خانوزئی میں کتب میلوں کا احوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالات اور دور جیسا بھی ہو مطالعہ کتب کہ اہمیت مسلمہ ہے۔ کورونا کی وبا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال میں کتاب کلچر کو عام کرنا ناصرف ضروری ہے بلکہ ناگزیر ہے۔ اس ٹک ٹاکی دور میں جہاں نوجوان کتاب سے کوسوں دور ہو گیا ہے اسے واپس مطالعہ کی جناب راغب کرنا اور اسے کتاب دوست ماحول فراہم کرنا یقیناً جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اور اگر پر خلوص کوشش کی جائے تو نتائج یقیناً حوصلہ افزا ہو سکتے ہیں۔

اسی حوالے سے مارچ کے مہینے میں ہم چند دوستوں نے آپس میں بات چیت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ سوسائٹی کو ہماری مدد کی ضرورت ہے لہذا یہی وقت ہے کہ معاشرے کو کچھ مثبت دیا جائے۔ میرا ذاتی تجربہ اس اقدام سے پہلے صرف کتاب پڑھنے کی حد تک تھا مگر اس بار کتب کی پیکنگ، تعلیمی اداروں تک ترسیل کے ساتھ ساتھ ان کی ترتیب وغیرہ کا شاندار تجربہ ہوا اور ایک دلی اطمینان محسوس ہوا کہ اگر پہلے صرف میں کتاب پڑھ رہا تھا اب میرے ساتھ مزید سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ کتب کا مطالعہ کریں گے اور یہی وہ واحد فائدہ ہے جو مجھے ان کتب میلوں سے حاصل ہوا۔

کورونا کی تیسری لہر کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بندش سے پہلے ہم لوگوں نے تین کتب میلے منعقد کروائے اور الحمدللہ کامیابی حاصل کی۔ اس حوالے سے ایک اور تجربہ یہ ہوا کہ اس سوچ کی بھی نفی ہوئی کہ عوام کتاب پڑھتی نہیں بلکہ دراصل ایسے پائیدار پلیٹ فارم کی موجودگی میں ہی لوگوں کا کتب کی طرف رجحان زیادہ بڑھے گا ورنہ منفی پہلو تو ہر جگہ موجود ہے۔ علاقہ کے عوام کی طرف سے اس حوالے سے کافی اخلاقی سپورٹ اور داد ملی۔

پہلا کتاب میلہ ( 15 مارچ سے 17 مارچ )

اس سلسلے میں پہلا کتاب میلہ ’گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج خانوزئی‘ میں منعقد کیا گیا۔ اس تین روزہ میلہ میں ہماری کوشش رہی تھی کہ بہترین سے بہترین کتب مہیا کی جاسکیں۔ اور یہ کتب تقریباً 20 فیصد سے 30 فیصد تک رعایت پر دستیاب تھیں۔ اس میلہ میں اسسٹنٹ کمشنر کاریزات سعید احمد دمڑ صاحب نے بھی شرکت کی اور انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا، جبکہ کالج کی پرنسپل محترمہ سیدہ مبین فاطمہ صاحبہ کی خصوصی معاونت اور دلچسپی کی بدولت یہ میلہ تین دن مسلسل جاری رہا جس میں طالبات کو مختلف موضوعات پر کتب فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔

دوسرا کتاب میلہ ( 22 مارچ سے 23 مارچ)
دوسرا میلہ 22 مارچ کو ’گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بلوزئی‘ میں شروع کیا گیا۔

پہلے ہمارا پلان تھا کہ یہ صرف ایک روزہ میلہ ہوگا مگر اسکول ہذا کی ٹیچرز اور طالبات نے جس دل چسپی کا مظاہرہ کیا اور کتب خریدیں اس بنا پر ہم نے اس میلہ کو ایک دن مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ لہذا یہ میلہ مسلسل دو دن تک بلا ناغہ جاری رہا اور خوشی کی بات یہ ہے کہ کوئی اسٹوڈنٹ بھی کتاب لیے بغیر نہیں گئی اور یہی وہ واحد مقصد تھا کہ طالبات کے ہاتھوں میں اچھی اور معیاری کتب پہنچائی جائیں۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ گرلز ہائی سکول بلوزئی ایک رول ماڈل سکول ہے، طالبات کے نظم و ضبط کو دیکھ کر خوشی ہوئی اور یہ بلاشبہ سکول کی ٹیچرز کی محنت اور ہیڈ ٹیچر کی قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان شاء اللہ یہی طالبات آگے چل کر اعلی تعلیم سے خود کو آراستہ کر کے ملک اور قوم کا نام روشن کریں گی۔

تیسرا کتاب میلہ ( 27 مارچ )

گھر گھر کتاب مہم کے سلسلے کی تیسری کاوش ’گورنمنٹ بوائز ہائی سکول خانوزئی‘ میں کتاب میلہ کا انعقاد کروانا تھا۔ اور بلاشبہ توقع سے بڑھ کر سکول کے طلباء بالخصوص اساتذہ نے نہایت گہری دل چسپی کے ساتھ کتاب میلہ میں حصہ لیا اور اپنی پسند کی کتابیں رعایتی قیمت پر حاصل کیں۔ ان تین ایونٹس کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کتاب کا دور چلا گیا ہے یا کتاب اب کوئی پڑھتا نہیں تو وہ لوگ غلط فہمیوں کو پال رہے ہیں، درحقیقت لوگ اب بھی کتابیں پڑھ رہے ہیں اور پبلشر کتابیں چھاپ رہے ہیں اور کتابوں کی خرید و فروخت حتیٰ کہ لاک ڈاؤن میں بھی جاری رہی۔ ہم لوگ خانوزئی بازار میں عوام الناس کے لیے ایک گرینڈ کتاب میلہ کا انعقاد کروانے کے بھی خواہش مند تھے مگر رمضان کی آمد اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس خواب کو فی الوقت شرمندہ تعبیر نہ کرسکے، امید کامل ہے کہ مستقبل میں ایسی بہت سی مثبت سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔

اس عظیم کاوش میں علاقے سے انصاف اسٹیشنری خانوزئی کے اونر شراف الدین کاکڑ نے خصوصی طور پر تعاون کیا جبکہ کتب کے لئے تکتو کتاب کور کوئٹہ اور ال جان پبلشرز کوئٹہ کے مشکور ہیں جنہوں نے نہایت معیاری کتب انتہائی رعایتی نرخوں پر فراہم کیں۔ اس سلسلے میں کتاب بینی کے شوقین افراد کی دلچسپی سے ہماری بہت حوصلہ افزائی ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *