خوابوں کے شہر!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم پیرس، لندن یا نیویارک کے سفر نامے کا ذکر کر رہے ہیں تو آپ کو غلط فہمی ہو رہی ہے۔ کیونکہ ہم نے یہ شہر نہیں دیکھے ہیں۔ اوریہ ہماری عادت نہیں ہے کہ ہم گھر کی مرغی دال برابر کے مصداق، اپنے شہروں اور تاریخی مقامات کو گھاس نہ ڈالتے ہوئے دوسرے ممالک کے اہم تاریخی مقامات کی تعریفیں کرنے لگیں۔

ویسے بھی ہمیں دال روٹی کھانا بہت پسند ہے۔ کسی شہر کے بارے میں کوئی موقف اس وقت تک نہیں اختیار کیا جا سکتا کہ جب تک خود اپنی آنکھوں سے اس کا عملی تجربہ نہ کر لیں۔ کیونکہ وہاں جا کے جو احساس ہوا، جو محسوس کیا گیایا کرایا گیا، ان کو اس طرح سے بیان نہیں کیا جاسکتا کہ ہم کسی شہر کے کتنے مشہورمقامات سے گزرے، کون سی چیز کھائی، وہ کتنی ذائقہ دار یا بدذائقہ ثابت ہوئی، کون سے مہنگے یا سستے ہوٹل یا علاقے میں گئے، تفریحی مقامات پر جا کے جو روحانی خوشی محسوس ہوئی، یہ وہ محسوسات ہیں جو ہر شخص کے جدا گانہ ہوتے ہیں۔ انہیں الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

کیونکہ وہ جو کہتے ہیں نا کہ حسن تو دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ جو چیز یا منظر ہمیں بھلا لگے، وہ آپ کو بھی اچھا لگ رہا ہو۔

ہم جن شہروں گے۔ زخوابوں کا شہر قرار دے رہے ہیں، وہ لاہور اور اسلام آباد ہیں۔

اب اگر لاہور کی بات کی جائے تو لاہور میں قدیم زمانے کی اتنی یادگاریں ہیں کہ بندہ اس وقت جب یہ عمارتیں بنیں اور پھر وہاں سے کتنی نسلیں گزریں، ان کا تصور کر کے ہی کھو سا جاتا ہے۔ مثلاً شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، شیش محل، بارہ دری، جھروکے، مزار اقبال، شالامار باغ، اور داتا دربار کے ساتھ واقع قدیم محلے، مال روڈ، کچہری، عدالت عالیہ کی عمارت، یہ سب وہ تاریخی مقامات ہیں کہ جن کے ایک ایک گوشے کو گھنٹوں دیکھیں لیکن پھر بھی کوئی نیا پہلو سامنے آ جاتا ہے۔

وہ احساس کہ ان مقامات سے کتنی نسلیں، کتنے لوگ گزرے ہیں۔ ان کی کیسی زندگی تھی، وہ اپنے زمانے کے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے۔ کیسے ان کے شب و روز گزرتے ہوں گے۔ پھر چونکہ عکس نگاری کی تیکنیک کوئی سو ڈیڑھ سو سال پرانی ہے تو یہ سوچ کہ کیا واقعی اس دور میں یہاں کے رہنے والوں پر کیا بیتی ہو گی اور کیا جو واقعات ہم یہاں کے رہنے والے عام افراد اور بادشاہوں کے متعلق پڑھتے ہیں، کیا وہ واقعی سچے ہیں یا پھر انارکلی اور شہزارہ سلیم کے عشق کی فرضی داستان کی طرح یہاں رہنے والوں کے بارے میں بھی کسی نے داستانیں گھڑ دی ہیں۔

یا وہ واقعی انہی حالات سے گزرے تھے۔ ان تاریخی مقامات کو دیکھتے ہوئے کچھ اسی قسم کے احساسات و خیالات ہو جاتے ہیں۔ یہ بادشاہی مسجد کی جن سیڑھیوں سے ہم گزرے ہیں، وہاں پر کتنی نسلوں نے قدم رکھے ہوں گے۔ اس کے سامنے باغ میں جس درخت کے سائے تلے گھاس پر ہم بیٹھے ہیں، وہاں کتنی ہی نسلوں اور مقامات سے تعلق رکھنے والے افراد بیٹھے ہوں گے۔ ان جگہوں پر ہمارے علاوہ دیگر سیاح بھی ہوتے تھے جو کہ یہاں آ کر دوڑ رہے ہوتے تھے، کھیل کود یا خوش گپیاں کر رہے ہوتے یا کوئی چیزیں کھا رہے ہو تے جبکہ ہم ان قدیم مقامات کے حسن میں کھو کر کھانے پینے کا ہوش بھلا بیٹھتے۔

ہم داتا صاحب سے نئی انار کلی تک پیدل مارچ کرتے ہوئے شہرکے نظارے دیکھتے رہے، مال روڈ، کچہری، این سی اے کالج لاہور، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج اور شہر کے دیگر تاریخی مقامات کا حسن اپنے دل و دماغ میں اتارتے رہے۔ یہ بات بے دھڑک کہی جا سکتی ہے کہ آثار قدیمہ کے معاملے میں کوئی شہر لاہور کا مقابلہ نہیں کر سکتا

اسلام آباد لاہور سے بالکل مختلف احساسات قائم کرتا ہے۔ ایک تو یہ کوئی خاص آثار قدیمہ کے حامل مقامات نہیں رکھتا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملے میں یہ شہر، لاہور کے بالکل الٹ ہے۔ یہ کوئی پچاس سال پہلے ہی تعمیر ہوا ہے اور یہ شہر اپنے طرز تعمیر، قدرتی نظاروں اور سبزہ زاروں کی وجہ سے نگاہوں اور ذہن کو ایک خاص خوش گوار تاثر قائم کرتا ہے۔ دور سے مارگلہ کی پہاڑیوں کو دیکھیے تو ان پہاڑوں کے دلکش منظر میں انسان کھو سا جاتا ہے۔

اسی طرح صاف ستھرے درختوں اور پھولوں سے سجی سایہ دار سڑکوں پر چلنے کا اپنا مزا ہے۔ ایف نائن فاطمہ جناح پارک کا اپنا مزا ہے۔ اتنا بڑا پارک کہ اگر آپ پیدل چلیں تو شاید ہی پورے پارک کا ایک دن میں احاطہ کرسکیں۔ گولڑہ شریف ای الیون کی طرف سے اس پارک کی جانب جانب جائیں تو راستے میں سڑک پر برگد کا ایک بہت بڑا درخت آتا ہے، اس درخت کی گھنی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھنے کا اپنا ہی الگ مزا ہے۔ آپ کے سامنے نئے اور جدید ماڈل کی گاڑیاں زوں زوں کرتی گزر رہی ہوتی ہیں اور آپ اس کئی سو سالہ پرانے درخت کی چھاؤں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔

شکر پڑیاں کی سیر کا الگ ہی مزا ہے۔ یہاں نشان پاکستان (پاکستان مونیومنٹ ) بھی ہے۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر پیدل چلتے ہوئے ”دل دل پاکستان“ اور ”یہ شام پھر نہیں آئے گی“ کی ویڈیوز ذہن کے پردے پر آ جاتی ہیں جو یہیں فلم بند کیے گئے تھے۔ اب آپ ان کو استعارے کے طور پر لیں یا یوں ہی ذہن میں سما نے والے گانے کہیں، یہ آپ کی مرضی پر منحصر ہے۔

اسی طرح اسلام آباد کے گولڑہ سٹیشن کی اپنی شان ہے۔ پہلی تو یہ کہ اسے دیکھتے ہی جنید جمشید کے گانے ”تم دور تھے“ کی ویڈیو نگاہوں میں گھومنے لگتی ہے۔ اگر آپ کے موبائل میں یہ ویڈیو ہو تو آپ وہیں بیٹھ کر اسے دیکھ کر اس سے ایک الگ قسم کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ پھر ہر چند گھنٹوں کے بعد آتی جاتی مال گاڑیاں اور مسافر ٹرینیں کہ جن کو دیکھتے ہی یہ خیال آتا ہے کہ گزشتہ ایک سو اڑتیس سالوں میں اس سٹیشن کی ان پٹریوں پر کتنے ہی مسافر گزرے ہوں، وہ خدا جانے کس جگہ پہنچنے کے لیے یہ سفر کر رہے ہوں گے اور انہیں اپنی منزل مقصود ملی بھی ہو گی کہ نہیں۔

اسی اسٹیشن پر موجود ریلوے میوزیم، کہ جہاں موجود ریلوے کی قدیم اشیاء اور تصاویرکو دیکھ کر انسان مہبوت سا ہوجاتا ہے اور گھنٹوں دیکھنے پر بھی بے زار نہیں ہوتا۔ اس دور کے آلات مثلاً سگنل لالٹین، ریڈیو سیٹ، کھانے پینے کے برتن، قدیم تصاویراور دیگر پرانا قدیم سامان جو آپ کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ اس سٹیشن اور یہاں پر قدیم اشیاء کو دیکھ کر انسان کی تخیل یک دم پرواز کر جاتی ہے کہ اس دور کے ہنر مند کتنے زبردست تھے کہ ان کی بنائی ہوئی اشیاء امتداد زمانہ سے بچ گئی ہیں جبکہ آج کل کی بیشتر اشیاء ناپائیدار ہوتی ہیں۔

اسی طرح اس سٹیشن پر موجود ریلوے کی قدیم بوگیوں اور انجنوں کو دیکھنے اور ان میں بیٹھنے کا اپنا ہی مزا ہے کہ پہلی سوچ یہ آتی ہے کہ قدیم زمانے میں کتنی سادگی لیکن پرکاری سے بھرپور اشیاء بنتی تھیں جو بہت پائیدار ہوتی تھیں۔ جب یہ بوگیاں باقاعدہ چلتی ہوں گی توان بوگیوں پر کتنے بچے، جوان اور بوڑھے آتے جاتے ہوں گے۔ اب خدا جانے، ان میں سے کتنے مٹھی بھر قید حیات بھگت رہے ہوں گے۔ اسی طرح سٹیشن پر موجود برگد کے بڑے بڑے درخت، کہ جن کی گھنی چھاؤں میں گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں بھی بیٹھیں تو گرمی کا احساس نہیں ہوتا۔

ان درختوں پر اچھلتی کودتی، دانہ دنکا چگتیں معصوم سی پیاری چڑیاں، بھاگتی دوڑتی گلہریاں، بلبلیں، کوے اور دیگرپرندے جو اپنے معمولات زندگی میں مشغول ہوتے ہیں۔ سٹیشن پر موجود آتی جاتی ٹرینوں کو رکنے یا آگے جانے کی جھنڈی دکھاتا، ہینڈل کے ذریعے پٹریاں بدلتا عملہ، سٹیشن ماسٹر اور قلی، جن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وقت گویا تھم سا گیا ہے کہ کتنی ہی نسلیں اسی کام میں آئیں اور گزر گئیں، پر یہ کام ویسے کا ویسا ہو رہا ہے۔ صرف وقت اور انسان ہی بدلے ہیں لیکن باقی سب کچھ ویسا ہی منظر ہے کہ جیسا آج سے ایک سو اڑتیس سال قبل جب یہ سٹیشن قائم ہوا تو اس وقت یہاں آنے والے لوگ بھی یہی منظر دیکھا کرتے ہوں گے۔ زیادہ سے زیادہ یہی تبدیلی آئی ہے کہ اس زمانے میں دخانی انجن چلتے تھے اور اب ڈیزل انجن چلتے ہیں۔

اسلام آباد بڑی بڑی اونچی عمارتوں کا شہر ہے۔ ان عمارتوں میں کاروباری دفاتر اور رہائشی فلیٹ ہوتے ہیں۔ یہ عمارتیں ویسے تو شاندار لگتی ہیں لیکن اونچی دکان اور پھیکا پکوان کے مصداق ان عمارتوں میں گیس لیک ہونے سے آگ لگنے یا کسی دوسری ہنگامی حالت میں خروج کا خصوصی راستہ نہیں بنا ہوتا، کسی بھی وقت آگ لگنے کی وجہ سے اگر عام راستہ بند ہو جائے تو لوگوں کے لیے جان بچانے کا متبادل راستہ نہیں رہتا۔ بعض عمارتوں میں تو بالکونی کی حفاظتی دیوار اور سیڑھیوں کے ساتھ ریلنگ بھی نہیں لگی ہوتی جو کسی بھی وقت کسی بچے، بوڑھے، کمزور فرد کے لیے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ارباب بست و کشاد سے ہماری دست بستہ عرض ہے کہ ان عمارتوں میں کسی ہنگامی حالت میں نکلنے کی الگ سیڑھیاں اور ان کے ساتھ دیگر بین الاقوامی مروجہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

لگے ہاتھوں مری کی سیر کو بھی گئے، یہ جگہ سیر و تفریح کے لیے تو اچھی ہے لیکن آتے جاتے ہوئے ٹیڑھے میڑھے راستے، جن کی دوسری طرف گہری کھائیاں ہیں، کو دیکھتے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ یہاں کے ڈرائیور بڑی بے پروائی سے گاڑیاں چلاتے ہیں جس سے حادثات ہونے کا خدشہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ اگر راستے میں کھائیوں کی جانب جفاظتی باڑ لگا دی جائے تو اس سے حادثے کی صورت میں لوگوں کے بچ جانے کا امکان خاصا بڑھ جائے گا۔ اس کے علاوہ راستے میں کچھ مخصوص فاصلے ابتدائی طبعی امداد کا مرکز یا کوئی میڈیکل سٹور ہونا چاہیے تاکہ اگر کوئی حادثہ ہو تو فوری ابتدائی طبعی امداد دی جا سکے۔

سیاحوں کے لیے رہائشی ہوٹل، اور کھانے پینے کی زیادہ سہولیات نہیں ہیں۔ غیر ضروری طور پر مہنگی غیر معیاری اشیاء بکتی ہیں۔ ہم جس زمانے میں گئے، تب اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں بیس روپے پیالی چائے ملتی تھی، لیکن مری میں بہت مشکل سے چالیس روپے فی پیالی چائے مل سکی۔ اسی طرح دیگر کھانے پینے کی اشیاء کی زیادہ دکانیں نہیں تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *