کیفیت اور ہجوم کا تعارف ایک ڈھلتی شام میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کچھ عجیب سا موسم تھا، کہیں دھوپ کہیں چھاوں، جہاں جہاں آسمان صاف تھا، وہاں وہ اتنا نیلا تھا، جیسے کبھی دل نیل و نیل ہو جاتا ہے، اور جہاں جہاں آسمان پر بادل تھے، وہ دور کسی چوٹی پر پڑی برف کی طرح دکھائی دے رہے تھے، ہم شاردہ سے کیل کی جانب نکلے تھے، لیکن سرگن نالے سے آگے موڑ کے بعد کچھ ہی دور یہ جگہ آ گئی، تو یہ جگہ کچھ عجیب سی کیفیت کی حامل تھی، یا شاید میں کسی کیفیت میں جا چکا تھا، یہاں سے ایک سڑک آگے کیل کی طرف جا رہی تھی اور ایک مختصر سا کچا راستہ نیچے دریا کے کنارے کو جا رہا تھا، نیچے دریا کنارے ایک چھوٹا سا ریتلا میدان تھا، جس میں دریا کے کنارے کی طرف کچھ بڑے بڑے پتھر تھے۔

نمبردار کو واضح اور بلند آواز میں ہدایت کی کہ یہیں رہنا اور گاڑی سڑک پر چھوڑ کر نیچے نہیں آنا، یہ واضح اور بلند کاشن ضروری تھا۔ میں راستہ چھوڑ کر آہستہ آہستہ نیچے ریتلے میدان میں آ گیا اور دریا کی طرف جا کر وہاں بکھرے بڑے بڑے پتھروں کے درمیان جا بیٹھا، پتھروں کے درمیان دریا کی لائی ریت سے چھوٹے چھوٹے ساحل سے بن گئے تھے، جن کی نیم ڈھلوان کو دریا کی لہریں چھو رہی تھیں، یہ جگہ کچھ اوجھل سی تھی، اور یہاں سے مین روڈ بھی بڑے بڑے پتھروں کی آڑ کی وجہ سے دکھائی نہیں دے رہی تھی، لیکن کبھی کبھی کسی گزرنے والی گاڑی یا سست رفتار ٹرک کی آواز اس سڑک کے وہاں ہونے کا پتہ دیتی تھی، موسم ایسا تھا کہ جیسے وہ تھا ہی نہیں، نہ گرمی، نہ سردی، صرف ہوا چلنے کی ہلکی ہلکی سرسراہٹ تھی، جیسے کپڑوں کی سرسراہٹ ہوتی ہے۔

سامنے دریائے نیلم جسے پہلے ”کشن گنگا“ کہتے تھے، کا سبزی مائل زمردیں رنگ کا پانی بہہ رہا تھا۔ مجھے نہ جانے کیوں کشن گنگا کا نام زیادہ رومانی اور اچھا لگتا ہے، میرا بس چلے تو اس کا نام کشن گنگا، پھر سے رکھ دوں، میری نظر میں اس سے کسی سیاسی یا مذہبی بگاڑ کا اندیشہ نہیں، جس طرح یہاں بہتا ہوا کشن گنگا ایک حقیقت ہے اس طرح میں، بلکہ ”ہم“ بھی ایک ایسی حقیقت ہیں، جن کو اب اس ماحول اور علاقے سے اکھاڑا یا علیحدہ نہیں کیا جا سکتا، پھر نہ جانے یہ خوف کیوں ہے۔

علاقوں، قدیم دیہات، اور دریاوں یا ندیوں کے قدیم نام، صرف نام ہی نہیں ہوتے، وہ تاریخ، ورثہ اور روایت ہوتے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ جب ہم ان کے نام تبدیل کر دیتے ہیں، تو کیا ان کا مذہب بھی تبدیل ہو جاتا ہے، اور کیا دریاوں ندیوں پھولوں اور مناظر کا کوئی مذہب ہوتا ہے؟ اب آپ میری طرف اس طرح دیکھیں گے، کہ یہ مجہول سا شخص پاگل تو نہیں ہو گیا، لیکن مجھے کوئی پرواہ نہیں، کہ آپ یا کوئی اور میرے بارے میں کیا سوچتا ہے، میں خود اور میری سوچ میرے لیے اہم، اور سب سے زیادہ قابل تعظیم ہے، اس کا اور ہے بھی کون، جو اس کے اتنا قریب ہو، اتنا وابستہ ہو جتنا کہ میں خود ہوں۔

میں کہاں نکل گیا کیا بات کہہ رہا تھا، کہ خود کو مخاطب کر بیٹھا، لیکن اس میں میرا قصور نہیں، یہ جگہ ہی کچھ ایسی ہے، طلسمی اثر والی، یہ پراسرار طریقے سے آپ کو آپ ہی کے سامنے بٹھا دیتی ہے اور کسی ریستوران کے پرائیویٹ کیبن کی طرح آپ کے گرد ایک پردہ تان دیتی ہے، کہ لو خود سے دل بھر کے باتیں کر لو، جو تم کبھی نہیں کرتے، ٹال جاتے ہو، اب کہاں جاو گے اس طلسم نے تم کو باندھ کر اپنے ہی سامنے لا بٹھایا ہے۔ میں نے اپنے جوتے اتار دیے ہیں، اور گاہے بگاہے ریت پر چڑھ آنے والی ٹھنڈے برفانی پانی کی لہریں میرے پیروں کی انگلیوں کے سروں کو چھو جاتی ہیں۔

اب جب کہ خود کو مخاطب کرنے کی کوشش کرتا ہوں، تو کیا دیکھتا ہوں کہ یہاں تو ایک ہجوم ہے، میری ذات کے اندر، شام ڈھلنے لگی ہے تو چلو اس ہجوم میں سے کچھ کو تو پہچاننے کی کوشش کرتا ہوں، ان میں کچھ بالکل اجنبی چہرے بھی ہیں اگر میں خود ان کو اپنے اندر نہ دیکھ لیتا تو کبھی یقین نہ کرتا کہ یہ وہاں ہیں، یہاں ایک انجینئیر بھی دکھائی دیا جو ہر بات پر، ہر معاملے پر منصوبہ بندی اور تخمینہ سازی کرنے لگتا ہے، کبھی کبھی اس کی یہ عادت مجھے بہت بری لگتی ہے، کوئی بلند چرا گاہ کوئی پھولوں بھر مرغزار اگر تصور میں بھی لاؤں تو یہ سوال اٹھانے شروع کر دیتا ہے، اتنا فاصلہ ہے جاو گے کیسے، چلا تو تم سے جاتا نہیں، وہاں رات پڑ گئی تو رہو گے کہاں، بارش ہو گئی تو کیسے بچو گے، کسی مقام پر اگر بھوک بھی لگتی ہے تو یہ فوری طور پر اپنا تخمینہ میرے سامنے رکھ دیتا ہے کہ یہاں یہ ہوٹل یا ڈھابہ موجود ہے اور یہاں اس قیمت پر یہ یہ چیز ملے گی یا کچھ نہیں ہے۔

واحد دکان سے ملک پیک کا چھوٹا والا پیکٹ یہاں دستیاب گھٹیا والے بنانا بسکٹ کے ساتھ کھانے پڑیں گے، اس تکرار پر اسے کبھی ڈانٹ کر چپ کروانا پڑتا ہے، یہاں ایک پرتجسس اور شرارتی بچہ بھی منہ بسورے روٹھا ہوا سا موجود ہے، یہ ہر چیز کے بارے میں جان لینا چاہتا ہے، سب کچھ اس کے لیے دلچسپ اور عجیب ہے، یہ ہر آنے جانے والے کے ساتھ شرارتیں کرنا چاہتا ہے ان کو چھیڑنا اور تنگ کرنا چاہتا ہے، اس کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے اس کی انگلی پکڑ کر رکھنا پڑتی ہے کہ کہیں ہجوم میں گم ہی نہ ہو جائے، یہاں سوچتی آنکھوں والا اور ایک کتاب ہاتھ میں پکڑے ایک فلاسفر بھی موجود ہے جس کا پسندیدہ مشغلہ، پہلے سوال سوچنا اور پیدا کرنا اور پھر ان کے بہت سے عملی اور غیر عملی حل سوچنا اور تلاش کرنا ہے اس کے نزدیک یہی زندگی ہے نہ سوچا تو کیا کیا۔

ان میں ہی، ایک انتہائی رومانی قسم کے حضرت بھی موجود ہیں، جو ہر حسین چہرے، ہر حسین منظر، کسی پھول کسی سبزے پر دل ہی دل میں، دل و جان سے عاشق ہو جاتے ہیں، کبھی کبھی کچھ مخمور سے بھی ہوتے ہیں لیکن گہرے ہیں، کسی کو جب تک وہ ان کے قریب نہ آ جائے محسوس نہی ہونے دیتے، اپنا ہی دل جلاتے ہیں، لیکن بے ضرر ہیں، لہذا ان سے کوئی خدشہ نہیں زیادہ سے زیادہ خوش ہو لیں گے، اداس ہو لیں گے زیادہ ہوا تو کیفیت کے مطابق موسیقی سن لیں گے، کبھی اداس نغموں پر آنکھیں نم کر بیٹھیں گے اور کبھی بے وجہ ہی کسی شوخ نغمے کی دھن اور بول گنگناتے دکھائی دیں گے۔

کبھی کسی خوبصورت نظم یا غزل کو بار بار دہرائیں گے، ان کے چنیدہ اشعار کو خط شکستہ میں لکھ لکھ کر جیب میں رکھیں گے۔ لہذا ان کو ان کے حال پر ہی چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ لیکن یہاں ایک کردار ایسا بھی ہے جو شاید کوئی جرائم پیشہ شخص ہے، ہر بات۔ ہر معاملے کو منفی انداز میں دیکھنا اس کی عادت ہے، اس کا زیادہ وقت کسی نہ کسی کے خلاف سوچنے اور اس کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بنانے میں صرف ہوتا ہے، یہ خطرناک شخص ہے، لہذا اس پر نظر رکھنے کے لیے ہر وقت دو تین سخت گیر افراد تعینات رکھنے پڑتے ہیں کہ یہ نہ جانے کس وقت کیا کر گزرے، ہر جرم اور گناہ کی اس سے توقع کی جا سکتی ہے، لہذا ہمہ وقت اس کی سخت نگرانی کی ضرورت رہتی ہے۔

اسی ہجوم میں ایک پرانا ڈرائیور بھی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اسے ڈرائیو کرتے چھیالیس سال ہو چکے ہیں وہ عام طور پر باتیں کم ہی کرتا ہے، لیکن جب اچھے موڈ میں ہو تو فخر سے بتاتا ہے کہ وہ بارہ برس کی عمر سے ڈرائیونگ کر رہا ہے، اس کی باتیں عملی اور حقیقی ہوتی ہیں، اس کا کہنا ہے کہ ڈرائیوری اندازے اور قیاس کا کھیل ہے، جب تک آپ کا اندازہ درست ہے ایکسیڈنٹ نہیں ہو گا، جہاں آپ نے اندازے کی غلطی کی تو حادثہ۔ یہاں ایک کھانستا ہوا دائمی مریض بھی ہے شاید طویل عرصہ کی سگریٹ نوشی اور بے اعتدالی کی وجہ سے اس کے پھیپھڑے ایک ناقابل علاج مرض میں مبتلاء ہو چکے ہیں، کبھی کبھی تو اس کے لیے چند قدم چلنا تک مشکل ہو جاتا ہے مجھے یہ زیادہ عرصہ جیتا نظر نہیں آتا لیکن بندہ حوصلے اور دل والا ہے، کہتا ہے جب تک جینا ہے تو ضرور جیوں گا اپنی خوشی اپنی مرضی سے ان کی ہی تو قیمت ادا کی ہے، اس بیماری کی صورت میں، وہ ہنسا اور کھانسنے کے لیے رکا تو مجھے موقع مل گیا اور میں دوسری طرف دیکھنے لگا۔

ہلکا ہلکا اندھیرا پھیلنے لگا تھا، اوپر سڑک کی جانب سے نمبردار ہارن بجانے لگا، ابھی بہت سے لوگ اور ان کا تعارف باقی رہتا تھا، لیکن دیر ہو چکی تھی، میں اٹھا اور اپنے بوٹ ہاتھ میں پکڑ کر ننگے پاؤں ہی ریتلے میدان سے گزرتے ہوئے اوپر سڑک تک آ گیا، نمبردار کچھ عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا نہ جانے کیوں۔ گاڑی واپس موڑ لو۔ ہم واپس شاردہ جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *