دل آنکھ سے کٹ کٹ کے بہے


بجز قلیل خرد مندوں کے، اکثریت نعرہ زن تھی کہ سروں پر عمامے باندھ کر، گھوڑوں پر زینیں کس کے، اور سیاہ جھنڈا لہرا کر اسرائیل کے خلاف جہاد کا نقارہ بجایا جائے، تفکر پہلے بھی ہماری کچھ صفت نہ تھی، اب ترک ڈرامے ارطغرل نے تو جیسے اذہان کے دریچوں کے کھلے کواڑ بھی بند کرنا شروع کر دیے ہیں، تاریخ میں بھلا کب ایسا ہوا تھا کہ ڈرامہ کسی قوم کی نفسیات پر اثر انداز ہوا ہو، تعلیم سے بہرہ ور نہ ہونے والا جذبات کی شراب سے بہت جلد مدہوش ہو جاتا ہے، خون کے بجائے جذباتیت پہلے ہی ہماری رگوں میں دوڑتی تھی اور اب تو جیسے ہر اعضاء جذباتیت کی گواہی دیتا ہے، معاملہ اسرائیل کا ہو یا کشمیر کا جذبات دانش کو مغلوب کر لیتے ہیں، مسائل کے جو ممکنات حل ہو سکتے ہیں وہ ہمیں قبول نہیں ہوتے، ہر مسئلے کو حل ہم اپنی شرائط پر کرنا چاہتے ہیں، یہ بھول جاتے ہیں شرائط رکھنے کی ہماری اوقات ہے نہ بساط، پھر بھی نہ جانے کیوں خوش فہمی کے کنویں میں مینڈک بنے بیٹھے ہیں۔

ارشاد ہوا کہ مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ کے نور سے دیکھ رہا ہوتا ہے اور مومن زمانے سے ہم آہنگ ہوتا ہے، اللہ کے نور سے دیکھنے کا مطلب یہی ہے کہ چیزوں کو گہرائی میں جا کر سمجھا جائے، اسباب کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو واضح کیا جائے، ان معاملات کو بھی حل کیا جائے بظاہر جن کا کوئی حل نہیں، پہلے ہی مرحلے میں اگر فریق ثانی کے لتے لیے جائیں اور دھمکیوں سے مرعوب کرنے کی ناکام کوشش کی جائے جب کہ اپنے غبارے میں ہوا بھی نہ ہو تو معاملات کہاں سلجھتے ہیں، اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ اگر نام کی امت مسلمہ سلجھانا چاہتی ہے تو دانش مندی کو بروئے کار لا کر ہوش مندی سے فیصلے کرنا ہوں گے، کام مشکل ہے، مگر ہر مشکل کے بعد آسانی ہے، ہمیں اپنی کوتاہیوں کا اقرار کرنا ہو گا، صبر کا راستہ اختیار کر نا ہو گا، مگر اس پر راضی کون ہو گا، یہاں کے لیڈران نے عوام کو جذبات کی رو میں بہایا ہوا ہے۔

حضرت یرمیاہ بار بار اسرائیلیوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ ابھی تم اخلاق کی پستی میں ہو، دعوت کی ذمہ داری جو تمھارے کندھوں پر ڈالی گئی تھی اس سے تم نے چشم پوشی کر رہے ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بخت نصر تمھارے مقابلہ میں نہایت طاقتور ہے تم اس کے مقابل ٹھہر نہ سکو گے، حضرت یرمیاہ کی نصیحت بے سود رہی حالاں کہ ان کے بیان میں کچھ نقص بھی نہ تھا، اسرائیلیوں نے یرمیاہ نبی کو قید میں ڈالا اور بخت نصر کے خلاف بغاوت کر دی، پھر بخت نصر کے ہاتھوں کیسے کیسے مصائب نازل ہوئے، تاریخ کی کتابیں کھنگال کر معلوم کیا جا سکتا ہے، حضرت یرمیاہ کے نصائح اگر آج کچھ درد دل رکھنے والے دہراتے ہیں تو ان پر غداری اور ایمان فروشی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

ڈھٹائی اس قدر ہے کہ ہر عمل کو ہم اپنے اعمال نامہ میں درج کروانا چاہتے ہیں، غلغلہ ہے کہ اسرائیل پاکستانی کوششوں سے جنگ بندی پر راضی ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ ہماری کسی کوشش کو کوئی ملک در خور اعتنا ہی نہیں سمجھتا، ثانیاً ہماری کوششیں تھیں کون سی، ثالثاً یہ کوششیں کہاں کی گئیں کہ ہماری عقابی نظروں سے اوجھل رہ گئیں، اگر تو کوششوں سے مراد او آئی سی کے پلیٹ فارم سے بے ڈھنگی تقریریں تھیں تو پھر سر خم تسلیم ہے، میدان کارزار میں جب عمل سے انسان قاصر ہو تو پھر الفاظ سے مخالفوں کو زیر کرنے کی سعی کی جاتی ہے، اور عوام میں اگر شعور کی کمی ہو تو خود مخالفوں کی شکست و ریخت کا خوب چورن بیچا جاتا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ غزہ میں زمین بوس ہوئی عمارتوں سے نصیحت و عبرت حاصل کرتے، مگر ہم تو مصنوعی آنسو بہا کر کندھوں سے بوجھ اتارنے چاہتے تھے، ان بے سہارا ہونے والوں کا دکھ کس نے محسوس کیا اور دکھ بھی ایسا تھا کہ پروین شاکر یاد آئیں

دکھ تو ایسا ہے کہ دل آنکھ سے کٹ کٹ کے بہے
اک وعدہ ہے کہ رونے نہیں دیتا مجھ کو

اس بار بھی جذبات نے ہم کو مغلوب کیا اور ہم رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوئے، حالات کا تقاضا تھا کہ حکمت عملی کو تبدیل کیا جاتا، تقاریر سے فوکس ہٹایا جاتا، ہمارے ہاں تو بادشاہ سلامت سے لے کر خارجہ امور سر انجام دینے والوں تک ہر کوئی انداز بیاں میں ید طولی رکھتا ہے، نہ جانے ہمارے ہاں کوئی ڈیگال کب پیدا ہو گا جو اپنی ذات کو پس پشت ڈال کر ملک و قوم و ملت کے لیے سخت مشکل مگر عظیم فیصلوں کا آغاز کرے گا۔

Facebook Comments HS