انسانیت کا درد یہاں بیچنے کو لکھا جاتا ہے صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ہر روز ایک نیا کیس، ایک نیا واقعہ، ایک نیا ظلم آخر کب جا کر اس ملک میں کوئی قانون آئے گا؟ کتنی اور ماں، بیٹیاں، لڑکیاں ریپ کے لیے ہم درندوں کو پیش کریں گے؟ احتجاج 2 دن ہوتا ہے اور پھر ایک لمبی چپ۔ قراردادیں نہیں چاہیں اب، نہ ہی کرپشن اور چور ڈاکوؤں کی کہانیاں سننی ہیں۔ ہمیں اب تحفظ چاہیے۔ درندوں کے لیے قانون بناتے کیوں انسانیت جاگ رہی ہے؟ اگر وہ انسان ہوتے تو قانون کی ضرورت کیوں ہوتی۔“

اس کا قلم تیزی سے چل رہا تھا کیونکہ اسے صبح تک یہ کالم جمع کروانا تھا۔ اس نے ٹھنڈی چائے کا گھونٹ بھرنے کے بعد ایک بار پھر اپنے لفظوں کو دیکھا تھا کیونکہ ایڈیٹر پچھلے کچھ دنوں سے بار بار شکایت کر رہا تھا کہ اب تحریر میں وہ جذبات کا تڑکا نہیں ہوتا جو اس کی تحریروں کو پہلے صفحہ اول پر لاتا تھا۔ وہ اسے تو کہہ چکی تھی کہ اب غلطی نہیں ہوگی پر وہ بھی کیا کرتی، اسے لگتا تھا ایک وقت تک کے لکھنے سے سب ہو سکتا مگر اب اس کے لیے لکھنا صرف ایک کام کا حصہ تھا۔ عرصہ ہوا وہ قلم کی طاقت جیسی بے بنیاد فرضی دنیا سے باہر آ گئی تھی۔ مگر سماجی مسئلوں پر لکھنا ہی اس کو اخبار سے چند پیسے دلوانے کا ذریعہ تھے۔

اس نے پھر سے لکھنا شروع کیا تھا مگر اب اسے خود بھی اپنے الفاظ بے بنیاد سے لگ رہے تھے شاید جب اسے خود لکھتے ہوئے یقین نہیں تھا کہ کچھ ہو سکتا تو وہ الفاظ قاری پر کیسے اثر کر سکتے تھے؟ اس نے کچھ مزید لکھ کر کالم مکمل کر کے کاغذات سمیٹے تھے اور خود موبائل کھول کر وہیں کرسی سے ٹیک لگا لی تھی۔ عرصے بعد آج اس نے پھر سے ”ریپ کیسز ان پاکستان“ گوگل پر سرچ کی تھی اور ایک لمبی لسٹ اس کی آنکھوں کے سامنے موجود تھی۔ سر فہرست ایک نیا کیس نظر آیا تھا ایک مسیحی لڑکی کا اور اس نے اسے کھولا تھا

” 10، 11 سال کی مسیحی لڑکی کے کلمہ نہ پڑھنے کے جرم میں سر کو منڈ دیا گیا اور زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔“

ہیڈلائن کے چمکتے حروف نے ہی عرصے بعد اسے کانپنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس نے تصویر کو زوم کر کے دیکھا تھا اور اس معصوم پری کو دیکھ کر اسے لگا تھا جینا آسان نہیں ہے۔ ہم جو شکر سے بہت دور جا چکے ہیں اس تکلیف کا اندازہ بھی کیسے کر سکتے ہیں۔ ہم تو آج کل اپنے خود ساختہ غموں کی دنیا میں ڈوبے ہوئے ہیں مگر کیا یہ معصوم کبھی اس غم سے نکل پائے گی؟ کیا وہ ڈر اور خوف جو اس نے اس وقت محسوس کیا ہوگا کیا ساری عمر وہ خوف اس کے دل سے نکل پائے گا؟ کیا وہ کبھی دوبارہ اپنی سپنوں کی اڑان بھر پائے گی؟

اس نے میز کے کونے پر پڑے اپنے لکھے کاغذوں کو دیکھا تھا اور انہیں اپنے قریب کھسکا لیا تھا۔ شاید 2 ماہ بعد وہ دوبارہ لکھ رہی تھی ایک کمزور سی امید کے ساتھ کہ شاید کچھ ہو سکے۔ شاید کوئی ایک پڑھنے والا اس کو سمجھ کر کسی ایک ریپ وکٹم کی زندگی بدل دے۔ شاید اس کے الفاظ کسی ریپ وکٹم کو دوبارہ سے خواب جوڑ کر اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دے دیں۔ ہم نہیں جانتے کب کسی کا ایک لفظ کسی دوسرے کے لیے امید و حوصلے کا پیغام بن جائے۔ وہ خوش تھی اسے لگا تھا عرصے بعد وہ کچھ پھر سے لکھ پائی ہے۔

صبح اس نے تحریر کو جا کر ایڈیٹر کے سامنے خوشی سے پیش کیا تھا مگر ایک نظر ڈال کر ہی وہ بولا تھا:

”مدام لکھنے سے پہلے اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیا کریں۔ صبح ہی ڈان نیوز کے مطابق یہ خبر جھوٹی ثابت ہو گئی ہے۔“

اس نے ایک نظر اپنے سامنے پڑی تحریر کو دیکھا تھا اور ایک نظر ایڈیٹر کو اور گہرا سانس بھر کر بولی تھی:

”پر سر یہ پاکستان ہے یہاں ریپ وکٹم کہاں کیس کرواتے ہیں اور چلیں یہ ایک خبر غلط ہے پر یہاں تو ہر روز لڑکیاں درندگی کی نظر ہو رہی ہیں۔“

”آپ کی بات صحیح ہے مگر کالم کی بنیاد کا واقعہ ہی غلط ہے اور اس ایک خبر پر الگ وبال اٹھ جانا کہ ہم پاکستان کا امیج خراب کر رہے ہیں۔ جان کر غلط خبر دے کر مسیح برادری کے جذبات ابھار رہے ہیں۔“

ایڈیٹر نے ٹائپ کرتے کرتے اسے بھی جواب دے کر سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
”جی جی سر میں سمجھ رہی۔“

اس نے اندر اٹھتے شور کو دباتے ہوئے فائل سے وہی بے مطلب سے الفاظ والی تحریر ان کے سامنے رکھی تھی اور ایک نظر اسے دیکھ کر ایڈیٹر نے پاس رکھ لیا تھا

”ہاں یہ چھپ جائے گا مگر جذبات جو پہلی تحریر میں تھے وہ ادھر بھی لاؤ ذرا۔“
”جی سر! اگلی تحریر میں آپ کو مایوسی نہیں ہوگی۔“
اس نے ایڈیٹر کو جواب دیا تھا اور آفس سے باہر نکل آئی تھی۔

سڑک پر چلتے اس کے دماغ میں بے شمار سوال تھے مگر لبوں پر گہری چپ کا قفل لگائے وہ یتیم خانے واپس آ گئی تھی۔ کانوں میں ایڈیٹر کے لفظوں کی گونج تھی کہ مسیحی برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر اپنی روم میٹ مسیحی لڑکی پر گئی تھی جس کے زخموں کے نشان دور سے بھی نظر آ رہے تھے اور سوئے ہوئے بھی چہرے پر ڈر کے نشان واضح تھے۔ ہاں مگر زبان پر قفل لگانا ضروری تھا تاکہ کسی کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔ باقی قصور لڑکی کا ہوگا کوئی یا ایک نارمل ایکسیڈنٹ۔ اس نے اس کی طرف رخ کیا تھا جو شاید کسی حقیقت کو خواب میں دیکھ کر چیخ رہی تھی۔ اس نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ ہونے کا احساس دلایا تھا اور دل کو پھر سے پتھر کر کے اس کے ساتھ ہی آنکھیں موند لیں خود بھی ایک بار پھر سونے کی کوشش کی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نمرہ اعجاز کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *