کیا ”ویکسین“ لگنے سے ہم لوگ مر جائیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگلے روز بیگم کو ویکسین لگوانے پی کے ایل آئی لے گیا۔ دوپہر دو بجے کا وقت دانستہ چنا تھا کہ دھوپ کی وجہ سے رش کم ہو گا۔ مگر خلاف معمول رش زیادہ تھا جس کی وجہ سے ہم ناکام واپس لوٹ آئے۔ شام چھ بجے دوبارہ کوشش کی جو تیس چالیس منٹ کی تگ و دو کے بعد کامیاب ٹھہری۔ شام کو معمول کی چہل قدمی کے بعد گھر لوٹا تو بیگم کا چہرہ ستا ہوا تھا۔ استفسار پر انھوں نے موبائل میرے سامنے رکھ دیا۔ واٹس اپ پر ایک اخباری تراشہ نظر آیا جس کی شہ سرخی تھی کہ ”تمام کرونا ویکسین لینے والے افراد 2 سال کے اندر مر جائیں گے“ ۔ چار دن پہلے میں بھی ویکسین کی پہلی ڈوز لگوا آیا تھا (ذہین قارئین نے اس بات سے مصنف کی عمر کا اندازہ لگا لیا ہوگا) ۔ جون ایلیا کا ایک شعر فوراً یاد آیا جسے بیگم کو سنا کر داد وصول کی:

کتنی دلکش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

اس دعوے کو 2008 میں ایڈز کے وائرس کی دریافت پر طب کا ایک چوتھائی نوبل پرائز جیتنے والے مشہور فرانسیسی ماہر وائرسیات سے جوڑا گیا تھا۔ پہلے تو فرانسیسی سے نا واقفیت کی بنا پر سائنس دان کے نام کو لک مونٹاگنئے پڑھا۔ مگر پھر معلوم ہوا کہ درست تلفظ ”لچ مونٹانئے“ ہے۔ ان کے بیانیے جس کی انٹرنیٹ پر بڑھی دھوم ہے کو دیکھا جائے تو موصوف اسم با مسمٰی ہیں۔

کہانی اس وقت شروع ہوئی جب امریکی ادارے رئیر فاونڈیشن نے 18 مئی کو ویڈیو کلپ کے ساتھ ایک مضمون چھاپا۔ جس کے مطابق ڈاکٹر مونٹانئے کا ماننا ہے کہ ویکسین کی وجہ سے وائرس کی نئی اقسام وجود میں آ رہی ہیں۔ لہٰذا بڑے پیمانے پر ویکسینیشن ایک غلطی ہے۔ اب بات یہ ہے کہ وائرس کا جینیاتی مادہ چونکہ بہت ہی سادہ ہے، تو کاپیوں کی تیاری کے دوران جینیاتی مادے میں تبدیلیاں آنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وائرس کو اس تغیر کا نقصان زیادہ ( 96 ٪) اور فائدہ کم ( 4 ٪) ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ موجودہ ویکسین متغیر وائرس کے خلاف بھی موثر ہیں۔ میری لینڈ یونیورسٹی میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر فہیم یونس کے مطابق، اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں میں ایک بھی مریض ایسا نہیں تھا جس کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہو۔ لہٰذا اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ویکسین کورونا کے مریض کو پیچیدگیوں سے بچاتی ہیں۔

ڈاکٹر مونٹانئے کا دوسرا نکتہ ”اینٹی باڈی ڈپنڈنٹ انہانسمنٹ“ یا اے۔ ڈی۔ ای ہے۔ سادہ الفاظ میں ویکسین لگنے سے جسم میں وائرس کے خلاف لڑنے والے مادے پیدا ہوتے ہیں جنھیں ”اینٹی باڈیز“ کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مونٹانئے کے مطابق اینٹی باڈیز کی وجہ سے کووڈ۔ 19 ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے چونکہ جسم میں موجود اینٹی باڈیز وائرس کے ساتھ چپکنے کا رجحان رکھتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب تک ہونے والی تحقیق میں کورونا وائرس کے کیس میں اے۔

ڈی۔ ای کا مظہر مشاہدے میں نہیں آیا ہے اور اب تک صرف ڈینگی کے ثانوی انفیکشن میں ایسا دیکھا گیا ہے۔ ڈینگی وائرس کے کیس میں وائرس کی چار اقسام (سیروٹائپس) ہیں جو اپنی سطح پر موجود لحمیات (پروٹین) کی وجہ سے ممتاز ہوتی ہیں۔ کورونا وائرس کا صرف ایک ہی سیروٹائپ ہے لہٰذا اے۔ ڈی۔ ای خارج از امکان ہے۔ آخری بات یہ کہ ویکسین اے۔ ڈی۔ ای کے ممکنہ خطرے کو ذہن میں رکھ کر تیار کی گئی ہیں اور ویکسین میں ہی اس کا مناسب بندوبست موجود ہے۔

ان دو باتوں کے علاوہ اس سارے انٹرویو میں ویکسینیشن کے بعد لوگوں کے مر جانے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ وائرل ہونے والے اخباری تراشے میں حقائق کو توڑ پھوڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ یاد رکھیے کہ وبا کے دوران بیماری سے زیادہ خطرناک سازشی نظریات، غلط اور گمراہ کن سائنسی اور طبی معلومات ہیں جو جان لیوا ہو سکتی ہیں۔

ویکسین مہم کے معاملے میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ صرف دو ماہ پہلے تک، ویکسین تک محدود رسائی اور ہچکچاہٹ کی وجہ سے ویکسینیشن کا عمل نہایت سست رفتاری سے جاری تھا۔ تھی۔ آج کے اعداد و شمار کے مطابق ساٹھ لاکھ لوگوں کو کم از کم ویکسین کی ایک خوراک لگ چکی ہے۔ ویکسینیشن مہم میں انیس سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو شامل کر دیا گیا ہے۔ اور پاکستان نے چین کے تعاون سے ویکسین کی مقامی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔ یہ سب دو ماہ کی قلیل مدت میں این۔ سی۔ او۔ سی نے ممکن کر دکھایا جس پر شاباش تو بنتی ہے۔ تاہم اس رفتار سے بھی ایک سال میں آبادی کا تقریباً 10 فیصدی حصہ ہی مکمل ویکسین وصول کر سکے گا۔

ویکسین کے خلاف مزاحمت کوئی نئی بات نہیں۔ بچپن میں لگنے والے حفاظتی ٹیکوں کے بارے میں بھی سازشی نظریات موجود ہیں جیسا کہ ایم۔ ایم۔ آر ویکسین کو آٹزم سے جوڑنا۔ ڈاکٹر مونٹانئے ماضی میں بھی ویکسین کے خلاف مہم کا۔ کم از کم بیانات کی حد تک۔ حصہ رہ چکے ہیں۔ اس وقت جب ویکسینیشن مہم اپنے شباب پر ہے، مونٹانئے کے بیانیے کا وائرل ہونا مہم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے خاندان اور حلقہ احباب میں ویکسین سے متعلق خدشات کو رفع کرے تاکہ اس مہم کو کامیاب بناتے ہوئے ہم زندگی کو جلد معمول پر لانے کے قابل ہو سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *