زلیخا مرد تھا داستان الف لیلی کا اصل ورژن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرب مورخ علی ابوالحسن المسعودی (وفات 956 عیسوی) کے مطابق، سب سے پہلے اہل فارس نے الف لیلی عرف ہزار داستان کو کتابی شکل میں مرتب کیا۔ پھر اہل عرب نے، نہ صرف ان کا ترجمہ عربی میں کیا، بلکہ اسی طرز کے اور قصے بھی ایجاد کیے ۔ جو پہلی کتاب ان قصوں کی مرتب ہوئی اس کا نام ’ہزار افساں‘ رکھا گیا۔ اس کا مرکزی خیال، جس سے سب واقف ہی ہیں، یہ تھا کہ فارس میں ایک بادشاہ ہواکرتا تھا، جس کا یہ معمول تھا کہ جب بھی کبھی نئی شادی کیا کرتا، سہاگ رات کی صبح اپنی دلہن کو موت کے گھاٹ اتار دیتا۔

یہاں تک کہ اس کی شادی ایک ذہین و فاضل دوشیزہ سے ہوئی جس کا نام ’شہرزاد‘ تھا۔ شہرزاد، کہ بلا کی ذہین و فطین تھی، نے سہاگ کی رات بادشاہ کواپنی قصہ گوئی کے کرشمے سے ایسا مسحور کیا کہ وہ اپنے پیشہ قتل کیش سے تا اختتام قصہ غافل رہا۔ شہرزاد کی ذہانت سے یہ بات بعید تھی کہ وہ ایک قصہ تک کی مہلت حیات مول لیتی، سو قصہ اس قدر طولانی ہوا کہ وعدہ فراد پر موخر کرنا پڑا، اور متجسس بادشاہ نے بھی اپنا اقدام قتل اگلے دن تک موقوف کیا۔

اور پھر جس طرح قصہ گو حضرات کی محفلوں میں ہوا کرتا ہے، ایک قصے کا سیاق سمجھنے کی خاطریا کسی قصے کے ایک کردار کی اپنی کہانی جاننے کی غرض سے ایک اور قصہ بیا ن کیا جاتا ہے۔ سو قصوں کی یہ مالادرازہوتے ہوتے ہزار شب تک جا پہنچی۔ اس دوران بادشاہ اور شہرزاد صاحب اولاد بھی ہوئے۔ پھر شہرزاد نے بادشاہ پر انکشاف کیا کہ اس نے داستان گوئی کا یہ سلسلہ جان کی امان حاصل کرنے کی غرض سے شروع کیا تھا۔ بادشاہ نے شہرزاد کی ذہانت سے متاثر ہو کر اس کی جان بخشی کر دی اور وہ ہنسی خوشی زندگی کے دن گزارنے لگے۔

اس سے ممثال ایک قصہ سوڈان کے خطے کوردوفان کے دارالحکومت کے ایک بازار میں، 1912 ء میں، فرابینیئس مہم (Frobenius Expeditions) کے ساربانوں کے سربراہ بوڑھی۔ ’اراچ بن ہسول‘ نے سنایا تھا (یہ قصہ تیسری صدی قبل مسیح کا بتایا جاتا ہے ) ۔ یہ دور اساطیر کے تقابلی مطالعے کا سنہری دور تھا۔ بیسویں صدی کے اس ابتدائی دور میں جرمن محققین اپنی کاپیاں، پنسلیں سنبھالے خانہ بدوش چرواہوں کی محفلوں سے لے کراکڑوں بیٹھے شتربانوں کی ٹکڑیوں تک سے، لوک داستانوں اور دیو مالاؤں کی سن گن لیتے پھرتے تھے۔ داستان گو، مغرب میں کوردوفان و دارفور سے مشرق میں ایتھوپیا تک، اور شمال میں نوبیا سے جنوب میں دارنوبیا تک کے ماضی کے مافوق الفطرت قصے سناتے۔

اسی طرح کی ایک محفل میں، اراچ بن حسول سات دن تک اپنی سفید داڑھی کے پیچھے سے خاموش بیٹھا سنتا رہا۔ آٹھویں دن وہ خاموشی سے اٹھا، اپنے چہرے اور داڑھی پر ہاتھ پھیر ا اور بولا، ”اب میں سناتا ہوں“ ۔ پھر اس نے۔ ’کاش کی تباہی کی داستان‘ سنانا شروع کی:

” ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اس خطے پر، جہاں ہم رہ رہے ہیں، چار راجہ حکومت کیاکرتے تھے۔ ایک راجہ ’نوبیا‘ پر حکومت کرتا تھا، دوسرے کی راجدھانی ’ایتھوپیا‘ تھی، تیسرا ’کوردوفان‘ کا فرمانروا تھا اور چوتھا ’دارفور‘ پر راج کیا کرتا تھا۔ ان میں سب سے مالدارکوردوفان کی راجدھانی ’ناپاٹا‘ کا بادشاہ۔ تھا جسے۔ ’ناپ‘ کہتے تھے۔ ناپاٹا کے راجہ ناپ کے پاس بے پناہ سونا و تانبا تھا۔ یہ سونا اور تانبا دور دراز کی راجدھانیوں کو جایاکرتا۔

اس کی حکومت کا دائرہ جنوب میں دور دور تک پھیلا ہوا تھا، کہ جہاں اس کی پرجا اس کے لئے لوہے سے ہتھیار بناتی، اور جہاں سے اس کے دربار کے لئے بڑی تعداد میں لونڈی، غلام فراہم ہوتے۔ تاہم دنیا کا امیر ترین انسان ہونے کے باوجود اس بادشاہ کی زندگی تمام انسانوں سے زیادہ غمگیں اور قلیل المدت تھی، کہ ہر ناپ چند ہی برس حکومت کر پاتا تھا۔ بادشاہ کے عرصہ حکومت میں پروہت ہر رات ستاروں کی چال دیکھتے، نذرانے گزرانتے، الاؤ روشن کرتے، پوجا پاٹ کرتے اور دست دعا دراز کرتے۔ اس معمول میں کبھی ناغہ نہیں ہوتا تھا مبادا وہ ستاروں کی طرف سے غافل ہوجائیں اور رواج کے مطابق بادشاہ کا مقررہ وقت قتال گزر جائے۔ یہ معمول، نامعلوم وقت سے چلا آتا تھا۔

سو اس بار بھی ایسا ہی ہوا، اور بادشاہ کے وصال کا دن آن پہنچا۔ قربانی کے لئے کیے گئے مخصوص بیل کی پشتینی ٹانگیں کاٹ ڈالی گئیں، تمام آتش کدے سرد پڑ گئے، عورتوں کو گھروں میں بند کر دیا گیا کہ جس کے بعد بادشاہ کو د ارفانی سے قتل کر کے رخصت کر دیا گیا۔ اس کے بعد پروہتوں نے نئی آگ روشن کی اور نیا راجہ چنا۔ یہ راجہ، گزشہ راجہ کا بھانجا تھا اور اس کا نام تھا ’اکاف‘ ۔ اکاف کے ہی دور میں کافی قدیم رسوم تبدیل ہوئیں اور یہی ناپاٹا کی تباہی کا سبب بھی بنا۔

چنے جانے کے بعد ناپاٹا کے بادشاہ کا پہلا سرکاری وظیفہ، اپنے اس سفر الی الموت کے رفقاء چننا ہوتا تھا۔ ان کا انتخاب بادشاہ کے عزیز ترین افراد میں سے کیا جاتا، اور ان میں سے جو اول اول چنے جاتے، وہ اس طائفتہ الموت کے ہراول دستے کی حیثیت رکھتے۔ چنانچہ اکاف نے اپنے اس سفر کے پہلے ہمراہی کے طور پر ’فرلی مس‘ کا انتخاب کیا۔ فر لی مس کی اس دربار میں آمد چند ہی برس قبل تب ہوئی تھی جب مشرق کے ایک دیس کے فرمانروا نے اسے بطور تحفہ ناپاٹا کے راجہ کو دان کیا۔ سو راجہ اکاف نے فر لی مس کی طرف یکھ کر اعلان کیا۔ :۔ ’یہ میراپہلا مصاحب ہوگا۔ یہ میرے وقت رحلت تک میرا دل بہلائے گا، اور موت کے بعد بھی مجھے خوش رکھے گا‘ ۔ فر لی مس یہ سن کر ذرا بھی خوفزدہ نہ ہوا۔ اس نے فقط اتنا کہا، ’اگر خدا کی یہی منشاء ہے‘ ۔

ناپاٹا کے رواج کے مطابق راجہ کے تخت سنبھالنے کے بعد ایک الاؤ روشن کیا جاتا تھا کہ جس کی نگہداشت کے لئے پروہت ایک نو عمر لڑکا اور لڑکی مقرر کرتے تھے۔ ان کو کنوارہ ہی رہنا ہوتا، اور بادشاہ کے خاتمے کے بعد ، نئی اگنی جلاتے وقت، انہیں قتل کر دیا جاتا تھا۔ سو اس رواج کے مطابق پروہتوں نے اس بار جس دوشیزہ کا انتخاب کیا وہ بادشاہ اکاف کی سب سے چھوٹی ہمشیرہ ’سالی‘ تھی، جس کا پورا نام سالی فو ہمر۔ (Sali۔ fu۔ Hamr) تھا۔ سالی جوپہلے ہی موت سے خوفزہ تھی، کا اپنے منتخب ہونے پر خون خشک ہو گیا۔

دوسری طرف بادشاہ کچھ عرصہ تو مال و جاہ اور اپنی سلطنت کی عظمت و شوکت کے احساس میں مسرور و شاداں زندگی بسر کرتا رہا۔ اس کی شامیں اپنے یار دوستوں سے خوش گپیوں، اور نت نئے مہمانوں سے ملاقاتوں میں بسر ہوتیں۔ مگر ایک رات خدا کی طرف سے بھیجے گئے اس احساس نے پوری شدت سے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا، کہ ہرشب عیش و نشاط اس کی موت جانب بڑھتا ایک قدم ہے۔ اس خیال کے کچھ عرصہ بعد ، خدا نے اس کے من میں ایک اور بات ڈالی : کیوں نہ فر لی مس سے کوئی قصہ سنا جائے۔

چنانچہ فر لی مس کی طلبی ہوئی۔ اس کے حاضر ہونے پر شاہ نے کہا: ’فر لی مس، وہ دن آن پہنچا کہ تمہیں میرا جی بہلانا ہے۔ مجھے کوئی قصہ سناو‘ ۔ ’تعمیل ارشاد، تکمیل ارشاد سے قبل، عالم پناہ‘ ، فر لی مس نے حکایت شروع کی۔ بادشاہ اورحاضرباشان مجلس ہمہ تن گوش ہوئے۔ وہ پینا پلانا حتی کہ سانس تک لینا بھول گئے۔ غلمان اپنے فرائض سے غافل و مدہوش ہو گئے، کہ فر لی مس کا سحر داستاں سرائی حشیش سے زیادہ نشہ آور تھا۔ جب اس نے قصہ تمام کیا تو سب حاضرین گویا کسی طلسم ازل کے سرور میں ملفوف تھے۔ راجہ قضاء و قدر سے متعلق اپنے خیالات کو یکسر فراموش کر چکا تھا۔ سامعین کو کچھ اندازہ نہ ہوا کہ غروب آفتاب کی شفق کب طلوع صبح کی لالی میں بدلی۔

اگلے دن شاہ اکاف اور اس کے صاحبان مجلس تمام دن بے قراری سے شام ڈھلنے کا انتظار کرتے رہے، کہ بازار قصہ گوئی پھر گرم ہو۔ اس کے بعد تو گویا یہ معمول ہی بن گیا۔ اس کے فن قصہ گوئی کے افسانے سلطنت کے طول و عرض میں پھیل گئے۔ فر لی مس کو ہر روز بادشاہ سے قیمتی پارچہ جات بطور انعام ملتے۔ دربار میں دوسرے ممالک سے آئے سفراء و عمائدین اسے زر وجواہرات سے نوازتے، سو وہ خوب مالدار ہو گیا۔ وہ بازارمیں نکلتا تو لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے، اس کے گرد عوام کا جمگھٹ رہتا۔

شاہ اکاف کی بہن سالی، کہ جسے سرکاری الاؤ کی نگہداری کا فریضہ سونپا گیا تھا، نے جب اس عجوبہ روزگار کی خبر پائی، تو اپنے بھائی سے گزارش کی کہ وہ اسے ایک بار فر لی مس سے کہانی سننے دے۔ بادشاہ نے اپنی چہیتی بہن کی خواہش پوری کی، اور سالی بھی رونق محفل بنی۔ فر لی مس نے جو سالی کو دیکھا تو ایک ثانیے کو اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ اسے سوائے سالی کہ کچھ اور دکھائی ہی نہ دیتا تھا۔ دوسری طرف یہی حال سالی کا تھا۔ بادشاہ فر لی مس سے مخاطب ہوا: ’کہانی شروع کیوں نہیں کرتے؟ کیا تمہارے پاس کوئی اور کتھا سنانے کو نہیں بچی؟‘

فر لی مس نے اپنی نگاہیں سالی سے ہٹائیں اور داستان کا آغاز کیا۔ اس کی کہانی کا اثر اول اول حشیش کی مانند تھا کہ جس نے سامعین پرہلکی مدہوشی طاری کی، اور پھر جس کا اثرگہرا ہوتا چلاگیا۔ یہاں تک کہ سب بے سدھ ہو گئے۔ اب سارے خواب کے عالم میں یہ داستان سن رہے تھے، یہاں تک کہ وہ نیند میں بھی سو گئے۔ اس دوران سامعین میں سے صرف سالی ہی بیدار رہی۔ اس پورے عرصے میں اس کی نگاہیں فر لی مس پر جمی رہیں۔ وہ اس کے سحر میں پوری طرح مبتلا ہو چکی تھی۔

جب قصہ بالآخر تمام ہوا تو فر لی مس اپنی جگہ سے اٹھا، سالی بھی اپنی جگہ سے اٹھی۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب آئے، ایک دوسرے کو بانہوں میں لیا، اور سالی بولی: ’ہم دونوں مرنا نہیں چاہتے‘ ۔ فر لی مس، سالی کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا: ’میں آپ کے اشارے کا منتظر ہوں، راہ دکھلائیی۔‘ ۔ سالی گویا ہوئی، ’ابھی مجھے جانے دو، میں سوچ بچار کر کے کوئی راہ نکال لوں گی، اورجب مجھے کوئی راہ سجھائی دے گی تو تمہیں اس بارے آگاہ کروں گی‘ ۔ اس کے بعد دونوں، بادشاہ اور درباریوں کو سوتا چھوڑ کر، ایک دوسرے سے رخصت ہوئے۔

اس دن سالی پروہت اعلیٰ کے پاس گئی اور باتوں ہی باتوں میں اس نے پروہت سے کہا، ۔ ’بے شک خدا کے کام عالی شان ہیں، مگر میں یہ کہوں گی کی اس کا سب سے بڑا شاہکار فلک پر نجوم کی سیاہی سے لکھی تحریر نہیں، اس کی سب سے عظیم تخلیق اس ارض خاکی پرموجود ہے، جس کا تجربہ مجھے گزشتہ شب ہوا‘ ۔ پروہت نے حیرانی سے پوچھا، ’کیا مطلب ہے آپ کا؟‘ اس پر سال نے اسے فر لی مس کے کرشماتی بیان بارے بتایا۔ ’تم غلط ہو‘ ، پروہت نے رد عمل کا اظہار کیا۔ اس پر سالی نے اسے فر لی مس سے داستان سننے کی دعوت دی۔ پروہت نے بادشاہ سے درخواست کی کہ اسے اور دیگر پروہتوں کو فر لی مس کی داستان سننے کی اجازت دی جائے۔ بادشاہ نے درخواست منظور کی۔

شام ڈھلتے ہی محفل پھر آراستہ ہوئی۔ اکاف نے فر لی مس کو داستان شروع کرنے کا اذن دیا۔ فر لی مس نے سازحکایت کو مضراب دیا، اور حسب معمول اپنے نشہ آور اثرات کا جادو جگانے لگا، یہاں تک کہ بادشاہ اور دیگرشرکائے محفل، بشمول پروہتوں کے، نیند کی وادی میں اتر گئے، جس کے بعد سالی اور فر لی مس پھر ہم کنار ہوئے۔

اگلے صبح سالی پروہت کے پاس آئی اور دریافت کیا، ’کیا آپ اب بھی میری رائے سے اختلاف کریں گے؟‘ ۔ پروہت نے سنبھلتے ہوئے جواب دیا، ’میں اپنا حق رائے دہی ایک دن کے لئے موقوف کرتا ہوں۔ کل ہم اس تجربے کے لئے تیار نہیں تھے‘ ۔

سو اس شب پھر افسانہ و افسوں کی محفل سجی۔ فر لی مس نے دوبارہ اپنی داستان سرائی کی چھڑئی ہلائی۔ تھوڑی ہی دیر میں حاضرین ہوش و حواس کی وادی سے کوسوں دور تھے۔

رفتہ رفتہ شہر میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ پروہت اپنے فرائض سے غافل ہو رہے ہیں۔ ایک دن ایک شخص نے پروہت اعلیٰ کے پاس آ کر پوچھا، ’اگلا موسمی تہوار کس دن پڑ رہا ہے۔ مجھے سفر پر نکلنا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ جشن کے دن سے قبل واپس شہر میں ہوں۔‘ پروہت بغلیں جھانکنے لگا کہ اسے تو چاند، تاروں کا مشاہدے کیے کئی راتیں ہو چکی تھیں۔ سو اس نے ایک دن کی مہلت مانگی۔ پروہت اعلیٰ نے دوسرے پروہتوں سے دریافت کیا کہ آیا انہوں نے گزشتہ دنوں میں ستاروں کی منزولوں یا چاند کا مطالعہ کیا ہے۔

سب کا جواب یہی تھا کہ وہ تو فر لی مس کے جادو کے اثر میں تھے۔ پروہت نے بدحواس ہو کر ان سے پوچھا، ’میں لوگوں کو کیا جواب دوں گا؟‘ ۔ اس پر ایک سالخوردہ پروہت گویا ہوا: ’یہ تقدیر کا لکھا تھا۔ اگر تو فر لی مس خدا کی طرف سے بھیجا ہوا نہیں، تو اسے مار دیا جائے، کہ جب تک وہ جیتا رہے گا، لوگ سنتے رہیں گے‘ ۔

پروہت اعلیٰ، سالی کے پاس گیا اور اسے کہا: ’فر لی مس کا وجود خدا سے دوری کا سبب بن گیا ہے، اسے مرنا ہوگا‘ ۔ ’مگر فر لی مس تو راجہ کا رفیق وصال ہے‘ ، سالی بولی۔ ’میں بادشاہ سے خود بات کروں گا‘ ، پروہت نے کہا۔

اسی دن پروہت بادشاہ کے سامنے پیش ہوا اور اسے اپنے خدشات سے آگاہ کیا: ’فر لی مس خدائی نظام درہم برہم کیے دے رہا ہے، اسے مرنا ہو گا‘ ۔ ’اس سے پہلے میں اپنی جان دے دوں گا‘ ، بادشاہ نے ٹھوس لہجے میں جواب دیا۔ ’اس کا فیصلہ تو خدا ہی کر ے گا‘ ، پروہت نے کہا۔ ’تو ٹھیک ہے، تمام خلق کواس کا گواہ ہونا چاہیے۔ پروہت کے جانے کے بعد سالی اپنے بھائی بادشاہ اکاف سے مخاطب ہوئی:‘ او میرے خواجہ، میرے بھائی، اختتام شاید قریب آلگا ہو، بے شک تو نے فر لی مس کو اپنے لئے موت کے ساتھی کے طور پر چنا ہے، جو تجھے اگلے جہان میں بیدار کرے گا، پر مجھے اس کی حاجت اپنی تقدیر کا لکھا پورا کرنے کے لئے ہے۔ فر لی مس مجھے دے دے ’۔

۔ ’۔ میری بہن، فر لی مس میں نے تجھے دیا‘ ، بادشاہ نے اپنی پیاری بہن کی خواہش اسی وقت پوری کر دی۔

پھر تمام شہر میں منادی کرادی گئی کہ اس شام فر لی مس عظیم چوبارے میں سب سے خطاب کرے گا۔ ایک عالی شان سٹیج سجایا گیا کہ جس پر بادشاہ چہرے پر نقاب ڈالے اپنے وزارء اور پروہتوں کے ہمراہ جلوہ فرما ہوا۔ سالی بادشاہ کے برابر فروکش تھی۔

جب لوگ جمع ہو گئے تو فر لی مس کو طلب کیا گیا۔ فر لی مس اپنے حواریوں و غلاموں کے جلو میں، قیمتی پوشاک زیب تن کیے نمودار ہوا، بادشاہ کو جھک کر سلام کیا اور عین پروہتوں کے سامنے نشست اختیار کی۔ پروہت اعلیٰ اپنی جگہ سے اٹھا اور بولا: ’فر لی مس نے ہمارا مروجہ نظام تلپٹ کر دیا ہے، آج رات اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا ایسا منشائے ایزدی کے تحت ہوا یا نہیں‘ ۔ اس کے بعد وہ اپنی نشست پر واپس بیٹھ گیا۔

پھر بعد فر لی مس، جس کی نظریں سالی پر گڑی ہوئی تھیں، نے رخ پروہتوں کی جماعت کی جانب موڑا، اپنی جگہ سے اٹھا اور بولا: ’میں خدا کا ایک ادنی غلام ہوں، میرا یہ ایمان ہے کہ جس دل میں شر و شیطنت کا شائبہ بھی ہے وہاں خدا کا کوئی گزر نہیں۔ آج کی رات، خداوند یہ آشکار کر دے گا‘ ۔

اس کے بعد اس نے اپنی داستان کا آغاز کیا۔ اس کے الفاظ انگبیں سے زیادہ شیریں، اور لوگوں کے دلوں پر اس کی آواز گویا خشک زمیں پر گرما کی پہلی پھوار تھی۔ اس کی زبان سے فضاء میں منتشر ہونے والا عطر، مشک و عنبر سے کہیں بڑھ کر، اور اس کا چہرہ جیسے شب دیجور میں روز روشن تھا۔ اس کی حکایت آغاز میں اس حشیش کی مانند تھی جو جاگتے کوسر خوشی سے ہم کنار کرتی ہے، پھر اس کی کیفیت ایسی ہوئی جیسے نیند میں چڑھتا نشہ۔ جوں جوں رات کا رتھ آگے کی جانب کھنچتا گیا، فر لی مس کی آواز بلند ہوتی چلی گئی۔

اس کے الفاظ نیل کی طرح سننے والوں کے دلوں میں چڑھتے اترتے رہے۔ کچھ کے لئے اس کے الفاظ یوں سامان راحت تھے جیسے بہشت، اور وں کے لئے یوں رونگٹے کھڑے کر دینے والے کہ گویا ملک الموت سے مصافحہ۔ غرض جہاں کچھ کے دل فرحت و انبساط سے معمور تھے وہیں دوسروں کے ہیبت و خوف سے لرزاں۔ جوں جوں دن قریب آتا جا رہا تھا توں توں اس کی آواز کی بلندی بڑھتی، اور اس کی گونج سامعین کے وجودوں میں اپنا ارتعاش بڑھاتی تھی۔ یہاں تک کہ لوگوں کے دل گویا ایک دوسرے کے خلاف آمادہ بہ جنگ ہوئے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سینوں میں سمندی طوفان، پوری گرج چمک کے ساتھ تاخت پر آمادہ ہے۔ غیض و غضب کی بجلیاں اورقہر وجلال کے کڑکے ایک دوسرے سے نبرد آزما تھے۔

جب سورج بالآخر طلوع ہوا اور فر لی مس کی داستان اپنے اختتام کو پہنچی تو سب پراگندہ ذہن، گنگ و ژولیدہ، پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ اور کیا دیکھتے تھے، کہ تمام پروہت فرش پر مرے پڑے ہیں۔ سالی اپنی جگہ سے اٹھی اور نقاب پوش اکاف کے سامنے سجدہ ریزہو کر بولی: ’او میرے بادشاہ! میرے بھائی! اپنے چہرے سے نقاب ہٹا کر اپنی رعایا کو اپنا دیدار کرنے دے، اور اب خود ہی خدا کے حضور نذر پیش کر، کہ یہ پروہت عزرائل کے ہاتھوں کھیت ہوئے‘ ۔ ”

اور یہی وہ دن تھا کہ جب ناپاٹا سے انسانی قربانی کی رسم کا خاتمہ ہوا۔
جوزف کیمبل کی کتابMasks of God (Vol۔ 1 ) سے ماخوذ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *