حامد میر کی ملٹری سٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید، سوشل میڈیا پر ان کی حمایت اور مخالفت میں بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین نامعلوم افراد کی جانب سے چند روز قبل صحافی اور یوٹیوب ولاگر اسد طور پر کیے گئے تشدد کے بعد جمعے کی شام ان کی حمایت میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جیو نیوز سے منسلک سینئیر صحافی حامد میر نے ریاستی اداروں کے خلاف سخت تقریر کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ اب آئندہ کسی صحافی کے خلاف اس طرح تشدد نہیں ہونا چاہیے۔

جمعہ کو مظاہرے کے دوران حامد میر کی تقریر کا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور حامد میر کے حق اور مخالفت میں ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگے۔

ان کی تقریر میں کہی گئی کئی باتوں سے واضح تھا کہ ان کی تنقید کا نشانہ ملٹری سٹیبلشمینٹ ہے۔

صحافی اسد طور کے ساتھ یہ واقعہ منگل کی شب اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں پیش آیا تھا جب تین نامعلوم افراد ان کے فلیٹ میں زبردستی داخل ہوئے اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انھیں زد و کوب کیا اور پھر بعد میں باآسانی فرار ہو گئے۔

اسد علی طور نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ان پر تشدد کر نے والے افراد پستول سے مسلح تھے اور انھوں نے اسد علی طور کو پستول کے بٹ اور پائپ سے مارا پیٹا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

صحافیوں پر تشدد کے واقعات کے بعد ’آئی ایس آئی پر الزام مغربی میڈیا کا فیشن بن گیا ہے‘

کیا پاکستان میں میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ہے؟

’جب صحافی ریاستی اداروں کی زبان بولنے لگیں‘

قومی مفاد اور صحافت

یاد رہے کہ اسد طور پر ہونے والے حملے کی ابھی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حکومتی عہدیداروں کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اپریل 2014 میں حامد میر پر بھی کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں ان کو چھ گولیاں لگی تھیں۔ انھوں نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام پر عائد کی تھی۔

حامد میر نے اپنی تقریر میں کیا کہا تھا؟

صحافی اسد طور کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت اور ان سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعے کو اسلام آباد پریس کلب کے باہر سول سوسائٹی اور صحافیوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی جس دوران تقاریر اور نعرے بھی بلند کیے گئے۔

حامد میر نے اپنی تقریر میں اسد طور پر ہونے والے حملے کے بارے میں کہا کہ ایک ایسے گھر میں گھس کر حملہ کیا گیا جہاں اسد طور کی مدد کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔

حامد میر

Getty Images

انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ‘اتنے بہادر ہو تو سینہ تان کر کہو کہ میں اس کے گھر میں گھسا ہوں۔ لیکن تم اتنے بزدل ہو۔۔۔کہ تم یہ تو نہیں مان رہے کہ میں ان کے گھر میں گھسا تھا، تم کہتے ہو، اوہو، وہ کوئی لڑکی کا بھائی تھا جس نے مارا ہے۔’

یاد رہے کہ اسد طور پر حملے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی افواہیں گردش کرنے لگی تھیں جس میں کہا گیا کہ اسد طور کو کسی ذاتی معاملے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

حامد میر نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دشمن ‘سمجھتا ہے کہ میرا پتا نہیں چلے گا، میں نامعلوم ہوں۔’

اسد علی طور پر حملے کی خبر عام ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں ان پر ہونے والے حملے کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوا وہیں ان پر طرح طرح کے الزمات بھی لگائے گئے۔

ان الزامات کے تناظر میں حامد میر نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسد طور پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ سیاسی پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ تو وطن میں ہی موجود ہیں۔

یاد رہے کہ جمعے کو نشر ہونے والے بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اسد طور پر ہونے والے حملے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اس واقعے کا نوٹس لیا ہے اور ایک سینیئر پولیس افسر کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ہم نے موقع سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے جس میں یہ افراد دکھائی دے رہے ہیں، جلد ہی وہ پکڑے جائیں گے۔’

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘یہ مغربی میڈیا کے لیے ایک فیشن ہے کہ جب بھی ایسا کوئی واقعہ ہو تو وہ پاکستان کی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر الزام عائد کرے اور میں جانتا ہوں کہ ماضی میں لوگوں کے اس طرح کے الزامات لگا کر بیرون ملک امیگریشن لینے کی ایک تاریخ موجود ہے۔’

حامد میر نے ملٹری اسٹیبلشمینٹ کو کئی دوسرے معاملوں میں بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اپنی تقریر کے آخر میں حامد میر نے، جو کہ اس موقع پر شدید غصے میں نظر آ رہے تھے، ایک بار پھر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اگر صحافیوں کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کیا گیا اور ان پر گھروں میں گھس کر تشدد کیا گیا تو ‘گھر کے اندر کی باتیں آپ کو بتائیں گے۔’

حامد میر کی تقریر سے قبل منیزے جہانگیر نے بھی اپنی تقریر میں اسی طرح سخت لہجہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد صحافیوں پر اس طرح گھروں میں گھس کر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

انھوں نے آئین کے آرٹیکل 19 کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ہمارا ملک ہے اور ہم یہاں بولیں گے۔۔۔جہاں نہ فوج کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے نہ عدلیہ کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ اس ملک میں سیاست کریں گے تو ہم آپ پر بات کریں گے اور کرتے رہیں گے۔’

یاد رہے کہ پاکستانی آئین کے مطابق شق 19 آزادی اظہار رائے سے متعلق ہے اور اس کا حوالہ فواد چوہدری نے بھی اپنے انٹرویو میں دیا تھا۔

اس شق کے مطابق ’اسلام کی عظمت، یا پاکستان یا اس کے کسی حصہ کی سالمیت، سلامتی یا دفاع، غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، تہذیب یا اخلاق کے مفاد کے پیش نظر یا توہین عدالت، کسی جرم کے ارتکاب یا اس کی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق ہوگا اور پریس کی آزادی ہوگی۔‘

سوشل میڈیا پر رد عمل

حامد میر کی تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر رائے بڑی منقسم نظر آئی جہاں ایک جانب حامد میر کے حامیوں نے جیو نیوز کے صحافی کی ہمت کو سراہا اور داد دی، وہیں دوسری جانب ان کے ناقدین نے تقریر پر تنقید کی اور ان پر غلط بیانی کے الزامات لگائے۔

ایک صارف ‘آئی کراچی والا’ نے حامد میر کی تقریر کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘حامد میر نے ریاستی ادارے پر دو بڑے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ وہاں سے جواب آنا چاہیے کیونکہ الزامات ہر جگہ سنے گئے ہیں۔ جواب نہ آنے کی صورت میں ادارے کے خلاف لوگوں میں نفرت پیدا ہو سکتی ہے۔’

ایک اور صارف نے حامد میر کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے والد کہا کرتے تھے کہ ‘حامد میر اپنے والد وارث میر کی طرح ریاست اور اس کے اداروں کو جمہوریت اور آزادی صحافت کے نام پر نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ میں کبھی اپنے والد کی بات نہیں سمجھ سکی تھی تاوقتیکہ آج میں نے یہ (تقریر) دیکھ لی۔’

حامد میر کی حمایت میں ٹویٹ کرتے ہوئے محقق اور سماجی کارکن عمار علی جان نے حامد میر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کو ‘اس طرح سر عام پاکستان کی تاریخ کے مسخ شدہ بیانیہ کو چیلنج’ کرنے پر داد پیش کرتے ہیں۔’

عمار نے مزید لکھا کہ پاکستان ‘عالمی طاقتوں کے لیے کرائے کی ریاست کا کردار ادا کرتا ہے’ اور اس شرمندگی کا باعث ‘صحافی یا ناقدین نہیں ہیں بلکہ وہ ہیں جو عام شہریوں پر غیر ملکی ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔’

پنجاب حکومت سے منسلک اظہر مشوانی نے بھی حامد میر کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر کہا کہ ‘سوال یہ ہے کہ قومی ادارے پر ایسےالزامات لگانے والوں کے خلاف ایکشن لینے کی بجائے وہ ہر ٹاپ سیکرٹ بریفنگ میں کیوں بلائےجاتے ہیں؟ اور ایسے ان کی اہمیت کیوں بنائی جاتی ہے؟’

سماجی کارکن علم زیب محسود نے حامد میر کی تقریر پر کہا کہ وہ حامد میر کے ساتھ مکمل طور پر اتفاق کرتے ہیں اور صحافت کے دشمنوں کو پردے کے پیچھے نہیں چھپنا چاہیے۔

دوسری جانب ان کی مخالفت کرنے والوں میں سے ایک صارف خورشید پٹھان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ‘میں خورشید پٹھان اپنی حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ حامد میر کو فوج پر بغیر ثبوت الزام لگانے، دھمکیاں و گالیاں دینے، دشمن ملک کو مذاق اڑانے کا موقع دینے، ان کے بیانیے کو فروغ دینے کہ جرم میں فوری گرفتار کر کے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔’

حامد میر نے خود اپنی تقریر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث پر رات گئے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘اب آپ دیکھیں گے کہ پچاس ہزار روپے مہینے پر بھرتی کیے گئے کئی وی لاگرز میدان میں آئیں گے ہم پر الزامات لگا کر اپنی تنخواہ حلال کریں گے لیکن پاکستان کے عوام کو سب پتہ چل چکا ہے کہ فارن ایجنڈے پر عمل درآمد کرانے والے کون ہیں؟’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19501 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp