ویسٹ فیلیا کے معاہدہ امن سے قیام اسرائیل تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسرائیل نامی نام نہاد ریاست کی اینٹ تو بلفور اعلامیہ کے بعد رکھ دی گئی تھی۔ پر اس کا قیام 1948 کے بعد ریاست فلسطین کا کلیجہ چاک کر کے عمل مین لایا گیا۔ وقت کے ساتھ تمام ریاستی تنازعات حل ہو گے مگر فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہو پایا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کو واضح کیا جائے کہ باقی مسائل تو حل ہو رہ ہیں۔ یہ مسئلہ حل کیوں نہیں ہو رہا ہے۔ اور یہ مسئلہ باقی مسائل سے مختلف ہے تو کیوں ہے اور کس بنا پر ہے

تاریخ کی ورق گردانی کی جائے۔ تو جہاں قوموں کی سیاسی چپقلش اور متنازعہ علاقائی حدبندیوں سے جڑے ہوئے تنازعے کھل کر سامنے آتے ہیں۔ وہاں مختلف ادوار میں مختلف سیاسی نظاموں کی عکس بندی بھی ملتی ہے۔ لیکن تاریخ یہ بات عیاں کرتی ہے کہ یہ تمام ارضی تنازعات، سیاسی چشمک اور بین الاقوامی حدبندیوں کے جھگڑے جلد بدیر کسی بھی امن کے معاہدے کے ذریعے ختم ہو گئے۔ ان سیاسی و ارضی تنازعات اور ان کے نتائج پر درجنوں مثالیں بطور ثبوت پیش کی جا سکتی ہیں۔

1۔ یونانی قدیم سٹی سٹیٹس کے درمیان نظریہ عالمگیریت سے جو بھی سیاسی کشمکش پیدا ہوئی وہ یا تو جنگی اقدام کے ذریعے اپنے انجام کو پہنچی یا

کسی امن کے معاہدے نے اس تصادم کو جڑ سے اکھڑ پھینکا۔

2۔ رومن ایمپائر کی چاہیے اسلامی ریاستوں سے صلیبی جنگوں کی لہر ہو یا رومن ایمپائر کے اندر پاپائیت اور بادشاہت کے درمیان چپقلش ہو بالآخر فتح یا معاہدے کے ذریعے اختتام پذیر ہوئے۔

3۔ یورپ میں احیائے ثانیہ کے مختلف مراحل میں بادشاہ اور پوپ کے درمیان اقتدار کے حصول کی جنگ ہو یا کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان تیس سالہ طویل جنگ ہو۔ بالآخر ایک معاہدہ امن کی بنا پر ختم ہوئی۔ اس معاہدہ امن کو پیس آف ویسٹفیلیا 1648 کہتے ہیں۔ اس معاہدہ امن کے بعد جدید ریاستوں کا تصور قائم ہوا اور یورپ جہاں جمہوریت کو پنپنے کا موقعہ ملا وہاں عیسائیت اور علم سیاست الگ الگ ہو گے۔ اور عیسائیت کا اثر و رسوخ اقتدار کے ایوانوں سے چلتا بنا۔ جدید رسیاستی نظام کے بعد جب جب ریاستوں کے درمیان مسائل پیدا ہوئے۔ ان کو ریاستوں کے اجماع کے حل کرنے کی سعی کی گی۔

اس ضمن میں الاقوامی انصاف کی مستقل عدالت کے فیصلے سے اخذ کیا گیا ہے۔

”بین الاقوامی کردار کے حامل تمام تنازعات کا معاہدوں کے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی روایتی قانون سے نمٹا جانا چاہیے“

1۔ قرون وسطی میں سمندروں کے رستوں کی دریافت کے بعد ریاستوں کے درمیان سمندروں پر ریاستی ملکیت کی حدود کے تنازعات کو Canon Short Rule کے ذریعے حل کیا گیا۔ اور پھر بعد میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے لاء آف سیز کے ذریعے سمندری حدود کے مسائل سے نمٹا گیا۔

2۔ یورپین ریاستوں کے درمیان تصادم کو روکنے اور امن قائم کرنے کے لیے kellogg Brand Pact کیا گیا۔
3۔ دنیا میں امن کو بحال کرنے کے لیے لیگ آف نیشن قائم کی گئی۔

4۔ بعد میں دوسری جنگ عظیم کے بعد ریاستوں کے مابین امن قائم کرنے اور ممالک کی سکیورٹی کے لیے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

”اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 2 کا کہنا ہے کہ:“ قوموں کے درمیان تمام معاملات ثالثی، مذاکرات، مفاہمت اور ثالثی کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ”

کیا وجہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین، جو بہت سارے معاملات کو حل کر چکا ہے، کی موجودگی کے باوجود فلسطین کا مسئلہ حل ہونے کا نام۔ نہیں لے رہا ہے۔ اسرائیل اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کو خاطر میں نہیں لا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *