ہمیں کون تقسیم کرتا ہے؟


ہمیں کون تقسیم کرتا ہے، یہ سوال اور اس کا جواب ہم انتہائی سطحی طور پر دے کر اپنی ذمہ داری سے مبر اہو جاتے ہیں، لیکن بچہ جمہورا یہ معاملہ اتنا آسان نہیں، سیاسی کشمکش سے جوجتا ہوا ملک پاکستان، جمہور اور جمہوری روایات کی ایک عجیب داستان ہے، اس کشمکش میں کسی ایک جماعت، ادارے یا سیدھا سیدھا فوج کو مورد الزام ٹھہرائے جانا ایک علمی و قلمی دھوکہ دہی کے مترادف ہوگا۔ سیاسی تقسیم کی ایک الگ تاریخ ہے جس پر ہمیں غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کیا سیاسی جماعتوں کے اندرونی خلفشار اور گروپ بندیاں موجودہ پاکستان میں ہی شروع ہوئیں؟ جواب اس کا منفی میں ہوگا۔ آل پاکستان مسلم لیگ قیام پاکستان کے وقت سے ہی دو نظریات میں آپسی جنگ لڑتی آئی ہے جس میں ایک فریق کو فتح ہوئی۔

پھر اس تقسیم کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا جائے؟ کیا ایک سوئیپنگ اسٹیٹمنٹ دے کر سارا ملبہ کسی جرنیلی ڈاکٹرائن یا منصوبے پر ڈال دیا جائے یا اس کے اصل اندرونی مضمرات پر بھی تحقیق کی ضرورت ہے؟ قارئین بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسی تحریر ہے جو حقائق کے بجائے سوال اٹھا رہی ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ حجور، جب تک سوال نہیں اٹھے گا ا س وقت تک سوچ جنم نہیں لے گی۔ سوال یہ ہے کہ تقسیم کرنے والا کون؟ لیکن کیا اس کا جواب اتنا ہی آسان ہے، کیا کوئی ایک ہی مخلوق ہے جو اس نام نہاد سازشی تھیوری کے پیچھے کارفرما ہے یا ہم بھی اس کھیل کے مرکزی کردار ہیں یعنی ہم وہ جو کہ جمہوری ہونے کے دعوے دار ہونے کے ساتھ اس مسلک کے علمبرداربھی ہیں تو کیا پھر کچھ ذمہ داری ہم پر بھی عائد ہوتی ہے کہ نہیں؟

یاد رکھیئے کہ جمہوریت کبھی تقسیم نہیں ہوتی، ہاں البتہ جماعتیں اور اس کے لوگ راہیں بدلتے رہتے ہیں، اکثر یو ٹرن لئے جاتے ہیں اوراچانک ہارس ٹریڈنگ جنم لیتی ہے، کتابی، آفاقی سوچ اور نظریہ اپنی جگہ لیکن بھایؤں اور بہنووقت نے ہمیشہ یہی ثابت کیا ہے کہ جنگ میں جیت ہمیشہ زمینی حقائق کی ہوتی ہے۔

بات یہ ہے کہ پاکستان وجود میں اس لئے نہیں آیا کہ علامہ اقبال نے کوئی خواب دیکھا اور علیگڑھ کے کچھ لونڈے اس کی تعبیر کی تلاش میں اور علامہ کی پناہ محبت میں ڈنڈے لے کر نکل کھڑے ہوئے، بلکہ ایک علیحدہ مملکت پاکستان اس لئے وجود میں لایا گیا کہ متحدہ ہندوستان کے زمینی حقائق اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ عوام النساس میں ایک باغیانہ سوچ نے جنم لے لیا تھا اور اس کو علمی جامہ پہنانے کے لئے اس وقت کے رہنماؤں نے اس پر ایک اصولی موقف کو پروان چڑھایا۔ واضح رہے کہ سیاست، لیڈرشپ اور نظریہ اس وقت بھی تقسیم تھاجب ہندوستان تقسیم ہو رہا تھا۔

یہ بات سچ ہے کہ اس تمام تر سیاسی و نظریاتی اختلاف اور تقسیم کے باوجود برصغیر میں ایک بڑی اور تاریخی لکیر کھینچ دی گئی جس کے نتیجہ میں پہلے ایک پاکستان وجود میں آیا پھر ایک اور اختلافی، نظریہ اورنئے زمینی حقائق پر مبنی پر مبنی سوچ کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ تو پس ثابت ہوا کہ جہاں اندرونی خلفشار اور نا انصافیاں کسی سوچ کو جنم دیتی ہیں وہاں کسی بیرونی ہاتھ کی وجہ سے کوئی راہیں جدا نہیں کرتا بلکہ ایک ایسی ڈھلوان کو پیدا کرتا ہے جس میں پانی بہہ کر خود اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ نتائج کا دارو مدار وجوہات پر ہوتا ہے۔ پھر آپ بھلے اس کی ذمہ داری کسی پر بھی ڈال دیں، وقت، مقام اور حالات تقسیم کو ناگزیر بنا دیتے ہیں۔

موجودہ دور میں بھی اگر نظر دوڑائیں تو، معاشرتی محرومیاں وہ اصل زمینی حقائق ہیں جس سے آج پاک سر زمین میں ایک سیاسی رسہ کشی کی سی کیفیت ہے۔ تقسیم کو روکنے اور اس کا تدارک کرنے کی کاوشوں کا فقدان ہے اورجا بجا محلاتی سازشوں کی بھرمار ہے۔ اس بار نہ صرف سیاسی چپقلشیں عروج پر ہیں بلکہ اداروں کی اپنی اندرونی داستانوں کی بھی بازگشت دبی دبی سی ادھر ادھر سے سنائی دینے لگی ہیں۔

آج کا ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ریاست پاکستان میں حب الوطنی جسے ایک جذبہ ہونا چاہیے تھا اسے اب ایک فلسفے اور مذہبی عقیدت کا درجہ دیا جا چکا ہے، دوسری جانب غداری جو کہ ایک جرم ہونا چاہیے تھا وہ اب ایک اعزاز کہلایا جانے لگا ہے۔ اور یہ سب کوئی باہر سے آ کر ہم سے جبری طور پر نہیں کروا رہا ہے بلکہ ہم سب اس میں برابر کے شریک ہیں اور یہ سازش ہم نے خود اپنی مرضی سے رچی ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو! مندرجہ بالا گزارشات کو ایک بار پھر غور سے پڑھئے تو ان تمام سوالوں کا ایک ہی جواب ملے گا کہ تاریخ سے ہم نے فقط ایک ہی سبق سیکھا ہے کہ ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔

لاحاصل جمہوری کوشش سوائے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور ہما کے پرندے کے سر پر سجانے کی خواہش سے زیادہ اب کچھ اور نہیں، ظل سبحانی کی گڈ بکس میں آنے کے لئے ہم خود برضا و رغبت تقسیم در تقسیم ہونے کے لئے تیار رہتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ اب یہ جمہور کے لئے ایک قابل قبول رویہ بن گیا ہے۔

دستورکو بالائے طاق رکھ کر جمہور کا مستقبل کیسے روشن ہو سکتا ہے، کیا اب بھی ہم ان سب ناکامیوں کا ذمہ دار کسی ان دیکھے بیرونی ہاتھ کو قرار دیں گے یا اپنے اندرگریبان میں جھانک کر بھی دیکھیں گے کہ اگرہم زندہ ضمیر رکھتے ہیں تو کوئی لاکھ بھی چاہے وہ ہمیں تقسیم نہیں کر سکتا، سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود اپنے انفرادی فائدے کو دیکھتے ہیں یا قومی مفادکو مدنظر رکھتے ہیں؟ تو پھر کیا اب بھی آپ کو اس سوال کا جواب نہیں ملا کہ ”ہمیں کون تقسیم کرتا ہے“


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

انیس فاروقی، کینیڈا

انیس فاروقی ایک منجھے ہوئے جرنلسٹ، ٹی وی ہوسٹ، شاعر اور کالم نگار ہیں، اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔

anis-farooqui has 9 posts and counting.See all posts by anis-farooqui

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments