آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن (ADR)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل زیادہ زیر بحث اور گرم موضوع حال ہی میں خیبر پختونخوا صوبائی حکومت کی صوبائی اسمبلی سے اے۔ ڈی آر کا بل پاس کروانے والے صوبائی قانون کا درجہ پانے والہ صوبائی ایکٹ ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ بل چار دسمبر دو ہزار بیس میں ٹیبل ہوا تھا اور اٹھائیس دسمبر دو ہزار بیس کو اس کی نوٹیفیکشن جاری ہونے کے بعد اب ایک ایکٹ کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔ اور یہ اب خیبر پختونخوا آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن ایکٹ دو ہزار بیس کہلاتا ہے۔

یہ بل جب پیش ہوا تو اس وقت اس بل کو جناب فواد افضل خان ایڈوکیٹ نے بطور پیٹیشنر اپنے وکیل نور عالم خان ایڈووکیٹ کے ذریعے صوبائی حکومت کو بواسطہ چیف سیکریٹری، لاء سیکریٹری، صوبائی اسمبلی کے سیکریٹری، اور پختونخوا بار کونسل بواسطہ اس کے وائیس چئیر میں بیس دسمبر دو ہزار بیس کو انگریزی اخبار ڈان کی تفصیلی خبر کے مطابق چیلنج کیا اور اپنے پیٹیشن میں جو سب سے پہلے نقطہ اپنے ارگومنٹس کے لئے رکھا وہ اس ایکٹ میں ایگریوڈ یعنی مضروب پارٹی کے لئے اپیل کے حق نہ ہونے کا تھا۔

جو نہ صرف ہمارے بنیادی حقوق، بلکہ یونیورسل لاء اور قانون فطرت کے بھی خلاف تھا۔ دوسرا نقطہ ان کا عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ متوازی قانون کے اجراء کا ایک نیا پینڈورا باکس کھولنا تھا۔ تیسرا نقطہ ان کا سرکاری مشینری کے ساتھ ساتھ ایک نجی انصاف کے لئے دعوت عام دینا تھا۔ ان کا چوتھا نقطہ ان قانون کے آڑ میں سبکدوش ہونے والے جوڈیشری سے وابستہ صاحبان تجربہ و مشاہدہ کو نوازنا تھا۔ پانچواں نقطہ یہ کہ اس ایکٹ کی وساطت سے این۔ جی۔ او کے ذریعے انصاف کو لوگوں کی دہلیز تک پہنچایا جانے کا ایک معترضہ عمل کی طرف قدم اٹھانا تھا۔ چھٹا نقطہ یہ کہ بجائے یہ کہ حکومت عدالتوں کی تعداد بڑھائے اور دور دراز علاقوں تک انصاف کی فراوانی کو یقیبی بنائے بلکہ الٹا اس طرز کے سطحی عمل سے انصاف کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہے۔ ساتواں یہ کہ یہ مان لیا جائے کہ عدالتی نظام میں کمی یا صلاحیت کی فقدان ہے ورنہ یہ متوازی قانون کو عمل میں لانے کا کیا تک بنتا تھا۔ اٹھواں یہ کہ اس بل کے نتیجے میں ثالثین کمیٹی بنائے جائے گی جو علاقے کی عمائدین، ججز، سرکاری افسران اور دیگر انتظامی افراد پر مشتمل ہوگی جو یقیناً آسانی سے اپروچیبل ہونے کی وجہ سے فیورٹزم کا شکار ہوگی۔ نواں یہ کہ یہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کا بالکل متصادم ہے جو انتظامیہ کو عدلیہ سے بتدریج الگ ہونے کا کہتی ہے اور ادھر دونوں کو پھر سے ٹکراؤ کی پوزیشن میں لانے کی ایک سوچی سمجھی بونڈی سہی ہو رہی ہے، خصوصی طور پر ڈویژن کے کمشنر اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو شامل کر کے انتظامیہ کو ایک بار پھر عدالتی نظام شمولیت کی دعوت دی جا رہی ہے۔

دسواں یہ کہ حال ہی میں فاٹا کے کالے قانوں ایف۔ سی آر سے وہاں کے لوگوں کی جان چھوٹی ہے اور اس نئے قانون کی صورت میں ایک بار پھر ان کو اسی طرز کے قانون میں جھکڑا جا رہا ہے۔ گیارواں یہ کہ اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ کے کئی فیصلے موجود ہیں جس کی روشنی میں اس قانون کو دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ تیرواں یہ کہ اس قانون پر حکم امتناع کی بھی درخواست کی گئی تھی۔ اب پتہ نہیں اس پٹیشن کا کیا بنا، کیا آرڈر ہوا؟

، سٹے اس پر ملا یا نہیں، لیکن یہ بات کلیئر ہے کہ باوجود اس کے یہ اب قانون بن چکا ہے۔ بنیادی طور یہ قانون کیا ہے اور ہماری کون سے پروسیجرل لاء سے اخذ کیا گیا ہے۔ وہ درج زیل ہے۔ 89۔ A، Alternative Dispute Resolution: ( 1 ) Notwithstanding any other laws for the time being in force، the court may use Alternative Dispute Resolution (ADR) methods to resolve cases of civil or commercial matters: Provided that for the purposes of this section، ADR refers to mediation، conciliation and negotiation۔

اب یہ سیکشن سول پروسیجر کوڈ کے دفعہ نواسی۔ اے میں درج ہے اور یہ بیان کرتا ہے کہ اے ڈی۔ آر کا میتھڈ یا طریقہ دیوانی اور کمرشل کیسز میں مہیا کیا جائے گا اور اس سلسلے میں رفر کیا جائے گا۔ لیکن جو قانون وضع کیا گیا ہے اس قانون میں یہ تخصیص کوئی روا نہیں رکھا گیا ہے۔ اب کریمنل کیسز کی ثالثی کیسی کی جائے گی گو کہ اس میں وہ کریمنل کیسز شامل ہوں گے جو دفعہ تین سو پینتالیس سی آر پی سی کے تحت قابل راضی نامہ ہیں، لیکن قتل اور روڈ ایکسیڈنٹ بھی تو قابل راضی نامہ ہے، جس میں قصاص اور دیت ہوتی ہے۔

قصاص اور دیت کو کیسے امپوز کیا جائے گا۔ اس طرح جب اپیل اور رویژن کا کسی کو حق نہیں تو اس کا صاف مطلب ہے کہ با اثر لوگوں کے لئے یہ قانون بنایا گیا ہے، اور وہ کسی کے خلاف بھی اثر و رسوخ یا پیسہ استعمال کر کے فیصلے کیا کریں گے اور ایگریوڈ پارٹی پھر نہ اپیل کر سکے گی اور نہ ریویژن۔ جس کا اثر پہلے سے اس طرح نکل رہا یے کہ عدالتی نظام کی سست روی یا دیگر عوامل کی وجہ سے غیر مطمئن لوگ دن دھاڑے کچھری میں اپنے مخالفین کو قتل کر دیتے ہیں تو پھر اس لاء کے اس نقص کی وجہ سے تو نہ صرف مخالف پارٹی بلکہ ثالثین بھی نشانہ بنیں گے کیونکی ان کو ججز جیسے تحفظ تو نہیں ہوگا۔

اگر یہی قانون لانا تھا تو پھر جرگہ سسٹم کو بحال کرتے جب کہ جرگہ سسٹم کو نہیں مانا جاتا یہ بھی ایک عجیب منطق ہے۔ جرگہ کو اے۔ ڈی۔ آر کا نام دے کر قابل قبول اور اپنے جرگہ کے نام کی وجہ سے فرسودہ گردانا اور سمجھا جاتا ہے۔ جرگہ میں اگر سورہ کی بات ہوتی ہے تو نہ صرف اخلاقی، معاشرتی اور قانونی طور پر غلط سمجھا جاتا ہے بلکہ انسانی حقوق کے علمبردار اور سول سوسائٹی کے کرتا دھرتا یک دم شہر کے چورایوں اور اہم شاہراہوں ہر امڈ آتے ہیں اور لگے ہاتھوں اس کو چیلنج بھی کیا جاتا ہے اور اے ڈی آر میں اگر ایسا فیصلہ ہو جائے تو نہ انسانی حقوق اور نہ سول سوسائٹی کا کوئی ردعمل بلکہ سرے سے ناقابل چیلنج۔ بقول سہیل وڑائچ کے ”یہ کھلا تضاد نہیں“ ۔ یہ اے۔ ڈی آر کا قانون ادھر کراچی میں بھی چند سال پہلے شروع کیا گیا تھا اور سٹی کورٹ اور ہائی کورٹ میں جگہ جگہ بورڈ لگوار اس کی افادیت بیان کی گئی تھی لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا ہوا ہوتا تھا کہ اگر کوئی اس فیصلے سے مطمئن نہیں تو وہ اپنا فیصلہ واپس عدالت میں لاسکتا ہے جو دفعی 89۔

اے کی اصل روح کے مطابق تھا۔ اور وہاں بھی منظور نظر لوگوں کو نوازا گیا حتی کی سٹی کورٹ میں ریٹائرڈ ججز نے دفاتر کھول دلئے اور بیرونی فنڈنگ سے لوگوں کے فیصلے کروانے لگے، لیکن جب وکلاء اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو ہہاں سے اپنی بوریاں بستر اٹھا کے چلے گئے اور اپنے دفاتر تک محدود ہو گئے اب نہ یہ قانون گراؤنڈ پر ہے اور نہ ہدایتی بل بورڈ۔ جب خیبر ہختونخوا کی بات کریگے تو یہ بھی جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ یہ اے۔

ڈی۔ آر پہلے پشاور میں مرحلہ وار کیسے شروع ہوا اور کیسے تھانہ وائیز اس کا آغاز کیا گیا اور کیسے تھانہ وائیز اے۔ ڈی۔ سی کمیٹیوں کی صورت میں کام کرتی رہی ہیں اور کیسے لوگوں کو اس کے ساتھ مانوس کیا گیا۔ ان تمام باتوں کے باوجود اپنی باطن میں یہ قانون برا نہیں ہے لیکن اس کے طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے دنیا کے بہت سے ممالک میں یہ رائج ہے لیکن سول ڈسپیوٹ کے لئے اور اپیل کے حق اور ایگریوڈ پارٹی کے مرضی اور نامرضی کے ساتھ، ہماری طرح یہ انفورسڈ لاء نہیں ہوتا یہ پارٹیز کی مرضی پر انحصار رکھتا ہے۔ زندگی رہی تو آنے والے کالم میں اس مذکورہ ایکٹ کے دفعہ ایک سے لے کر آخری دفعہ آٹھائیس تک سیکشن وائیز بات ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *