انارکی: ایسٹ انڈیا کمپنی سے بحریہ ٹاؤن تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ولیم ڈال رمپل کی کتاب, “دی انارکی” پڑھنے کا موقع ملا. اس کتاب نے ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی سرکار کے کردار پر دنیا میں ایک نیا بحث چھیڑ دیا ہے. اس کتاب کی خاص خوبی یہ ہے کہ اس نے ہندوستاں میں برٹش راج کے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جو عمومی طور بہت کم زیر بحث رہے ہیں. یہ ہی وجہ ہے آج تک ہندوستان کی جدید تاریخ کہ مطلق جو بھی چند کتابیں پڑھنا نصیب ہوئی ہیں ان سب میں سے, “دی انارکی” بہت ہی زیادہ پسند آئی. سبب یہ ہے کہ اکثر تاریخ کی کتابیں حکمرانوں کی تعریف سے بھری ہوتی ہیں یا غیر مکمل تحقیق پر مبنی ہوتی ہیں. یہ کتاب اس حوالے بھی منفرد ہے کہ ولیم ڈال رمپل نے مسلسل چھ سال تک ایسٹ انڈیا کمپنی کے آرکائیو (تاریخی رکارڈ) کو چھانا جو برطانیہ اور انڈیا کی لائبریریوں میں موجود تھا.

امر جلیل سمیت پاکستان کے کافی بڑے نامور لکھاری اور دانشور برطانوی راج کو ترقی اور سماجی بہتری کا دور سمجھتے ہیں. کیوں کہ اس دور میں ریلوے, آبپاشی کا نظام, قابل اور اہل بیوروکریسی کے ساتھ جمہوریت کا نظام متعارف ہوا تھا. لیکن برطانوی راج کا یہ مثبت تصور آہستہ آہستہ ٹوٹنا شروع ہوتا ہے جب ہم “دی انارکی” کا مطالعہ کرتے ہیں. جس طرح مصنف نے برطانوی راج کے کالے کرتوتوں سے پردہ ہٹایا ہے وہ بات قابل تعریف ہے.

مثلاً سنہ 1772 کے دوران بنگال میں بہت بڑی قحط سالی تھی جس میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ موت کا شکار ہوئے لیکن جابر, ظالم اور لالچی ایسٹ انڈیا کمپنی والے لوگوں سے ہمدردی کرنے کہ بجائے ان کے اوپر تشدد کر کے مکمل ٹیکس وصول کیا! بھوک سے مرنے والے لوگوں کی لاشیں گلیوں اور سڑکوں پر پڑی رہتی تھیں لیکن ان کو کوئی اٹھانے والا نہیں تھا. حالات اس حد تک خراب تھے کہ کتے لاشوں کو کھاتے نظر آتے تھے! یہ خبر جب لندن میں کمپنی کے ڈائریکٹرز کو سنائی گئی کہ سخت قحط سالی کے باوجود مکمل ٹیکس وصولی کی گئی ہے تو انہوں نے ندامت یا افسوس کے بجائے خوشی کا اظہار کیا. اور جلد ہی اس خبر کے بعد کمپنی کے شراکت داروں کے نفع میں دس سے تیرہ فیصد اضافے کا اعلان بھی کیا. یہ واقعہ کمپنی کی انسان دوست پالیسیوں اور اعلی کاروباری اخلاقیات کی ایک جھلک بھی ہے.

دوسری طرف لکھنؤ کے نواب تھے جو بڑی بڑی عمارتیں اس نیت سے بنواتے تھے کہ قحط کی مشکل گھڑی میں لوگوں کو روزگار ملے. بڑا امام باڑا یا آصفی مسجد بھی اسی نیت کے تحت بنوائی گئی تھی. مزدوروں کو اینٹیں اور پتھر اٹھانے کی اجرت ایک روپیہ ملتی تھی. کمپنی نے عوام کو کوئی ریلیف دینے کے بجائے ڈنڈے کے زور پہ مکمل ٹیکس کی وصولی کی جیسے آج کل عمران خان اپنے “سلیکٹرز” کے خرچے پورے کرنے کے چکر میں مسلسل تیل, گیس, بجلی وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ کر رہا ہے.

یہ بات بھی محسوس کرنے سے قاصر ہے عوام اس بڑھتی مہنگائی کا بوجھ کیسے برداشت کریں گے جو پہلے سے ہی بیروزگاری اور کم آمدن کو جھیل رہے ہیں. بظاہر تو Colonial دور نہیں رہا لیکن دیکھا جائے تو آج بھی حکمرانوں کی سوچ اور اعمال ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹرز سے زیادہ مختلف نہیں ہیں. کیوں کہ عوامی مفادات ان کی ترجیحات میں شامل نہیں.

ایک تاثر یہ بھی قائم ہے کہ برطانیہ بطور ملک اس خطے پر قابض ہوا لیکن ولیم اپنی اس کتاب میں اس کی نفی کرتا ہے. ہندوستاں پر قبضہ ایسٹ انڈیا نامی ایک پرائیویٹ کمپنی کی کارروائی تھی. ہندوستاں میں برطانوی راج 1858ء میں شروع ہوتا جب برٹش گورنمنٹ کمپنی کے سپاہیوں کی بغاوت کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کو اپنی تحویل میں لیتی ہے. جسے ہم برٹش راج کہتے ہیں وہ صرف نوے سال تک محیط ہے یعنی 1858ء سے 1947ء تک. اس سے پہلے ڈھائی سو سال تک ایک پرائیویٹ کمپنی راج کرتی رہی. ایسٹ انڈیا کمپنی کا لندن میں ایک چھوٹا سا دفتر تھا جس میں ڈیڑھ سو برس صرف 35 مستقل ملازم تھے. یہ کتنی حیران کن بات ہے ایک معمولی نجی کمپنی طاقتور مغل سلطنت کا تختہ الٹ دیتی ہے!

یہ بات بھی اکثر و بیشتر زیر بحث آتی رہتی ہے کہ کیا انگریز پہلے دن سے ہندوستاں پر قبضے کا ارادہ رکھتے تھے. اس کتاب کے مطابق ایسا کچھ نہیں تھا. بلکہ برصغیر پر قبضے کی شروعات محض ایک اتفاق اور بدلتے حالات کی پیداوار تھی. اس بات کی تفصیل میں جانے سے پہلے ہندوستاں میں یورپ کے لوگوں کی آمد کی مختصر تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تاکہ آگے آنے والے بات کا پس منظر سمجھ سکیں. سب سے پہلے ہندوستاں میں کاروبار کے سلسلے میں واسکوڈے گاما (Vasco D Gama) اپنے ساتھیوں کے ساتھ آئے. یہ پرتگیز نسل کا تھا. اس طرح پھر فرنچ, ڈچ اور انگریز آئے. آپ یہ بات سن کر شاید حیران ہوں کہ یورپی لوگ جو تہذیب اور سمجھداری کی علامت ہیں وہ آپس میں ایسے لڑتے تھے جیسے آج کل پاکستانی اور ہندوستانی لوگ ایک دوسرے نفرت کرتے ہیں. مغل سرکار یورپی لوگوں کی ایسی حرکات پر برہم ہوا کرتی تھی. ایک بار اکبر بادشاہ نے ان کو تھوڑی تہذیب سکھانے کا ارادہ کر لیا لیکن یہ سوچ کر منصوبہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ کام مشکل ہے.

اب واپس اپنے پہلے سوال کی جانب چلتے ہیں کہ کیا انگریزوں کا اس خطے پر قبضے کا ارادہ تھا یا نہیں. ولیم لکھتے ہیں کہ فرانس اور برطانیہ کے درمیاں جنگیں لگتی رہتی تھیں. ان دونوں برطانیہ کو اطلاع ہوا کہ فرنچ بحری جہاز ہندوستاں کی طرف نکل چکے ہیں جو وہاں برطانیہ کے قائم کاروباری اڈوں پر حملہ کریں گے. ایسٹ انڈیا کمپنی نے برٹش سرکار کی خدمت میں مدد کی درخواست رکھی, جو فوراً منظور ہو گئی. رابرٹ کلائیو رائل نیوی کے ساتھ ہندوستاں کی جانب نکل پڑے. جب وہاں پہنچا تو کیا دیکھا کہ وہاں کوئی فرنچ جہاز نہیں تھے. رابرٹ حیراں ہوا یہ سب دیکھ کر. حقیقت یہ ہے کہ فرنچ بحری جہاز کینیڈا کی طرف گئے تھی, ان کے متعلق ہندوستاں آنے والی خبر افواہ تھی.

بہرحال اسی دنوں میں بنگال کے بدمزاج اور بدکردار نواب سراج الدولہ مختلف ناراضگیوں کے باعث ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساحلی اڈے والے گودام اور آفس (ولیم فورٹ) پر حملہ کر کے اپنی تحویل میں لے لیتا ہے. کمپنی کے گورے ملازمین کو ایک چھوٹے کمرے کے اندر بند کروانے کے بعد ان کو بھوکا اور پیاسا رکھ کر مروایا جن کا تعداد چالیس سے زیادہ بتائی جاتی ہے. اس واقعے کو برطانیہ میں “بلیک ہول” کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے. مرنے والوں میں سے ایک نوجوان کتاب کے مصنف کے قبیلے سے بھی تھا.

رابرٹ کلائیو جو فرنچ سے لڑنے آیا تھا لیکن وہ تو تھے نہیں. رابرٹ جو ذہنی طور جنگ کے لیے تیار بیٹھا تھا جب اس کو خبر ملتی ہے کہ نواب سراج الدولہ نے برطانوی دفتر اور اڈوں پر قبضہ کر لیا ہے تو یہ نواب سے جنگ کرتا ہے اور کلکتہ میں چھینے گئے کمپنی کے اثاثے واپس کرواتا ہے.

ابھی انگلینڈ واپسی کا سوچ ہی رہا تھا تو رابرٹ کو ایک پیغام ملتا ہے کہ برطانیہ اور فرانس کی یورپ میں جنگ چھڑ گئی ہے لہذا دشمن کو جنتا نقصان پہنچا سکتے ہو, پہنچاؤ. نواب سراج سے صلح نامہ طے کرنے بعد رابرٹ کلکتہ سے تیس کلومیٹر دور فاصلے پر قائم چندن نگر شہر میں فرنچ رہائش اور اڈوں پر حملہ کرنے کے لیے نکل پڑتا ہے اور اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوتا ہے. اس کامیابی پر رابرٹ کو نواب سراج الدولہ مبارک باد کے ساتھ تحفہ بھی بھیجتا ہے.

اب دوبارہ رابرٹ انگلینڈ واپسی کا سوچ ہی رہا تھا تو اس کو ایک اور خفیہ پیغام ملتا ہے لیکن اس بار پیغام برٹش سرکار کی جانب سے نہیں بلکہ نواب سراج الدولہ سے ناراض ان کے سپاہ سالار میر جعفر کا ہوتا ہے. میر جعفر رابرٹ کلائیو کوایک بڑی آفر کرتا ہے کہ اگر وہ (رابرٹ) نواب سراج کا تخت الٹ دے تو اس کو ڈھائی کروڑ انعام ملے گا. آدھی رقم وہ اپنے پاس رکھے اور آدھی کمپنی کو دے. رابرٹ نے اس آفر کو قبول کر لیا اور یہاں سے برصغیر کی تاریخ ایک نیا موڑ لیتی ہے.

East-India-House-London-Leadenhall-Street-Thomas-1817

ولیم لکھتے ہیں کے میر جعفر ان پڑھ جرنیل تھا جس کو سیاست کی اتنی سمجھ بوجھ نہیں تھی. ویسے میر جعفر عرب نسل سے تھا اور عراق کے شہر نجف سے تعلق رکھتا تھا. اس سازش کا اصل ماسٹر مائنڈ جگت سیٹھ تھے. اس سے پہلے بھی جگت سیٹھ کامیاب سازشیں کر چکے تھے. نواب سراج کے سسر علی وردی خان کو بھی انہوں نے ایسی سازش کے ذریعے تخت پہ بٹھایا تھا. علی وردی خان کی وفات کے بعد جگت سیٹھ نواب سراج سے تعلقات خراب ہو گئے تھے اس لیے اس کو ہٹانا چاہتے تھے.

یہی وجہ ہے رابرٹ کلائیو 1757 میں لگنے والے پلاسی جنگ آسانی سے جیت گیا. حقیقت میں یہ جنگ نہیں بلکہ ایک محلاتی سازش (Palace Coup) تھی. جنگ جیتنے کے بعد رابرٹ مرشد آباد جاتا ہے جو اس وقت بنگال کا تخت گاہ تھا. دونوں ہاتھوں سے خزانے لوٹتا ہے. چالیس کشتیاں دولت سے لاد کر پہلے کلکتہ پھر انگلینڈ بھیجتا ہے. اس ایک لوٹ مار کے واقعے نے رابرٹ کو نا صرف برطانیہ بلکہ یورپ کے صف اول کے امیر ترین لوگوں میں شامل کر دیا.

اس کتاب پڑھنے سے یہ بات تو واضح ہوئی کہ انگریزوں کے برصغیر پر قبضے کے عزائم نہیں تھے لیکن جیسے جیسے ان کو کامیابیاں ملتی گئیں اور ان کی طاقت اور دولت میں اضافہ ہوتا گیا ان کے ارادے حالات کے ساتھ بدلتے گئے. پلاسی جنگ کے آٹھ سال بعد بکسر جنگ لگتی ہے جس میں ٹیپو سلطان بھی شکست کھاتا ہے. یہ جنگ ہارنے کے بعد مغل سلطنت کے تین خوشحال اور امیر صوبے کمپنی کے زیر انتظام آ جاتے ہیں. پلاسی انگریزوں کی پہلی اور آخری جنگ تھی جو انہوں نے خود لڑی تھی باقی ساری جنگیں ہندوستاں کے سیٹھوں کے پیسے اور کمپنی میں بھرتی کیے ہوئے مقامی لوگوں کی مدد سے جیتی گئیں.

ایسٹ انڈیا کمپنی کے متعلق کچھ ایسے حقائق معلوم ہوتے ہیں جن کا تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتا. جب 1803ء میں کمپنی نے دہلی فتح کیا تو اس وقت کمپنی کے پاس دو لاکھ نجی سپاہی تھے جب کہ برطانیہ کی اس وقت ٹوٹل فوج کا تعداد ایک لاکھ تھا. مطلب ایک نجی کمپنی کے سپاہی اپنے ملک کی فوج سے تعداد میں زیادہ تھے! ہے نا حیرانی کی بات?! ولیم لکھتے ہیں کہ کمپنی کی کامیابی کے دو بڑے راز تھے ؛ ایک ہندوستانی سیٹھوں کا پیسہ دوسرا مقامی سپاہی.

لیکن یہاں پر یہ سوال ریسرچ طلب ہے کہ مقامی لوگوں نے انگریزوں کا ساتھ کیوں دیا? آگے ولیم لکھتے ہیں کہ اٹھارہویں صدی میں نادر شاہ نے مغل سلطنت کو لوٹ کر تباہ کر دیا. اس کے بعد سلطنت ایسے بکھر گئی جیسے چھت سے کوئی آئینہ نیچے پھینکے اور وہ ریزہ ریزہ ہو جائے. جب مغل سلطنت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ گئی تو برصغیر میں انارکی نے جنم لیا جو اس کتاب کا عنوان بھی ہے. انگریزوں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا.

اس کے علاوہ ایک اور بات ذہن نشیں کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ نجی کمپنی کا اول اور آخری مقصد نفع کمانا ہوتا ہے. کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی وغیرہ ونڈو ڈریسنگ یا دکھاوا ہوتا ہے. کارپوریشن (بڑی کمپنی یا کمپنیاں ) اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے لابنگ, کرپشن اور سیاستدانوں کی وفاداریاں خریدتی ہیں. مذکورہ حرکات کی شروعات بھی ایسٹ انڈیا کمپنی نے کی تھی. 1693ء میں دنیا کا پہلا کرپشن کیس بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف ہوا اور مزے کی بات یہ کہ وہ ثابت بھی ہوا.

کمپنی نے برطانوی پارلیمنٹ کے پچیس فیصد ممبرز کو کمپنی میں شیئرز دے کر اپنے ساتھ ملا لیا اور ان کو سالانہ بارہ سو پاؤنڈ دے کر اپنے فائدے میں قانون سازی کرواتے تھے. کمپنی پر رشوت دینے اور بدعنوانی والے الزام ثابت ہونے پر ان کا گورنر جیل بھیجا گیا. افسوس کہ سزا ملنے کے باوجود بھی کارپوریشن کی طاقت میں مزید اضافہ ہوا. آج کل یہ کارپوریشن گورنمنٹ بنوانے اور گرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں. وقت کی ساری حکومتیں ان کے آگے بے بس نظر آتی ہیں.

پاکستان میں بحریہ ٹاؤن کی ہی ایک مثال لے لیں. سارے سیاسی, عسکری, مذہبی, صحافتی اور قانونی لیڈر کمپنی کے ساتھ مل کے بزنس کرتے ہیں. عمران خان کی سرکار نے بھی ان کے آگے گھٹنے ٹیک دیے جو بڑے لوگوں کو پکڑنے کی بڑی بڑی باتیں کرتا ہے. ڈان اخبار کی وہ خبر اس بات کا ثبوت ہے کس طرح کابینہ نے خاموشی سے یہ اجازت دے دی کہ ملک ریاض کی برطانیہ میں فروخت کی ہوئی ملکیت کی رقم سپریم کورٹ کی قسطوں میں جمع کی جائے گی! اب وفاقی سرکار بحریہ ٹاؤن کے ساتھ مل کر ہاؤسنگ پروجیکٹ بھی شروع کرنے والی ہے.

ولیم لکھتے ہیں کہ برطانیہ کی ترقی کے پیچھے برصغیر کی لوٹی ہوئی دولت ہے. یہ ایک عام رائے ہے کہ مغلوں نے صرف محل بنوائے اور معیشت پر کوئی توجہ نہیں دی. لیکن سچائی اس تصور (Perception ) کے برعکس ہے. بنگال میں کپڑے کی بہت بڑی صنعت تھی جس میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ کپڑا بنانے کی مزدوری کرتے تھے. ساری دنیا میں ہندوستاں کا کپڑا فروخت ہوتا تھا. اس وقت جو عالمی کاروبار تھا اس میں ہندوستان کا چالیس فیصد تک حصہ تھا جب کہ انگلینڈ کا شیئر چار فیصد تھا.

کہنے کا مطلب ہندوستاں ایک ساہوکار خطہ تھا. انگلینڈ تو یورپ کے اندر بھی گنتی میں نہیں تھا کیوں کہ اس وقت فرانس, اسپین, اٹلی اور ہالینڈ امیر ملکوں میں شامل تھے. مزید اس بات سے اندازہ لگائیں کہ برطانیہ کی معیشت کا ہندوستان کے اوپر کتنا انحصار تھا. جب 1772-3ء کے دوران ہندوستان میں قحط سالی نے تباہی مچائی تو کاروبار سارے بیٹھ گئے. اس کا اتنا شدید اثر تھا کہ یورپ کے اندر تیس بنک بند ہو گئے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں انگریزوں نے اس خطے کو ترقی دلوائی ان کی رائے یہ کتاب پڑھنے بعد ضرور تبدیل ہوگی. جب یہ خطہ کمپنی سرکار کے قبضے میں آیا اس وقت ہندوستان کا عالمی کاروبار میں چالیس فیصد شیئر تھا اور جب 1947 میں یہاں سے انگریز واپس گئے تو صرف چھ فیصد بچا. یہ حقائق اس بات کی عکاسی کرتے ہیں ہے کہ کمپنی سرکار نے ایک امیر خطے کو ایک غریب خطے میں تبدیل کر کے چھوڑا. ولیم لکھتے ہیں کہ انگریزی زباں میں سب سے پہلے جو مقامی زبان کا لفظ شامل ہوا وہ تھا, “لوٹ”. جسے ہم عام طور پہ لوٹنا یا چھیننا کہتے ہیں. اس الفاظ سے ہی اندازہ لگائیں کہ کمپنی سرکار نے اس خطے کے ساتھ کیا! لوٹ آج تک بھی جاری ہے لیکن اب Modus Operandi یعنی طریقہ واردات تبدیل ہو گیا ہے. آخری بات یہ کتاب بڑھنے کے بعد آپ کو اس سوال کا جواب کسی حد تک مل جائے گا کہ ہم ایک جمہوری ریاست طور پر ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں یا ابھی تک کمپنی ماڈل کے طرز حکمرانی میں پھنسے ہوئے ہیں.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اصغر سومرو، کراچی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *