پانی کی قلت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاق اور سندھ کی حکومت کے درمیان پانی کی قلت کے سبب کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں اطراف سے بیان بازی جاری ہے۔ اسی دوران ایشیائی ترقیاتی بینک نے دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گندم، مکئی، گنا، کپاس، چاول اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں چھ فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اے ڈی بی پی کی رپورٹ میں پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی تغیر سے زراعت کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کو روکنے کے لئے اقدامات کرے۔

جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان پانی کی سنگین کمی سے دوچار دس ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک میں فی کس آبادی کے تناسب سے پانی کا ذخیرہ 1000 کیوبک میٹر سالانہ رہ جائے تو اسے پانی کی کمی کا شکار تصور کیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ہمارے ہاں ابتدائی برسوں میں آبادی کے تناسب سے دستیاب پانی کی شرح فی کس 5650 کیوسک میٹر رہی۔ یہاں تک کے ستر کی دہائی تک بھی آبادی میں اضافے کے باوجود یہ شرح 5000 کیوبک میٹر کے آس پاس رہی۔

اسی دورانیے میں ملک میں موجود دونوں بڑے ڈیمز منگلا اور تربیلا قائم ہوئے۔ پانی کے دستیاب ذخائر اور آبادی میں اضافے کے درمیان تناسب قائم رکھنا انہی ڈیمز کی بر وقت تعمیر سے ممکن ہوا۔ جبکہ اس وقت موجود پانی اور تازہ مردم شماری کے تناسب سے پانی کے ذخائر اعداد و شمار کے مطابق 850 کیوبک میٹر سالانہ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ ایک انتہائی خطرناک اشارہ ہے اور صورتحال اگر، جوں کی توں رہی تو آئندہ دس برس میں ملک میں غذائی قلت کے ساتھ پینے کے پانی کی کمی سے اموات کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

پانی کی کمی صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمگیر مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی نظام سے چھیڑ چھاڑ کی بدولت اوزون کی تہہ کو پہنچنے والے نقصان کے سبب درجہ حرارت میں اضافے، درختوں کی بے دریغ کٹائی، آبادی میں بے تحاشا اضافے، جیسے اسباب اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ پاکستان کے متعلق بھی خبردار کیا جا رہا ہے اگر یہاں آئندہ دس برس میں ڈھائی سے تین بلین درخت نہ لگائے گئے اور موجودہ درجہ حرارت میں اضافہ اسی تناسب سے جاری رہا تو ہمارے ہاں سالانہ بارشوں کا اوسط دورانیہ جو پہلے ہی بمشکل ساٹھ سے ستر دنوں کے درمیان ہے، اس میں نصف کمی آ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ درجہ حرارت میں اضافے سے اگلے پچاس سال میں گلیشیئرز بھی مکمل پگھل سکتے ہیں۔ آج سے چند سال قبل تک آنے والے دور میں شدید ترین ہونے والے اس قسم کے مسائل کے بارے میں عوام میں تشویش نہیں تھی، خوش آئند ہے کہ عوامی سطح تک معاملے کی سنگینی کا احساس ہو چکا ہے۔ حالیہ شجر کاری مہم میں عوام کی دلچسپی اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے از خود آگاہی مہم چلانا اس کا ثبوت ہے۔ اس باب میں گزشتہ حکومتوں کی نا اہلی سے نظر چرانا بھی مگر ممکن نہیں، اگر انہوں نے دستیاب پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ کاوش کی ہوتی تو آج اس کیفیت سے بچا جا سکتا تھا۔

تربیلا اور منگلا تین دہائیوں تک ملکی ضرورت پوری کرتے رہے۔ آبادی میں اضافے اور وقت گزرنے کے ساتھ ان ڈیمز میں سالٹ بھر جانے کے سبب لیکن اب یہ ناکافی ہیں۔ پاکستان میں نئے آبی ذخائر نہ بننے کی وجہ سے سالانہ 21 ارب ڈالر مالیت کا پانی سمندر میں شامل ہو جاتا ہے۔ چند برس قبل ارسا نے سینیٹ کے اجلاس میں بتایا تھا کہ ہر سال ضائع ہونے والے اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے منگلا ڈیم جتنے تین بڑے ڈیم درکار ہیں۔ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے دو بڑے ڈیم تربیلا اور منگلا میں بھی مٹی بھرنے کی وجہ سے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے۔

پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 30 دن کی ہے۔ دنیا بھر میں دستیاب پانی کا 40 فیصد ذخیرہ کیا جاتا ہے پاکستان دستیاب پانی کا محض 10 فیصد ذخیرہ کر سکتا ہے۔ ایک طرف پاکستان اربوں ڈالر مالیت کا پانی سمندر میں پھینک رہا ہے وہیں دوسری جانب آبی ذخائر نہ ہونے کے سبب پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب بارشیں یا بہت کم ہوتی ہیں یا پھر بہت زیادہ بارشوں سے طوفان آ جاتے ہیں۔ پاکستان میں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں 15 سے 20 فیصد کمی آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق تربیلا ڈیم میں یومیہ پانچ لاکھ ٹن مٹی پانی کے ساتھ آتی ہے۔ اسی طرح تربیلا ڈیم میں اگر مٹی آتی رہی تو 30 سال کے بعد تربیلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی۔

لہذا بہت پہلے ہی مزید ڈیمز کی تعمیر کا آغاز ہو جانا چاہیے تھا۔ جب بھی نئے ڈیمز کی تعمیر کا ذکر چھڑتا ہے سب پہلے بھاشا اور کالا باغ ڈیم کا نام لیا جاتا ہے۔ نون لیگ کے پچھلے دور حکومت میں 120 ارب روپے سے بھاشا ڈیم کی زمین خریدی جا چکی ہے اور اس کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 1400 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ لیکن بھاشا ڈیم جس علاقے میں واقع ہے اسے عالمی سطح پر متنازعہ تصور کیا جاتا ہے لہذا، کوئی عالمی مالیاتی ادارہ اس کے لئے سرمایہ فراہم کرنے پر تیار نہیں۔

اس لیے اگلے دس سال میں بھی اس کی تعمیر مکمل ہونے کا امکان نہیں۔ اس کی نسبت کالا باغ ڈیم کی تعمیر بھی قدرتی محل و وقوع کے سبب سہل ہے اور اس کی تعمیر کے لیے درکار فنڈنگ بھی آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ مسئلہ مگر یہ ہے کالا باغ ڈیم کا نام سیاسی مقاصد کی وجہ سے اتنا بدنام کر دیا گیا ہے کہ کسی حکومت کے لیے اس کا نام تک لینا ممکن نہیں۔ حالانکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر جو اعتراضات ہیں ان میں زیادہ جان نہیں اور اگر خلوص نیت سے تمام اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھیں تو ان تمام خدشات کا حل نکل سکتا ہے۔

بہرحال پانی ذخیرہ کرنے کے لیے نئے ڈیمز راتوں رات تعمیر نہیں ہو سکتے اور جب تک نئے ذخائر تیار نہیں ہوتے قلت آب کی جو صورتحال ہے ہر شہری کا فرض ہے کہ میسر پانی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ ہماری ملکی معیشت میں زرعی شعبے کا حصہ تیس فیصد ہے، اور اس میدان میں کل ملکی پانی کا 90 فیصد خرچ ہوتا ہے۔ زراعت میں جدید طریقے مثلاً ڈرپ ایریگیشن سسٹم اور لیزر لیولنگ اپنا کر قلیل سرمایہ کاری سے اس میدان میں ضائع ہونے والے پانی کا دو تہائی بچایا جا سکتا ہے۔

جہاں نہاتے وقت دو ڈرم ضائع کیے جاتے ہیں، احساس کرنا چاہیے کہ ایک بالٹی میں بھی غسل ہو سکتا ہے۔ وضو کے لیے نل مکمل کھولنے کے بجائے آدھا کھولیں، گلاس میں اتنا پانی بھریں جتنا پی سکیں۔ صبح دوپہر شام فرش دھونے کی بجائے جھاڑو پونچے کی عادت ڈالیں۔ جب تک ڈیم کی رقم جمع نہیں ہوتی ذمہ داری کا احساس کریں اور اسراف روکیں۔ ہمارے دین کی تعلیم یہ ہے کہ نہر کنارے بیٹھ کر وضو کے لیے غیر ضروری پانی کا ضیاع بھی اسراف کے زمرے میں آتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *