جینئس بل گیٹس کی مقناطیسی مائکرو چپ
ایک ویڈیو آئی ہے جس میں ستر اسی برس کے ایک نورانی صورت بزرگ دکھائی دیتے ہیں جو برہنہ تن ہیں بجز ایک دھاری دار کچھے کے۔ ان کے دعوے کے مطابق وہ حال ہی میں ویکسین لگوا کر آئے تھے، اپنے بازو پر ایک مقناطیس رکھ رکھ کر دکھا رہے ہیں۔ صرف ایک مقام پر مقناطیس چپکتا ہے اور باباجی فرماتے ہیں کہ یہاں ویکسین لگی تھی۔ دیکھا دیکھی ایسی مزید کئی ویڈیوز بھی آنے لگیں۔ دیکھ کر ہم تو سہم گئے۔
سن رکھا تھا کہ بل گیٹس نے ایک سازش کے تحت ویکسین میں مائکرو چپ لگا دی ہے جو دنیا کی دوسری ذہین ترین اور تیسری خوبصورت ترین قوم کے مردوں کو بانجھ بنا دے گی۔ ایک غیر اہم سی بات یہ بھی تھی جس پر کوئی متفکر نہیں کہ وہ انہیں بل گیٹس کا ذہنی غلام بنا دے گی۔ بہرحال دیکھیں بل گیٹس نے ہمیں غلام بنانے کی کیسی قیمت چکائی ہے کہ ہمیں غلام بنانے کی خاطر اس نے پہلے ساری دنیا کے عوام بشمول امریکی اور یورپی افراد کے اپنے غلام بنا ڈالے۔
ہم بل گیٹس کو ویسے بھی بہت عقلمند سمجھتے تھے۔ ہماری جنریشن میں وہ کمپیوٹر کا سب سے بڑا آئیکون تھا۔ اس کے ایم ایس ڈاس کو پہلے ونڈوز ٹو اور تھری کی صورت میں بدلتے دیکھا اور پھر ونڈوز نائنٹی فائیو کے بعد سے تو اس نے دنیا بدل کر رکھ دی اور اس کا دنیا سے اربوں ڈالر کی صورت میں خوب خراج وصول کیا۔ لیکن ہمارے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کمپیوٹروں کے بعد انسانوں کو بھی پروگرام کرنے لگے گا۔
لیکن ایک بات بہرحال ماننا پڑتی ہے۔ بل گیٹس ہے جینئس۔ سرنج کی باریک سی سوئی سے اتنی بڑی چپ اس نے بابا جی کے اندر ڈال دی جس سے موٹا سا مقناطیس بازو پر چپک جائے۔ شکر ہے کہ یہ مسلز پر لگایا جانے والا ٹیکا ان بابا جی کے بازو پر لگا تھا ورنہ ڈاکٹروں کی دوسری پسندیدہ ترین جگہ پر لگنے کی صورت میں لوگ طرح طرح کے سنگین اور رنگین شبہات کا اظہار کرنے لگتے کہ اتنی بڑی چپ بابا جی کے جسم کے اندر کیسے پہنچائی گئی ہو گی۔ یا عین ممکن ہے کہ بابا جی نے اس معاملے کو پس پشت رکھنا مناسب نہ سمجھا ہو اور مشرقی شرم و حیا کے باعث مائکرو چپ کو مقناطیس کے ذریعے نیچے سے اوپر بازو تک کھینچ کر لے گئے ہوں کہ اصل جائے واردات کی بجائے ادھر مقناطیس چپکا کر دکھانے سے ویڈیو سینسر نہیں ہو گی اور کچھا بھی جسم پر باقی رہ جائے گا۔
خیر بل گیٹس کی عقلمندی پر ہم جتنے ششدر ہیں اس سے کہیں زیادہ ہم انٹیل والوں کی نالائقی پر نوحہ کناں ہیں۔ انٹیل والے اتنے زیادہ نالائق ہیں کہ ان کی دو تین مربع انچ کے کمپیوٹر چپ پر بھی مقناطیس نہیں چپکتا کیونکہ وہ احمق مائکرو چپ کے اندر لوہے کی بجائے سلیکون اور جرمینیم وغیرہ ڈالتے ہیں جن میں مقناطیس کو کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی۔ بل گیٹس کی انجیکشن میں مائع کی صورت میں لگائی جانے والی چپ میں اتنا لوہا ہے کہ بابا جی کے بازو پر چپک جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ ویکسین کسی دیسی حکیم کے شربت فولاد سے بنائی جاتی ہو۔ بہرحال مائکرو چپ کے اندر اتنا باریک اور حساس سرکٹ شربت فولاد قسم کے مائع لوہے سے بنا کر ڈالنا بھی بل گیٹس کے جینئس پنے کی گواہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ شربت فولاد ضرور قرون وسطیٰ کے یورپی نائٹوں کی زرہ بکتر کو پگھلا کر اس سے حاصل کیا گیا ہو گا۔
یہاں رک کر بل گیٹس کی جاسوسی کی صلاحیت کی داد بھی دینا پڑے گی۔ پاکستان میں کہیں اب جا کر آکسفورڈ کی ویکسین لگنا شروع ہوئی ہے۔ اب تک چینی اور روسی ویکسین ہی لگائی جا رہی تھی۔ یعنی بل گیٹس نے عیاری سے چینی اور روسی ویکسین میں بھی اپنی امریکی مائکرو چپ ڈال دی ہے جس کی نہ چین کو خبر ہوئی، نہ روس کو ہوا ملی اور نہ پاکستان کو معلوم ہوا۔
ایک شبہ اور بھی ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بنیان اتارے کچھا پہنے بابا جی اپنی جوانی میں پہلوانی کرتے رہے ہوں۔ مسلسل کسرت سے ان کے ڈولے ایسا لوہا نہ بن گئے ہوں جس سے مقناطیس چپک جاتا ہے۔ یا پھر عین ممکن ہے کہ بابا جی ان صاحبان کمال میں سے ہوں جو سرکس میں کیل اور تلوار نگلنے کا کرتب دکھاتے ہوں اور کوئی کیل بھٹک کر ان کے بازو میں جا چھپی ہو۔ بہرحال خدائے بزرگ و برتر ہی جانتا ہے کہ بابا جی کے ساتھ ہوا کیا اور ان کے جسم میں اتنا لوہا کیسے داخل ہوا کہ اس پر مقناطیس چپک جائے۔ پتہ نہیں یہ بل گیٹس کی حرکت ہے یا کسی پاکستانی کی۔


