیموں نے نان فارمل سکول کھولنے کے کام کا آغاز کیا تاکہ ان بچوں کو ہنر مند کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی دی جائے جو یا تو کسی سکول میں نہیں جاتے اور یا سکول سے بھگوڑے ہیں۔ اس کام کے لئے میٹرک پاس خواتین اساتذہ رکھی گئیں جنہوں نے اپنے گھرمیں سکول کھول کر اڑوس پڑوس کے ان بچوں کے نام لکھوا دیے جو کسی نہ کسی سکول میں اس سے پہلے جا رہے تھے، جب بھی متعلقہ افسر معائنہ کے لئے تشریف لاتا، ہمسایوں کے بچوں سے کام چلا لیا جاتا، آگے کی بھی سنئے کہ ایسی این جی او ایک دو ماہ کی تنخواہ دینے کے بعد چھ چھ ماہ سکول کھلا رکھواتی ہیں اور چار سے چھ ماہ کی متعلقہ خاتون استاد کی تنخواہ ہڑپ کرنے کے بعد منظر عام سے غائب ہو جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ اگر کوئی بھی این جی او اپنی مقررہ تعداد میں عوام کو جمع نہیں کر سکتی تو ان کو مختلف حیلے بہانوں سے ان اجلاسوں میں بلایا جاتا ہے جن میں لنچ کے ڈبوں، چائے اور بسکٹ کے ساتھ ساتھ کسی اچھے ہوٹل میں دوپہر کے کھانے کے علاوہ ماہانہ وظیفہ بھی دیا جا سکتا ہے۔ فرق بس یہ ہے کہ این جی او کے بانی کے اکاؤنٹ میں کتنی بھاری رقم کا چیک منتقل ہوتا ہے۔ گزشتہ سال یوں ہوا کہ میرے ایک ملنے والے نے ایک ایسی تنظیم کے چند افراد کو میرے پاس بھیج دیا جنہوں نے دیہات کی طالبات میں آگاہی کے سلسلے میں ایک پروگرام ترتیب دیا ہوا تھا اور ان کو جگہ کے ساتھ ساتھ میرے جیسا ایک قربانی کا بکرا بھی درکار تھا تاکہ اوپر بیٹھے افراد کو ایک بہترین فوٹو سیشن کی تصاویر بھیجی جا سکیں، میں نے ان کو تمام اخراجات کا بل بنا کر پانچ ہزار سکہ رائج الوقت کا کہہ دیا کہ شامیانوں، کرسیوں اور سٹیج پر اس سے زیادہ خرچہ آئے گا، دوسرے دن چند اشیاء کم پڑ گئیں تو خاتون نے کہا ہماری میڈم بہت کنجوس ہیں وہ پانچ ہزار سے ایک روپیہ زیادہ نہیں دیں گی اس لئے میں اور آپ مل کر ہزار روپے اپنی جیب سے خرچ کریں گے، لیکن میں نے اپنی معلومات کی خاطر پوچھا تو خاتون نے بتایا کہ یہ این جی او گورنر پنجاب کی ایک خاص رشتہ دار کی ہے جو اپنے اثر و رسوخ سے حکومت سے فنڈ منظور کرواتی ہیں اور اپنے اکاؤنٹ بھر رہی ہیں، ایسے ہی کئی لوگوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو اسلام آباد سے ڈوریاں ہلا کر ہمیشہ اپنی غیر حکومتی تنظیم کے لئے ایک خطیر رقم کا چیک لے کر گھر کا دال دلیہ چلا رہے ہیں۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہود و ہنود کی نظروں میں پاکستان اور اسلامی نظام ازل سے کھٹکتا آ رہا ہے۔ اسلام دشمن تھنک ٹینک کا سب سے بڑا نشانہ ہمارا سماجی اور خاندانی نظام ہے جس میں اخوت و محبت کے ساتھ ساتھ ایثار کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، ہمارا اسلامی معاشرہ جن اقدار پر قائم ہے وہ ہمیشہ اسلام دشمن تنظیموں کو خوف زدہ کرتا ہے، ان عناصر کی بھر پور کوشش ہے کہ ہم اسلامی اور پاکستانی معاشرے کو تعلیم، صحت اور آگاہی کے نام پر ان اقدار سے دور کر دیں۔

اپنے ان مذموم مقاصد کے حصول کے لئے یہ لوگ این جی اوز کا پلیٹ فارم بھی استعمال کر رہے ہیں تا کہ ہمیں اپنی معاشرتی اقدار سے دور کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لئے معاشرے سے لالچی اور خودغرض افراد کا چناؤ کیا جاتا ہے تاکہ وہ ہماری قوم کے اذہان میں امن کی آشا جیسا زہریلا مواد بھر کر ان کو بے کار بنا دیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی محکمہ بہبود آبادی کی افسران اپنے ذاتی مفاد کی بجائے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی این جی اوز کو کام کرنے کی اجازت دیں جو کار خیر کا جذبہ رکھتی ہوں اور مستقبل قریب میں بھی ان کی مانیٹرنگ اور آڈٹ کے لئے ایک سخت لائحہ عمل اپنایا جائے۔

٭٭٭٭٭


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments