EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پاکستان کو امہ کا رہنما تسلم کر لیا گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سی این این پر گفتگو خود سماعت فرمائی اور اس گفتگو میں تنازع فلسطین کے حوالے سے جو پاکستانی موقف پیش کیا گیا اس پر اپنی رائے قائم کی۔ میں یہ دلچسپ ٹاکرا براہ راست نہ دیکھ سکا لیکن بعد ازاں یو ٹیوب پر دیکھا۔ ایک عام پاکستانی اپنی حکومت سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ فلسطین اور کشمیر کے معاملے پر معذرت خواہانہ سفارت کاری کی جگہ جارحانہ انداز میں حقائق سامنے لائے۔

شاہ محمود قریشی نے یہی کہا۔ شاہ محمود قریشی نے بھوری آنکھوں والی میزبان کے سوال پر بتایا کہ عالمی میڈیا فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کو نشر نہیں کر رہا۔ یہ جو بمباری ’بچوں کے مرنے کی فوٹیج سامنے آئی ہیں یہ مقامی فلسطینی صحافیوں کی انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ہیں۔ انہوں نے اس امتیازی سلوک کی وجہ بتائی کہ اسرائیلی لابی عالمی ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرتی ہے۔ اسرائیل نواز لابی میڈیا میں ڈیپ پاکٹس رکھتی ہے۔

میزبان خاتون کا رنگ اڑ چکا تھا۔ اس نے شاہ محمود قریشی کے تبصرے کو یہود مخالف قرار دیا‘ Anti semeticجذبات کو مغرب میں ایک بڑی منفی سوچ تصور کیا جاتا ہے ’میزبان شاہ محمود کو اسی سوچ کا حامل اور مغرب کا مجرم ثابت کرنا چاہتی تھی۔ شاہ محمود نے ایک سے زائد بار اس کو مختلف پیرائے میں بیان کیا۔ انہوں نے فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کے انسانی حقوق کی بات کی تو میزبان نے پاکستان کے دوست چین میں اویغور مسلمانوں کے خلاف چینی حکومت کے اقدامات کا حوالہ لا رکھا اور اس پر پاکستان کا موقف دریافت کیا۔

شاہ محمود قریشی نے اس موازنے کو نہایت غیر مناسب قرار دیا اور بتایا کہ آزادی کی تحریکوں کو اس طرح کے معاملات سے مماثل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سی این این نے پاکستان کے وزیر خارجہ کو کیوں اتنا اہم سمجھا کہ ترکی‘ تیونس ’ملائشیا‘ انڈونیشیا ’اور ایران جیسے سرگرم ممالک کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں شاہ محمود قریشی کو فلسطین پر مسلم امہ کا موقف پیش کرنے کی دعوت دی۔ اس کی وجہ پاکستان کا وہ قائدانہ کردار ہے جو وہ ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان نے گزشتہ برس کشمیر پر او آئی سی کے کردار پر تنقید کی تھی۔ ستمبر 2018 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کا حوالہ بھی موجود ہے۔ پاکستان‘ ترکی اور ملائشیا نے ایک بلاک بنانے کی کوشش کی جس پر کچھ دوست عرب ممالک نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ’یہاں تک کہ پاکستان کی تجویز پر کوالالمپور میں جو سربراہ اجلاس ہو رہا تھا خود پاکستان نے اس میں شرکت سے معذرت کر لی۔

چند ہفتے قبل وزیر اعظم عمران خان سعودی دعوت پر سعودی عرب گئے۔ یہ اس دورے سے مختلف صورت حال تھی جو اس سے پہلے ہوا۔ اس بار سعودی عرب نے ہر سال 3 ارب ڈالر کا تیل ادھار دینے کے معاہدے میں توسیع کی‘ پاکستان میں بہت سے منصوبوں میں سرمایہ کاری پر آمادگی ظاہر کی۔ سب سے اہم معاملہ یہ ہوا کہ عمران خان پچھلے ڈھائی برس سے سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی کے خاتمہ کے لئے جو کوشش کر رہے ہیں اس پر بات چیت کا آغاز ہو گیا۔

سعودی عرب اور ایران کو احساس ہو رہا ہے کہ وہ اپنے وسائل غلط ترجیحات پر خرچ کر رہے ہیں۔ تیل کی صنعت کو متبادل انرجی سے خطرات ہیں۔ تیل نہ ہو گا تو اس کی بنیاد پر اپنی سکیورٹی ضروریات کو پورا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ آمدن ہمیشہ دوست ممالک کی منڈیوں سے شروع ہوتی ہے، ہمسایہ ممالک سے کاروباری تعلقات کو فروغ دیا جاتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو دوست اور ہمسایہ ممالک کی منڈیوں سے دور کر کے انہیں یورپ اور امریکہ کا دست نگر بنایا گیا۔

واقعات اور معاملات کی کڑیاں بات کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ سعودی عرب کشیدگی پر کیوں آمادہ ہوا اس کا تعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ جو بائیڈن کی پالیسی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کو متنازع بنا رہے تھے، عدم تحفظ کا احساس دلا کر خطے میں اسرائیل کو بڑا خطرہ بنانے کے مشن پر تھے لیکن بائیڈن انتظامیہ ولی عہد کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے رہی ہے۔ خشوگی قتل کو ابھارا جا رہا ہے، ایران نے اچھا کیا جو بے جا ضد نہ کی۔ اس کشیدگی کے خاتمہ سے پاکستان اور امہ کو جو اعتماد ملا اس کا ثبوت یہ ہے کہ او آئی سی کی موجودگی میں چھ سات مسلم ممالک نے فلسطین پر اسرائیلی حملے کے بعد ایک گروپ کی صورت میں کام کیا۔

اسرائیل کے خلاف جارحانہ سفارتی مہم، امریکہ اور دیگر بڑے ممالک کی منافقانہ پالیسی پر کڑی تنقید اور معاشی مشکلات کے باوجود امہ کے باہمی تنازعات کو حل کرانے کے لئے پاکستان کو یہ اعتماد کہاں سے ملا؟ سب سے پہلے عوام کا دباؤ جو فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتے اور آزاد فلسطینی ریاست کو تنازع کا حل سمجھتے ہیں ’اس کے بعد عرب ممالک کا بدلتے حالات میں اپنے کردار اور ترجیحات پر نظرثانی کے لئے آمادہ ہونا‘ تیسرا مسلم دنیا کے مسائل پر بڑے ممالک ’اقوام متحدہ اور یورپی یونین کا دوہرا معیار‘ سب سے اہم بات یہ کہ پاکستان کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے امریکہ اور مغربی ممالک کے مقابلے میں چین کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے جسے وہ بیلنس آف پاور کے لئے بروئے کار لا رہا ہے۔

یہ اس بیلنس آف پاور کا کمال ہے کہ فلسطین جیسے اہم تنازع پر حالیہ دنوں پاکستان مسلم دنیا کی نمائندہ آواز بن کر ابھرا ہے۔ ہمارے ہاں کامیابیوں کو سیاسی تعصبات کی نذر کرنے کا رواج ہے اس لئے اس معاملے پر ذرائع ابلاغ کی نمایاں آوازیں خاموش ہیں۔ یہ لوگ اس اہم پیشرفت پر جانے کیوں بات نہیں کرنا چاہتے کہ جس نے امریکہ کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ ”ہم زیادہ دیر اسرائیل کی کارستانیوں کا دفاع نہیں کر سکتے“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے