یورپین میڈیسنز ایجنسی کی 12 سے 15 سال کے بچوں کو فائزر ویکسین لگانے کی منظوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یورپین میڈیسنز ایجنسی (ای ایم اے) نے امریکہ کی کمپنی ‘فائزر’ اور جرمن کمپنی ‘بائیو این ٹیک’ کی مشترکہ تیار کردہ کرونا ویکسین 12 سے 15 سال کے بچوں کو لگانے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ پہلی کرونا ویکسین ہے جسے یورپ میں رہنے والے بچوں کو لگانے کی منظوری دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق یورپ میں گزشتہ برس دسمبر میں 16 سال سے زائد افراد کے لیے فائزر اور بائیو این ٹیک کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی منظوری دی گئی تھی۔

ای ایم اے کی منظوری کے بعد فائزر ویکسین کی منظوری یورپی کمیشن اور بلاک میں شامل ممالک کے قومی ریگولیٹرز کی طرف سے بھی دی جانی ضروری ہے جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا فائزر ویکسین 16 سال سے کم عمر والے بچوں کو لگانی ہے یا نہیں۔

یورپی یونین میں شامل ممالک میں اب تک 17 کروڑ 30 لاکھ افراد کو یہ ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ جو کہ 27 ممالک کے بلاک میں لگائی جانے والی کرونا ویکسینز کی تین چوتھائی تعداد بنتی ہے۔

ای ایم اے کے عہدیدار میکرو کیولری کا کہنا ہے کہ اس عمر کے بچوں کے لیے فائزر ویکسین کی منظوری وبا کے خلاف ایک اہم قدم ہے۔

ای ایم اے کی طرف سے منظوری امریکہ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے بعد دی گئی ہے جس کے مطابق مذکورہ ویکسین وبا کے خلاف انتہائی کار آمد ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق جو کہ 2000 نو عمر بچوں کو فائزر ویکسین لگائے جانے کے بعد کی گئی، ان میں سے کوئی بھی بچہ کرونا وبا سے متاثر نہیں ہوا۔

میکرو کا مزید کہنا تھا کہ یہ ویکسین بچوں میں باآسانی قابلِ برداشت ہے اور اس عمر کے افراد میں اس کے سائیڈ ایفیکٹس بھی وہی ہیں جو کہ 18 سال سے زائد عمر والے افراد میں سامنے آئے تھے۔

خیال رہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے ریگولیٹرز کی طرف سے اس عمر کے بچوں کے لیے پچھلے ماہ منظوری دی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق محقق مذکورہ ویکسین کی طویل مدتی تحفظ سے متعلق آئندہ دو برس تک نگرانی جاری رکھیں گے۔

کیولری کے مطابق ممکن ہے کہ چھوٹے پیمانے پر کی گئی تحقیق کے دوران ویکسین کے مہلک سائیڈ ایفیکٹس سامنے نہ آئے ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ایک دفعہ ویکسین لگائے جانے کا عمل شروع ہو جائے گا تو ویکسین کی کارکردگی پر نظر رکھنا اہم ہو گا۔ تاکہ اس کی افادیت سے متعلق تعین کیا جا سکے۔

ای ایم اے کی طرف سے پچھلے ماہ ایسٹرا زینیکا اور جانسن اینڈ جانسن ویکسین لگوانے والوں میں ممکنہ بلڈ کوٹنگ (خون کے لوتھڑے) آنے سے متعلق خبردار کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں استعمال کی جانے والی بیشتر ویکسینز اٹھارہ برس سے زائد عمر کے افراد کے لیے تجویز کی گئی ہے جن کا کرونا وبا سے متاثر ہونے کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے۔

تمام عمر کے بچوں کی ویکسی نیشن وبا کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم ہے۔ جیسا کہ کچھ محققین کے مطابق بڑے بچے وبا پھیلانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ وہ وبا سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2234 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *