بیچارے عوام جانتے ہیں لیکن یقین نہیں کرتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم بیچارے عوام بہت ہی سادہ ہیں اور ہرمرتبہ ایک ہی سوراخ سے ڈسے جاتے ہیں۔ وہ ایسے کہ اگر حکومت وقت نا اہل ثابت ہو اور عوام کی نظروں میں ناپسندیدہ ہو جائے تو اس مصیبت سے نجات کے لیے اپوزیشن سے توقعات لگالی جاتی ہیں۔ عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے اس لیے انہیں یاد نہیں رہتا کہ چوہے بلی کا یہ کھیل گزشتہ 73 برس سے ایک ہی سکرپٹ کے تحت ایک ہی طرح کھیلا جا رہا ہے۔ حقیقت میں یہ چوہے بلی کی اصلی بھاگ دوڑ نہیں بلکہ ٹام اینڈ جیری کا کھیل ہے۔

اس کھیل میں حکومت، اپوزیشن اور عوام تینوں میں سے کوئی بھی کھیل کا منیجر نہیں ہے اور یہ بھی کہ ان تینوں فریقوں میں سے کوئی بھی اس کھیل کے قواعدو ضوابط بناتا ہے نہ ہی ان میں کوئی ترمیم لاسکتا ہے۔ البتہ حکومت، اپوزیشن اور عوام کے درمیان ایک فرق یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جانتے ہیں اور یقین بھی کرتے ہیں کہ وہ اس کھیل کے منیجر نہیں ہیں جبکہ عوام بھی جانتے ہیں کہ وہ اس کھیل کے منیجر نہیں ہیں لیکن یقین نہیں کرتے۔

اسی لیے ایسے عوام کو سادہ اور بیچارے عوام لکھنا پڑتا ہے۔ اس مرتبہ بھی اس پرانے کھیل کے نئے سیزن میں دکھائی جانے والی تازہ قسطوں میں بھی بالکل پہلے کی طرح ہی چل رہا ہے اور بیچارے عوام مبینہ نا اہل اور ناپسندیدہ حکومت سے نجات کے لیے اپوزیشن سے ہی توقعات لگائے بیٹھے ہیں۔ اگر یقین نہ آئے تو حالیہ بڑی سیاسی خبروں کا ہی جائزہ لے لیتے ہیں۔ جب پی ٹی آئی کے پیٹ کے اندر جہانگیر ترین گروپ نے اپنی زندگی کی علامتیں ظاہر کیں اور کچھ ہاتھ پیر چلائے تو پی ٹی آئی کے اس بڑھے ہوئے پیٹ کو دیکھ کر سیاسی دائیوں کے درمیان کھسرپھسر شروع ہو گئی۔

سیاسی دائیوں کی سب سے پہلی اور اہم ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ وہ حکومت کے کسی بھی منفی واقعے کو بڑھا چڑھا کر بیان کریں اور عوام کے حکومت مخالف جذبات پر تیل ڈالیں۔ اس طرح وہ سیاسی دائیاں جو بے کاری کے باعث سرکاری وظیفے پر محض زندہ ہوتی ہیں، عوام کے ایکسپلائٹ ہونے سے ان کا رزق وافر ہو جاتا ہے۔ جہانگیر ترین گروپ کی گڈنیوز اور اپوزیشن کی ڈھولک سے عوام امید سے ہو گئے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اب گئی کہ تب گئی۔ عوام جانتے بھی ہیں کہ جہانگیر ترین گروپ کیوں، کیسے، کس لیے وجود میں آیا اور اسے آگے پیچھے کون کر رہا ہے لیکن پھر بھی بیچارے عوام یقین کربیٹھے کہ عمران خان کی حکومت جاتے ہی ان کے تمام مسائل حل ہونے ہی والے ہیں۔

عوام جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے اندر جہانگیر ترین کے لیے مخالف حالات پیدا کرنے میں شاہ محمود قریشی کا بڑا ہاتھ ہے لیکن عوام شاید یہ نہیں جانتے کہ شاہ محمود قریشی کا سہارا صرف ملتان کی پیری مریدی والی گدی نہیں ہے بلکہ ان کی بلندی کی اصل وجہ وہ مضبوط انٹرنیشنل مینار ہے جس پر وہ بیٹھے ہوئے ہیں اور اس کی مضبوطی کو مقامی سطح پر چیلنج کرنا فی الحال آسان کام نہیں ہے۔ ایک اور حکومت مخالف سیاسی سرگرمی کی مثال لیتے ہیں جس کے معرض وجود میں آتے ہی بیچارے عوام توقعات لگا بیٹھے کہ اب تو ان کی ضرور سنی جائے گی اور چند ہفتوں میں ہی ان کے ابتر حالات کا انتقام پی ٹی آئی حکومت سے لے لیا جائے گا۔

یہ بات پچھلے سال ستمبراکتوبر کی ہے جب حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم قائم ہوا۔ جتنی تیزی اور منظم طریقے سے یہ اتحاد قائم ہوا تھا اس کا تجزیہ کرتے ہی پتا کرلینا آسان تھا کہ مختلف نظریات اور مختلف سمتوں کو چلنے والی سیاسی جماعتیں اتنی جلدی اور اتنے منظم طریقے سے کیسے ایک پیج پر آ گئیں۔ بیچارے عوام نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی پی ڈی ایم کے خلوص پر یقین کر لیا۔ دوسری طرف ایک پیج پر موجود پی ڈی ایم کے شدید باہمی مخالف رہنما جگہ جگہ اکٹھے جلسے جلوس کرنے لگے۔

ان جلسے جلوسوں کی تقریروں میں دلچسپ اور قابل غور بات یہ تھی کہ پی ڈی ایم کے یہ شدید باہمی مخالف رہنما پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اپنے اپنے سیاسی ایجنڈے کو بڑھاوا دے رہے تھے۔ پی ڈی ایم کے یہ شدید باہمی مخالف رہنما اچھی طرح جانتے تھے کہ جس طرح وہ اپنے اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے پی ڈی ایم کا پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں اس سے اس اتحاد کے قیام کا پی ٹی آئی حکومت سے چھٹکارے والا یک نکاتی ایجنڈا کمزور پڑجائے گا لیکن عوام بیچارے نہیں جانتے تھے اور انہوں نے سرد موسم کے دوران منفی ٹمپریچر میں بھی پی ڈی ایم کے جلسوں کو کامیاب کرنے کی کوشش کی۔

پی ڈی ایم بنانے کا آئیڈیا دینے والوں نے پی ڈی ایم کے جھنڈے کو اتنے لمبے ڈنڈے پر چڑھا دیا کہ وہ خلاء میں جاپہنچا جہاں اس سے عوام دور اور خلائی مخلوق قریب ہو گئی۔ چلئے ایک اور مثال لیتے ہیں۔ شہباز شریف سخت گیر منتظم اور رعب دار ایڈمنسٹریٹر ہیں۔ چیف منسٹری کے دوران منصوبوں پر عمل کروانے کے لیے ان کی آواز اونچی اور گرجدار ہوتی ہے لیکن مبینہ خاندانی منصوبہ بندی کے ایشوز کو حل کرانے کے لیے ان کی آواز آہستہ اور پوشیدہ ہو جاتی ہے۔

اکثر عوام شہباز شریف کی جیل سے سابقہ اور موجودہ رہائی کے بارے میں یہی کہتے ہیں لیکن پھر بھی بیچارے عوام یقین کرگئے کہ شہباز شریف کی رہائی کے بعد ان کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ یہاں ایک لوفر سوال ہے کہ کیا شہباز شریف جیسے مبینہ بیک ڈور تعلقات رکھنے والے خرانٹ سیاست دان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ انہیں ائرپورٹ پر روک لیا جائے گا؟ کیا ائرپورٹ پر روکے جانے کا سکرپٹ ان کی مظلومیت کو ابھارنے کے لیے لکھا گیا تھا؟

دوسری طرف سکرپٹ رائٹرز نے حکومت کو بھی خوش کر دیا کہ وہ اتنی مضبوط ہے کہ مقبول ترین اپوزیشن لیڈر کو باہر جانے سے روک دے اور وہ اپوزیشن لیڈر اس کارروائی پر عوام کو سڑکوں پر بھی نہ لاسکے۔ وہ شہباز شریف جو عوام کی لوٹی ہوئی رقم ہڑپ کرنے والے مخالف سیاست دانوں کا پیٹ چاک کر کے کھا جانے والی رقم برآمد کرنے کا اعلان کرتے تھے وہی شہباز شریف اب پی ڈی ایم کے شدید باہمی مخالفین کو کھانے کھلا رہے ہیں۔ عوام جانتے ہیں کہ حکومت، اپوزیشن اور عوام سیاست کے اصل پلر نہیں ہیں لیکن پھر بھی یقین نہیں کرتے۔ اسی لیے بیچارے عوام مبینہ نا اہل اور ناپسندیدہ حکومت سے نجات کے لیے اپوزیشن سے توقعات لگا لیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *