لیڈی ڈیانا انٹرویو : بی بی سی کا اپنی ایڈیٹوریل پالیسوں پر ازسر نو غور کرنے کا اعلان

بی بی سی بورڈ نے پرنسس آف ویلز لیڈی ڈیانا کے انٹرویو کے حوالے سے لارڈ ڈائسن کی رپورٹ کے بعد اپنی ادارہ جاتی اور نام نہ ظاہر کرتے ہوئے ادارے کے اندرونی نقائص کی نشاندہی کرنے والے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی نے کہا ہے کہ ادارہ لارڈ ڈائسن کی رپورٹ کو پوری طرح قبول کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لیڈی ڈیانا کا انٹرویو حاصل کرنے کے لیے صحافی مارٹن بشییر نے جس دھوکے اور فریب کا استعمال کیا بی بی سی نے اس کی پردہ پوشی کی تھی۔
یہ بھی پڑھیئے
مارٹن بشیر: ’میرا مقصد شہزادی ڈیانا کو نقصان پہنچانا ہرگز نہ تھا‘
’ڈیانا کی نجی ویڈیوز نشر نہ کی جائیں‘
بی بی سی بورڈ نے ایک بار پھر اپنی معذرت کو دہرایا ہے۔
سنہ 1995 میں مارٹن بشیر کے شہزادی ڈیانا سے کیے گئے انٹرویو پر حال ہی میں ایک انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرویو کے وقت بی بی سی نے اپنی ‘دیانت داری اور شفافیت کے اعلیٰ میعار کو برقرار نہیں رکھا تھا۔’
انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارٹن بشیر نے شہزادی ڈیانا سے انٹرویو کا وقت حاصل کرنے کے لیے ‘دھوکہ دہی’ سے جعلی دستاویزات تیار کیے تھے۔
اس تحقیقاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر 1996 میں بی بی سی کی اپنی اندرونی انکوائری ‘افسوسناک حد تک ناقص اور غیر موثر’ تھی۔
بی بی سی اور مارٹن بشیر دونوں نے اس معاملے پر معذرت کی ہے اور بی بی سی نے شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کو بھی معذرتی خط لکھا ہے۔
ڈیوک آف کیمبرج پرنس ولیم نے کہا ہے کہ مارٹن بشیر کی دھوکہ دہی نے ان کی ماں کی ذہنی کیفیت پر منفی اثر ڈالا جس سے ان کے والدین کے تعلقات متاثر ہوئے۔

