مسئلہ فلسطین کا پاکستانی حل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسرائیل اور فلسطین کے بیچ مصلحت کروانے میں مصر کا کردار قابل تعریف ہے۔ جنرل سیسی سے ہزاروں اختلافات کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ انھوں نے اسرائیل کے چوتھے بڑے ٹریڈنگ پارٹنر ترکی کی طرح صرف بیانات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات کر کے دونوں اطراف مزید قتل و غارتگری کو روکا۔ جن بھائیوں نے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے سٹیٹس پوسٹ کیے ان سے معذرت کا طلبگار ہوں کہ میں بائیکاٹ نا کر پایا۔ گزارش ہے کہ جب پاکستان میں بکنے والے غیر ملکی مصنوعات کی فھرست نکالی تو معلوم ہوا کے بچوں کے پیمپر سے لے کر مشہور فری لانس ویبسائٹ Fiver فائیور جو کہ پاکستان کے ہزاروں پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کے لئے روزی کا ذریعہ بن چکی ہے، ہر جگہ اسرائیل مکمل یا جذوی طور پر شراکت دار نظر آیا۔

صرف گنے کے جوس اور گورمے کی 60 روپے والی بوتل ہی دو مصنوعات ایسی ملی جن میں بظاہر کوئی اسرائیلی شراکت داری نظر نا آئی۔ باقی غائب کا علم خدا جانتا ہے۔ مزید میں ہمیشہ سے پاکستان اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات کا خواہاں رہا ہوں۔ مگر آج مجھے خوشی ہے کہ شکر ہے ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ پاکستان میں اسرائیلی سفیر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب تک آدھا پاکستان جل چکا ہوتا۔ اور ملک وزیرستان اور بلوچستان کا نقشہ پیش کر رہا ہوتا۔

جھاں پر حا لات فلسطین سے بھی زیادہ بدتر ہیں۔ لیکن قبلہ اول اور مسجد اقصیٰ وہاں پر نہ ہونے کی وجہ سے ان کے مسائل پاکستان کے باعمل مسلمانوں کی توجہ سے محروم ہیں اور ان کے بارے میں بات کرنے پہ آپ کو بلیک ویگو میں شمالی علاقے جات کی مفت سیر بھی کروائی جا سکتی ہے۔ لگے ہاتھوں حماس اور اسماعیل حانیہ سے گزارش ہے قطر کی دی گئی امداد سے ایران سے 1950 کی ٹیکنالوجی والے راکٹ لانچر خریدنے کے بجائے اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔

تاکہ وہ اسرائیلی آئرن ڈوم اور 35۔ F کی ائر سٹرائکس کا مقابلہ کس ڈھنگ کے ہتیار سے کر سکیں اگر ان سے جنگ ہی کروانی ہے تو۔ اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ریسرچ کے شعبے میں یھودی اپنا الگ مقام رکھتے ہیں۔ دنیا کا سب سے زیادہ پر وقار اور با عزت ریسرچ آوارڈ نوبل پرائز اب تک کم و بیش 900 ریسرچ سکالرز کو ملا ہے۔ جن میں سے 231 یہودی ہیں۔ جبکہ 12 کا تعلق ڈایریکٹ اسرائیل سے ہے۔ دوسری طرف مسلم امہ کی بات کی جائے تو یہ تعداد محض 10 ہے۔

جن میں سے ایک کو با عمل مسلمانوں نے قادیانی قرار دے کر بے وطنی کی موت مرنے پہ مجبور کیا۔ اور اس کی بچی کھچی تصاویر پہ کالک مل کے دور جدید کا مرد مومن مرد حق جناب شہیر سیالوی جنت کو راستہ بخوبی بنا رہے ہیں۔ جھاں اس مشکل کی گھڑی میں تمام پاکستانی بشمول ”طاھر اشرفی“ اپنے فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے (صرف دعاؤں میں ) ، میں نے ایک مخصوص جماعت کو کافی مس کیا۔ شاید وہ انتظار میں ہیں کہ سٹیٹ کب ان کے کردہ پچھلی تباہی کو درست کرے اور وہ دوبارہ جلاؤ گھیراؤ کرنے میدان میں اتریں۔

کافی سلیکٹو عاشقی ہے ان کی۔ چلیں پھر بھی بھائی ہیں اپنے۔ آرٹیکل 19 کے تحت ان کو بھی اظہار رائے کا حق ہے۔ یہ ایک ور بات ہے کہ ان کا اظہار رائے سٹیٹ کو کافی مہنگا پڑ تا ہے۔ پچھلی مرتبہ بھی میں لیپ ٹاپ لے کے یونیورسٹی اور فلیٹ کے بیچ بال بنا رہا۔ جھاں تک بات رہی اسرائیل۔ فلسطین مسئلے کے حل کی تو حل ہے نا۔

میری UN سے گزارش کہ موجودہ فلسطین اور اسرائیل بشمول مصر کی گولان کی پہاڑیاں۔ ملک ریاض، DHA، اور علیم خان کے حوالے کیا جائے۔ ویسٹ بینک اور موجودہ اسرائیل میں 5 مرلے، 7 مرلے، 10 مرلے اور 1 کنال کے رہائشی و کمرشل پلاٹ بنائے جائیں گے۔ جب کہ غزہ سٹرپ میں 4,4 کنال کے فارم ہاؤس بنائے جاویں گے۔ جو کہ صرف ریٹائرڈ فوجی افسران کے لئے مختص ہوں گے۔ فائلز پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پہ تقسیم کی جائے گی۔ مسجد اقصیٰ اور قبلہ اول کو ان سب سے دور رکھا جائے گا۔ اور گولان کی پہاڑیاں۔ وہاں مولانا طارق جمیل صاحب کا مدرسہ بنے گا۔ اگر قسمت سے کچھ جگہ بچی تو MTJ برانڈ کا پروڈکشن ہاؤس بھی لگایا جاسکتا ہے۔ جس کی مصنوعات انسانی بنیادوں پر دونوں اسرائیل اور فلسطینیوں کو ہول سیل ریٹ پہ بیچی جائے گی۔ نہ رہا بانس اور نہ بجے بانسری۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ارباب گل فریال کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *