مرد مجاہد اور قافلہ سالار! مفتی محفوظ الرحمان عثمانی


وبائی ماہ و سال میں اس فانی سے دنیا سے رخصت ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد ایسے عظیم اور باکمال افراد کی ہے جن کی زندگی عوامی خدمات کے لئے وقف ہوتی ہیں۔ جن کا شب وروز انسانیت کی سربلندی کے لئے صرف ہوتا تھا۔ جن کے ہونے سے چمن میں رونق تھی۔ مگر اب ایک ویرانی سی ویرانی ہے۔ سال دو سال سے لوگ باگ دنیا کے نارمل ہونے کی دعا کر رہے ہیں۔ مگر وبا کی ہلاکت خیزی کے سبب رفتہ رفتہ بدحواسی و سراسیمگی کے سایہ ہیں کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

ایک حشر برپا ہے جس میں اہل کمال اور ہنرمند شخصیات سرعت کے ساتھ اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرب قیامت کا لمحہ آن آپہونچا ہے۔ ہماری دعائیں معلق ہے۔ رب کی رضا کے آگے بھلا حقیر و بے بضاعت انسان کا کیا۔ انسانی دنیا پہ غم کا جو پہاڑ ٹوٹا ہے وہ قیامت صغری سے کم نہیں ہے۔ موت کے علاوہ زندہ رہ پانے کی جدوجہد اور مختلف شعبۂ حیات سے وابستہ افراد، طلبہ اور مزدوروں کو اپنے وجود و بقا کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ ہرلمح روح فرسا خبریں اور جس تواتر سے موتیں ہو رہی ہیں وہ معمول کے برخلاف ہے۔ لہذا انسان کا گھبرانا فطری ہے۔ خداکرے جنازہ، پرسہ اور تعزیت کا یہ ہولناکی موقف ہو جائے۔ دنیا کے لئے بے شمار معصوموں کی دعا شرف قبولیت کو پہونچے اور نارمل حالات لوٹ آئے۔

مرگ انبوہ میں ہم نے جن لعل وگہر کو کھودیا ہے جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ان میں ہندوستان کے مشہور عالم دین اور جامعتہ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول کے بانی و مہتمم مفتی محفوظ الرحمن عثمانی بھی ہیں جن کا تیئیس مئی دو ہزار اکیس کو بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا ہے۔ سانس لینے میں پریشانی کی وجہ سے پچھلے کئی دنوں سے مرحوم وہاں زیر علاج تھے۔ ان کا انتقال پرملال عموماً ملک و ملت اور خصوصاً خطہ سیمانچل کے لئے عظیم خسارہ ہے۔

مفتی صاحب نے اپنی زندگی کے کل اکسٹھ بہاریں دیکھی ان کا شمار ملک کے صف اول کے ملی و سماجی رہنماؤں میں تھا۔ اس نے ملک و ملت اور سماج کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ وہ دینی حمیت کے جذبہ سے سرشار اور خدمت خلق کے جذبہ سے لیبریز تھے۔ سیمانچل کے سپول اور اطراف میں بلاتفریق مذہب وملت اس نے لوگوں کی ہر موقع پر مدد کی اور زندگی سے مایوس عوام کو زندگی جینے کا حوصلہ دیا۔ جامعتہ القاسم کا قیام، اس کی تعمیر و توسیع اور انتظام ان کے جہدمسلسل اور حسن کاکردگی کی مثال ہے۔ اسی طرح بھارت میں ناموس رسالت کا احترام اور تحفظ ختم نبوت کی تحریک کو زندہ کرنے میں بھی وہ پیش پیش تھے۔ جس کا ملت کو خاطر خواہ فائدہ بھی ہوا ہے اور علاقہ میں ہزار کوششوں کے باوجود فتنۂ قادنیت اور شکیلیت پیر پسارنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔

ہندوستان کے اہم دینی تعلیمی اداروں اور شخصیات سے ان کے گہرے روابط تھے، جنھیں وہ اپنے دینی و تعلیمی مقاصد کی تکمیل کے لیے بحسن و خوبی کام میں لاتے تھے ان کی پیدائش 15 اگست 1960 کوہوئی، اپنے وطن، سیوان، میرٹھ، دیوبند میں ابتدائی و ثانوی تعلیم حاصل کی اور 1986 میں جامعہ مظاہر علوم سہارنپور سے فضیلت کی تکمیل کی تھیمفتی محفوظ الرحمان عثمانی سیمانچل کے لئے امید کی ایک کرن تھے۔ جو ناگہاں رخصت ہوچکے ہیں۔ سال دو ہزار سات اور بعد کے دنوں میں کوسی ندی میں آئے سیلاب کی تباہ کاری کے موقع پر ان کی خدمات آب زریں سے لکھے جانے کے قابل ہے۔

مفتی صاحب کا فکری بصیرت بالیدہ تھا۔ لہذا تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کے لئے جامعتہ القاسم سے جس مشن کا آغاز کیا تھا وہ اس کو پاۂ تکمیل تک پہونچانا چاہ رہے تھے۔ کسی بھی جہدکار کی طرح ان کے حوصلے بلند تھے اور عزائم جوان تھے یہی وجہ تھی کہ وہ جامعتہ القاسم سپول کے وسیع وعریض احاطہ میں جامعتہ القاسم یونیورسٹی کے قیام کے لئے کوشاں تھے جو ادھورا رہ گیا اب اس کے تکیمل کی ذمہ داری ان کے صاحبزدگان اور معتمد حضرات پر ہے کہ مفتی صاحب کے ادھورے خواب شرمندۂ تعبیر کریں۔

علمی، دینی، ملی، اور سماجی وابستگی کے ساتھ تصوف و طریقت سے بھی مفتی صاحب کی وابستگی تھی۔ مفتی محفوظ الرحمان عثمانی حضرت مولانا محمد سالم قاسمی نوراللہ مرقدہ سابق مہتم دارالعلوم دیوبند سے بیعت تھے اور خلیفہ بھی تھے۔ تصوف و طریقت کے ذریعہ بھی انہوں نے بندگان خدا کی خدمت کی۔ اور لوگوں کے قلوب کو اللہ کی ہدایات کے روشنی سے منور کیا۔ مفتی صاحب کی حیات وخدمات کا ہرپہلو روشن اور مثالی تھا۔ اس نے سپول سے پسماندہ ویران خطہ کو آباد کیا اور زندگی بخش دی۔ ایک شمع جلایا جس کی روشنی سے چہار سو روشنی پھیل رہی ہے۔ اس نے خون جلاکر جامعتہ القاسم جیسا عظیم ادارہ ملک و ملت کو سونپا ہے جو ملک وقوم کے لئے سرمایہ عظیم ہے۔

مفتی محفوظ الرحمان عثمانی سیمانچل میں سرپرست کی حیثیت رکھتے تھے۔ لہذا ان کا انتقال اہل سیمانچل کے لئے ذاتی خسارہ ہے۔ وہ سیمانچل کی فلاح وبہبود کے لئے اخیر دم تک کوشاں رہے۔ سیمانچل کے تمام قابل ذکراداروں اور جہدکار افراد کے لئے ان کی ہستی بوڑھے برگد کی سی تھی۔ مفتی صاحب نے علاقہ کی پسماندگی، زبوں حالی اور تعلیمی ترقی کے لئے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں اور ان شعبوں سے وابستہ لوگوں کی بھی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

وہ ایک خلیق، مشفق اور خوردنواز شخص تھے۔ ان کی شفقت و محبت کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا ہے۔ وہ خود مجھے بھی بہت عزیز رکھتے تھے اور تعریقی و توصیفی کلمات سے حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ وہ قوم و ملک کے مخلص مرد مجاہد اور قافلہ سالار تھے۔ آج ملت ایک رہنما اور رہبر سے محروم ہو گئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی مفتی صاحب کی خدمات جلیلہ کو ان کی مغفرت اور بخشش کا ذریعہ بنائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے آمین۔

Facebook Comments HS