یورپین یونین کی پاکستان میں اقلیتوں کو درپیش مسائل پر تشویش


یورپین یونین کا پاکستان میں اقلیتوں کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یورپین پارلیمنٹ کی سب کمیٹی برائے انسانی حقوق میں مختلف ممالک میں اقلیتوں کو درپیش مسائل پر بحث کے دوران پاکستان میں موجود یورپین یونین کی سفیر اندرولا کامینارا نے پاکستان میں اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس وقت دنیا بھر میں اقلیتوں پر مظالم اہم مسئلہ ہیں، اس عالمی وبا کے دوران کچھ اقلیتی گروپوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی طور پر اس رپورٹ میں یورپ سے باہر کے مسائل کو سامنے رکھا گیا ہے، اس میں یورپ میں اقلیتوں کو درپیش مسائل کو رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔

حالانکہ یورپ کے کئی ممالک میں بھی مذہبی حوالے سے اقلیتوں کو مسائل کا سامنا ہے۔ اقلیتوں کے حوالے سے ان کے خلاف مختلف قوانین بنائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں تعینات یورپین سفیر نے پاکستان میں اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ پاکستان میں اقلیتوں کو صحت، تعلیم اور روزگار کے حوالے سے بھی مسائل درپیش ہیں۔ احمدی، ہندو اور مسیحی برادری اپنی مذہبی اعتقاد کی بنیاد پر تشدد اور دھونس کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔

یورپی پارلیمان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے تحت ابھی تک کسی بھی مجرم کو موت کی سزا نہیں دی گئی، لیکن کہا گیا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے ’اقلیتوں کو خوف زدہ‘ کیا جاتا ہے ان پر ’تشدد کیا جاتا ہے‘ اور ’توہین رسالت کا الزام لگا کر اقلیتی برادری کے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ 220 ملین کی آبادی میں 40 ملین افراد شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے اور ان کے اپس کے مسائل اور مذہبی تناؤ پر اپنی تفصیلی روشنی ڈالی جس کے بعد احمدی اقلیت کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہیں قانون میں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے جبکہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا حصہ کہتے ہیں، اور ان کے مذہبی عبادت خانوں کو جلایا یا گرایا جاتا ہے۔

جبکہ احمدی افراد اپنے آپ کو ملک میں محفوظ نہیں سمجھتے۔ احمدی کمیونٹی کو سخت گیر مسلمان علماء اور ان کے پیروکاروں کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ احمدی افراد کے قتل کے بڑھتے واقعات پر حکومت پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ عیسائی شہری غیر متناسب طور پر غریب اور غیر تعلیم یافتہ ہیں، ان کو کم درجے کی نوکریاں دی جاتی ہے اور ان کو معاشرے میں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ مذہبی افراد کسی بھی وقت توہین رسالت کے قانون کے آڑ میں اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

موجودہ وقت سرکاری طور پر ملازمتوں میں کوٹا پانچ فیصد ہے لیکن صرف دو سے تین فیصد پر عمل درآمد کیا جاتا ہے، اس میں سے بھی لوئر گریڈ ملازمتیں دی جاتی ہیں، جو عام طور پر خاکروب، سینیٹری ورکرز یا 14 سے 15 گریڈ کے نیچے ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں تحریک لبیک کے ساتھ ریاستی تنازعے کا بھی ذکر کیا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 500 کے قریب پولیس والے زخمی ہوئے۔ مذہبی گروپس عوام کو مذہبی نعروں کے آڑ میں عوام کو مشتعل کرتے ہیں اور یہ اپنے مقصد میں اس لیے کامیاب ہوتے ہیں کہ اکثر کم پڑھے لکھے افراد ان کو باتوں کو درست مان لیتے ہیں۔

جبکہ حکومت بھی ان مذہبی جماعتوں کے سامنے سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے بے بس نظر آتی ہے۔ قرارداد میں مذہبی و سیاسی کالعدم تنظیم ٹی ایل پی کا نام لے کر کہا گیا ہے کہ حکومت کو اس جماعت کی طرف سے تشدد کے استعمال کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہیے۔ جو کہ نہیں کیے گئے۔ رپورٹ میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ وقتاً فوقتاً ملک میں مذہبی توہین کے قوانین کو اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کیسز کی وجہ زیادہ تر ذاتی دشمنی اور لڑائی ہی ہوتی ہے اور ان کیسز کا مذہب سے کم ہی تعلق ہوتا ہے۔ مذہبی توہین کا قیدی ہر صورت 8 سے 10 سال قید بھگتتا ہے، اس میں دیگر چیزوں کے علاوہ سست عدالتی نظام بھی ایک وجہ ہے۔ سندھ میں اقلیتی خواتین کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے واقعات کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان میں اقلیتی شہریوں کی ایک بڑی تعداد حکومتی اقدامات سے مطمئن دکھائی نہیں دیتی۔

اس سے پہلے بھی 29 اپریل کو یورپی پارلیمان میں پیش کی جانے والی اس قرارداد جس کے حق میں 662 اور مخالفت میں صرف تین ووٹ ڈالے گئے، اس میں پاکستان کی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت کے قانون کی دفعات 295 سی اور بی کو ختم کرے۔ اس قرارداد میں حکومت پاکستان سے انسداد دہشت گردی کے 1997 کے قانون میں بھی ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ توہین رسالت کے مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں نہ کی جائے اور توہین رسالت کے مقدمات میں ملزمان کو ضمانتیں مل سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words