استنبول میں سیکولر ترکی کی یادگار کے نزدیک مسجد کا افتتاح

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترک صدر ایردوان کے بعض ناقدین کے نزدیک وہ تقسیم اسکوائر پر مسجد کی تعمیر کے ذریعے جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی قائم کی گئی سیکولر اور جدید ریاست کو ’اسلامی‘ بنا رہے ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول کے مرکزی مقام تقسیم اسکوائر پر قائم سیکولر ترکی کی یادگار کے بالمقابل تعمیر کی گئی مسجد کا افتتاح کر دیا۔

صدر ایردوان نے تقسیم اسکوائر پر اس مسجد کی تعمیر 2017 میں شروع کرائی تھی۔ جب کہ ترک حکام کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ہے بطور میئر ایردوان 1994 میں اس جگہ کی نشان دہی کر رہے ہیں جہاں اب ’تقسیم مسجد‘ تعمیر کی گئی ہے۔

مسجد کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طیب ایردوان نے کہا کہ اب تقسیم مسجد استنبول کی اہم علامتوں میں شامل ہو گئی ہے۔

خبر رسان ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق مسجد کے افتتاح کے موقعے جلد ہی عمارت نمازیوں سے بھر گئی اور ہزاروں نمازیوں نے باہر چوک پر جمعے کی نماز ادا کی۔

صدر ایردوان مسجد کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں۔
صدر ایردوان مسجد کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں۔

عثمانی طرزِ تعمیر پر بنائی گئی اس مسجد میں چار ہزار افراد کی گنجائش ہے۔

یہ مسجد تقسیم اسکوائر پر ’ری پبلک موومنٹ‘ کی یادگار کے سامنے ہی تعمیر کی گئی ہے۔ اس یادگار میں مصطفیٰ کمال اتاترک سمیت ترکی کی جنگِ آزادی کی نمایاں شخصیات کو دکھایا گیا ہے۔

مسجد کی تعمیر پر مختلف آراء

اگرچہ ترکی ایک مسلم اکثریتی ملک ہے لیکن 2017 میں جب تقسیم اسکوائر پر مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو اس منصوبے پر تنقید کی گئی۔

ایردوان کے بعض ناقدین کے نزدیک وہ تقسیم اسکوائر پر مسجد کی تعمیر کے ذریعے جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی قائم کی گئی سیکولر اور جدید ریاست کو ’اسلامی‘ بنا رہے ہیں۔

شہر کے اس مرکزی مقام پر مسجد کی تعمیر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے اس مصروف ترین علاقے میں مسلمانوں کی عبادت کے لیے جگہیں ناکافی تھیں۔

افتتاح کے لیے دن کا انتخاب

اس سے قبل مسجد کا افتتاح رمضان میں ہونا طے پایا تھا لیکن بعد میں اس کے لیے 28 مئی کی تاریخ کا انتخاب کیا گیا۔

خیال رہے کہ 2013 میں اسی تاریخ کو تقسیم اسکوائر پر صدر ایردوان کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا جن پر پولیس نے سخت کارروائی کی تھی۔

افتتاحی تقریب 1453 میں عثمانیوں کے قسطنطنیہ فتح کرنے کی تاریخ سے ایک دن قبل منعقد کی گئی ہے۔

تقریب سے خطاب میں صدر ایردوان نے کہا کہ یہ مسجد فتحِ استنبول کی 568 ویں سالگرہ کا تحفہ ہے۔

صدر ایردوان اس سے قبل استنبول میں ترکی کی سب سے بڑی مسجد چاملیجا کی تعمیر بھی کرا چکے ہیں۔ انہوں نے 2019 میں جامع مسجد چاملیجا کا افتتاح کیا تھا۔ اس میں 60 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔

ہفتے کو صدر ایردوان عثمانیوں کے استنبول فتح کرنے کی یاد منانے کے لیے چاملیجا مسجد جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2251 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *