علامہ اقبالؒ کے بارے میں بی بی سی کا شائع کردہ ایک مضمون

بی بی سی لندن کی طرف سے ظفر سید کا لکھا ہوا علامہ اقبال کے حوالے سے ایک مضمون ”علامہ اقبالؒ اور ایما کا تعلق عشق یا سادگی کی انتہا“ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔

میں اس سے قبل اس من گھڑت مضمون کا مفصل جواب بی بی سی کو دے چکا ہوں، البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ”ایما“ کے اوریجنل خطوط کسی کے پاس موجود نہیں ہیں اور نہ ہی یہ خطوط کہیں محفوظ ہیں، ذاتی اور غیر ضروری نوعیت کے خطوط/کاغذات اقبالؒ نے اپنی زندگی میں ہی تلف کر دیے تھے اور پھر کچھ 1950ء کی دہائی میں ضائع ہو گئے تھے اس وقت فوٹو کاپی مشین دنیا میں موجود ہی نہیں تھی کہ ان کو کاپی کروایا جا سکتا فوٹو کاپی مشین لگ بھگ 1971 میں آئی ہے۔ 1977 ء کے بعد تقریباً 1980 ء کی دہائی میں عین اس وقت جب جرمنی میں ہٹلر کی ڈائری ”Hitler۔ agebücher“ West German news magazine ”Stern“ نے 3.7 ملین ڈالر کے عوض خرید کر شائع کر دی جس میں ہٹلر کی نجی زندگی کے متعلق بہت کچھ لکھا گیا تھا اور اس سے میگزین نے خوب کمایا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ساری ڈائری جعلی اور من گھڑت تھی محض پیسے کمانے کی غرض سے اسے گھڑا گیا تھا۔ اسی دوران اقبالؒ اور ایما کے قصے میں رنگ بھر کر لندن سے دو معزز صاحبان نے شائع کیا اور اس کے بعد اقبال کی ہر سوانح کا جزو بنتا رہا۔ ہم اقبالیات کے طالب علموں کو خوشی ہو گئی کہ ایما کے اوریجنل خطوط منظر عام پر آئیں جن کو بنیاد بنا کر یہ افسانہ تراشا گیا ہے۔

بی بی سی کے ظفر سعید نے اپنے مضمون کے آخر میں اقبالؒ کی جن نظموں کو ”ایما“ سے منسوب کیا ہے ان کا ایما سے کوئی تعلق نہیں ہے خاص کر بانگ درا میں شامل نظم ”۔ کی گود میں بلی دیکھ“ کو انھوں نے کہا کہ یہ ایما کی یاد میں لکھی گئی ہے میں ان کی معلومات کی خاطر بتاتا چلوں کہ یہ نظم ایک دفعہ بمبا دلیپ سنگھ (مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پوتی) نے شالامار باغ میں چائے کا انتظام کیا اور اس میں چند معزز مہمانوں کو مدعو کیا گیا، اس کی آسٹیرین سہیلی کے علاوہ ایک یورپین خاتون بھی وہاں مدعو تھی۔ ایک نے اقبال کی خدمت میں باغ کا ایک پھول پیش کیا دوسری نے ایک خوبصورت بلی پال رکھی تھی جو اس کی گود میں بیٹھی تھی۔

علامہ کی کتاب بانگ درا کی دو نظمیں ”پھول کا تحفہ عطا ہونے پر“ اور ”کسی کی گود میں بلی دیکھ کر“ اسی موقع کی یاد میں لکھی گئی تھیں۔ پھر ظفر سید کی تحقیقی ناپختگی کا یہ عالم ہے کہ اقبالؒ کی غزل ”تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں“ کو ”ایما“ کی یاد سے منسوب کیا ہے حالانکہ یہ غزل جنوری 1904 ءمیں پہلی بار شائع ہوئی تھی جب اقبالؒ کو ایماء کا خواب و خیال ہی نہیں تھا۔ کیونکہ اقبالؒ 20 جولائی 1907 کو پہلی بار جرمنی پہنچے تھے۔ دراصل ظفر سید نے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے مضمون ”آخر مل گیا وہ گل مجھے“ مشمولہ :علامہ اقبالؒ شخصیت اور فن ”کا چربہ نکالا ہے اور ہاشمی صاحب نے ڈاکٹر سعید اختر درانی کی کتاب“ نوادر اقبالؒ یورپ میں ”سے استفادہ کیا ہے جس میں بہت سے مغالطے ہیں اور اسے معتبر تحقیقی حوالے کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ کیونکہ درانی صاحب نے اس سٹوری کی بنیاد ایما کے خطوط پر کھڑی کی ہے اور اوریجنل خطوط کسی کے پاس نہیں ہیں۔

دوسرا ”ایما“ اقبال کی استاد تھیں اور اقبالؒ جس تہذیب سے تعلق رکھتے تھے اس تہذیب میں استاد کا بڑا مقام و مرتبہ ہے، میر حسن، آرنلڈ، مائیک ٹیگریٹ اور دیگر اساتذہ سے اقبالؒ کی گہری وابستگی رہی اس لیے اس طرح کی کہانی گھڑنا بے سود ہے۔

بی بی سی کا وتیرہ رہا ہے کہ وہ جب بھی اقبالؒ کے حوالے سے کوئی خاص موقع ہوتا ہے وہ یہ مضمون چلا دیتے ہیں جس میں حقائق اور واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے حالانکہ ایسے موقعوں پر اقبال کے فکرو فلسفے کے کئی دیگر مباحث کو بھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words