کراچی میں ایک اور جوہری بجلی گھر کا افتتاح، ایٹمی توانائی پر اس قدر انحصار کیوں کیا جا رہا ہے؟
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ترجمان کے مطابق یہ جدید ترین نوعیت کا تھرڈ جنریشن نیو کلیئر پاور پلانٹ ہے جو حفاظت کے اعلیٰ ترین انتظامات سے لیس ہے۔ اس میں داخلی اور خارجی تحفظ اور حادثات سے بچاؤ کے علاوہ، بقول ترجمان، ایمرجنسی کی صورت میں تحفظ اور تدارک کی جدید ترین صلاحیتیں شامل ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ پلانٹ کی آپریشنل مدت 60 سال ہے جسے مزید بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس پلانٹ سے صاف توانائی کا حصول ممکن ہو سکے گا۔
"1100 میگاواٹ صاف بجلی پیدا کرنے والا K-2 دور رس ماحولیاتی و معاشی فوائد کا حامل ہے،"
وزیراعظم عمران خان،
کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ 2 کی افتتاحی تقریب سے خطاب۔ pic.twitter.com/YiR1nCvh3t— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 21, 2021
کیا ایٹمی توانائی واقعی صاف ہے؟
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ طبعیات میں نیوکلیئر فزکس کی تدریس سے وابستہ رہنے والے ڈاکٹر اے ایچ نیئر کا کہنا ہے کہ اس بارے میں دو رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اب تک جو آلودگی پھیلی ہے اس کی بنیاد کاربن ہے۔ یہ مضر (یعنی گرین ہاؤس) گیسز کے اخراج سے پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے اوزون کہ تہہ کو نقصان پہنچا اور نتیجے کے طور پر عالمی درجۂ حرارت میں بھی اضافہ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ ایٹم سے حاصل کردہ توانائی میں چوں کہ کاربن کا عمل دخل نہیں ہوتا تو اسے صاف اور ماحول دوست قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن دوسری رائے یہ ہے کہ کسی حادثے کی صورت میں اس سے تابکاری کا اخراج ہو جائے تو اس سے ہونے والے نقصان کے ازالے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس میں رسک بہت زیادہ ہے اور غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔
ایک اور نامور نیوکلیئر فزکس کے استاد اور سرگرم سماجی کارکن پرویز ہودبھائے کا کہنا ہے کہ ایٹمی توانائی سے حاصل کی جانے والی بجلی اتنی بھی صاف نہیں ہے، کیوں کہ اول تو یہ خطرناک ہے، جیسا کہ جاپان کے فوکوشیما ایٹمی بجلی گھر کے حادثے نے ثابت کیا ہے۔
'کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ-2 (K-2) 1100 میگاواٹ' سے ایٹمی ذرائع سے بجلی کی 1400 میگاواٹ پیداوار میں مزید 1100 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا۔ pic.twitter.com/WGmMwQ5PDJ
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 21, 2021
ان کا کہنا ہے کہ غیر معمولی حفاظتی اقدامات کی وجہ سے دنیا میں بجلی کی پیداوار کے جوہری پلانٹس کا استعمال محدود ہو رہا ہے۔
پاکستان نئے ایٹمی بجلی گھر کیوں لگا رہا ہے؟
ڈاکٹر اے ایچ نیئر کے مطابق، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ایک بہت بڑا ادارہ ہے جس میں ہزاروں سائنس دان کام کرتے ہیں جس کا بہت بڑا بجٹ ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے توقعات بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں، جب کہ ملک میں سول اور دفاعی نیوکلئیر پروگرام اب تک ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حکام یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ ایٹمی توانائی کا حصول اب ترک کر دینا چاہیے، کیوں کہ، ان کے خیال میں، دنیا کے بہت سے ممالک مثال کے طور پر چین میں اب بھی اس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
KHI’s largest new K2 nuclear power plant will generate 1100MW of electricity, supplied by NTDC, the electricity distributor, adding to the national grid by the Pakistan Atomic Energy Commission.
KHI will get 550MW, hence reducing load-shedding of commercial & industrial users.
— Syed Aminul Haque (@SyedAminulHaque) May 21, 2021
پرویز ہودبھائے کا مزید کہنا ہے کہ دنیا میں بہت زیادہ حفاظتی انتظامات مطلوب ہونے کی وجہ سے جوہری توانائی کے رحجان میں کمی آ رہی ہے، جب کہ اس کے ساتھ توانائی کے قابل تجدید ذرائع زیادہ سستے ہونے کے باعث جوہری توانائی کی وقعت کم ہوئی ہے۔
’ساحل پر ایٹمی بجلی گھر خطرے سے خالی نہیں‘
ڈاکٹر پرویز ہودبھائے کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 30 سال سے ساحل پر ایٹمی بجلی کے خطرات سے متعلق آواز اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے تو یہ کہا جا رہا تھا کہ کراچی ایٹمی بجلی گھر یعنی ’کینپ ون‘ شہر سے دور ہے لیکن اب تو شہر کی آبادی وہاں تک جا پہنچی ہے۔ وہاں تاب کاری، دہشت گردی یا کوئی ناخوشگوار واقعہ ہونے کی صورت میں کراچی کی آبادی کو کیسے بچایا جا سکے گا؟
'کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ-2 (K-2) 1100 میگاواٹ' جدید حفاظتی نظام سے آراستہ سٹیٹ آف دی آرٹ پلانٹ ہے۔ pic.twitter.com/A8lreLEXkC
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 21, 2021
ادھر ڈاکٹر اے ایچ نیئر کا کہنا ہے کہ حادثے سے ایک سال قبل ہی فوکو شیما ایٹمی بجلی گھر کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارے نے محفوظ ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود وہاں حادثہ ہوا جس کے بعد چھ سال بعد تک جاپان کو اپنے تمام تین درجن سے زائد ایٹمی ری ایکٹرز بند رکھنے پڑے، جب کہ اب بھی وہاں سے تابکاری کے اخراج پر سمندر کو خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ہمارے ہاں اگر کوئی ایسا حادثہ ہوا تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ عالمی معیار کے مطابق، ایٹمی بجلی گھر آبادی سے 15 کلومیٹر دور ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر اے ایچ نیئر کا کہنا تھا کہ کراچی میں آبادی ایٹمی پلانٹ سے 10 کلو میٹر کے فاصلے پر پہنچ چکی ہے، جب کہ فضائی ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ وہاں سے ہوا کارُخ زیادہ تر شہر کراچی ہی کی جانب ہوتا ہے اور تابکاری کے اخراج کی صورت میں یہ کراچی سے ہو کر گزرے گی۔
پاکستان میں کتنے ایٹمی بجلی گھر ہیں؟
پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے زیرِ انتظام پہلے ہی ملک میں پانچ ایٹمی بجلی گھر کام کر رہے جن میں سے ایک نیوکلیئر پاور پلانٹ کراچی میں جب کہ چار ضلع میانوالی میں ’چشمہ‘ کے مقام پر ہیں۔
ملک میں ایٹمی ذرائع سے بجلی کی پیداوار اس وقت تقریباً 1400 میگاواٹ ہے۔
’کینپ ٹو‘ کے اس نئے پاور پلانٹ کے افتتاح کے بعد اب ایٹمی بجلی گھروں کی تعداد چھ ہوجائے گی، جب کہ اس سے بجلی کی پیداوار میں 1100 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا۔
'نیوکلیئر پاور پلانٹ K-3'، 'کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ-2 (K-2)' کے برابر پیداواری صلاحیت کا حامل ہے جو کہ تنصیب کے اختتامی مراحل میں ہے۔ آئندہ سال پیداواری عمل کا آغاز ہو جائے گا۔ pic.twitter.com/6bMWyYdyGl
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 21, 2021
ترجمان کے مطابق آئندہ سال کے آغاز تک اس سے پیداوار متوقع ہے۔


