ملکوں کی محاذ آرائی اور کسی معاشرے کی داخلی طبقاتی کشمکش میں فرق



دو ملکوں کی جنگ جس میں ایک ملک اپنی قوت سے دوسرے ملک پر محض اس لیے چڑھائی کردے کہ اس کے پاس عسکری قوت زیادہ ہے اور وہ اپنے توسیع پسند ایجنڈے کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ یہ ایک انتہائی سفاکانہ اور قابل مذمت فعل ہے۔

لیکن اگر کسی ملک کے اندر اس کی اپنی عوام طبقاتی کشمکش اور سماجی نا انصافی کی خلاف جدوجہد کرے تو میرے نزدیک یہ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ سماج میں پھیلے جبر اور نا انصافی کی خلاف کوئی تحریک چلانا اور استعماری قوتوں کے آگے ڈٹ جانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور ضروری نہیں کہ یہ جنگ ہتھیاروں ہی سے لڑی جائے۔ اس جدوجہد میں معاشرے کا ہر شخص اپنے مقدور کے مطابق حصہ لیتا ہے۔ اور اس قسم کی تحریکوں کے پیچھے شاعر۔ ادیب اور دانشور کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔

پورپ میں ریناساں تحریک اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے مفکروں اور دانشوروں نے اپنی تحریر اور تقاریر سے پسی ہوئی مخلوق کو نئی سوچ دی جس کے نتیجے میں ایک فکری انقلاب آیا۔ کلیسا اور پوپ کی حدود مقرر ہوئیں اور ایک زبردست صنعتی انقلاب برپا ہوا جس کے نتیجے میں پورپ ترقی کی راہ پر چل نکلا۔

اسی طرح روس میں زار کے خلاف بالشویک انقلاب نے روس سے استعماری قوتوں کو ختم کر کے سوویت یونین کی بنیاد ڈالی اور روس یورپی صنعتی انقلاب کا حصہ بنا۔

چین میں ماؤزے تنگ کے لانگ مارچ نے صدیوں پرانے جبر و استبداد سے چینیوں کو آزادی دلائی اور آج وہی افیمی چینی ترقی کے سفر میں یورپ اور ترقی یافتہ ملکوں سے کہیں آگے ہے۔

چند دہائی پہلے جنوبی افریقہ میں نیلسن مینڈیلا نے نسل پرستی اور Apartheid کے خلاف ایک طویل جدوجہد کے بعد اپنی عوام کو معاشرے میں برابری کی بنیاد اور عزت نفس عطا کی۔

ایران میں خمینی مرحوم کے اسلامی انقلاب ( قطع نظر مسلکی اختلافات) جبر و استبداد کے خلاف ایک بھرپور آواز تھی جس سے ایرانی معاشرے کو پلک جھپکتے تبدیل کر کے رکھ دیا۔

اسی طرح روسی انقلاب اور چین میں سرخ انقلاب کے بعد برصغیر میں بائیں بازو کی ترقی پسند تحریک نے کم از کم علمی سطح پر رجعت پسندی کے خلاف ایک سوچ دی جس میں شاعروں اور ادیبوں کا ایک بڑا حصہ رہا ہے۔ اس دور میں ادیب اور شاعر روایتی رومانی شاعری سے نکل کر بھوک۔ آفات۔ جبر اور دار و رسن کی باتیں کرتے نظر آئے۔ بہت سے انقلابیوں نے اپنے نظریہ کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ ان کے نظریات کیا تھے کیا وہ ہماری سوچ اور مزاج سے مطابقت رکھتے تھے یا نہیں یا یہ کہ وہ اشتراکیت کے نظام کے لیے مسلح جدوجہد کے حق میں تھے تو کیوں تھے۔ یہ انسپائریشن انہیں کہاں سے ملی۔

اگر اسی تناظر میں چیزوں کو دیکھنا شروع کر دیا جائے تو ہر نظریہ دوسرے سے متصادم ہوتا ہے اب اس کے بیچ میں سچ کہاں یہ آج تک ایک نا سمجھ میں آنے والا معمہ ہے اور کوئی ایک ایسا فارمولا نہیں جو ہر مکتبہ فکر کو مطمئن کر سکے۔

یہ بھی اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہی انقلابی تحریکیں اور عناصر جو عوام کی مکتی اور جبر کے خلاف بلند و بالا نعرے لگا رہے تھے انقلاب برپا ہونے اور تحریک کے کامیاب ہونے کے بعد خود اسی جبر و استبداد کی علامت بن جاتے ہیں جس کے خلاف انہوں نے عوام کو موٹیویٹ کیا تھا۔ اس کی بڑی مثال روس میں کمیونسٹ پارٹی کا اقتدار پر قبضہ اور پھر انقلاب کے سرخیل لینن اور اسٹالن کے مظالم اور عوام کو ایک نئے جبر اور غلامی میں جکڑ لینا تھا۔ یہی کچھ چینی سرخ انقلاب کے بعد ہوا۔ اور اشتراکیت کا فلسفہ کہیں پس منظر میں کھو گیا

یورپ اور شمالی امریکہ کی ریاستوں نے صنعتی انقلاب کے بعد اپنے قوانین میں بڑی حد تک سماجی انصاف اور عوام کی بہبود پر عمل کرایا جس سے عوام کی شخصی آزادی۔ معاشی اور معاشرتی انصاف کی صورتحال میں بہت بہتر ہوئی۔

غرض یہ کہ دنیا میں کوئی یوٹوپیائی ریاست نہ کبھی پہلے تھی۔ نہ آج ہے اور نہ ہی کبھی ہوگی۔ بس سب کچھ یوں ہی چلتا رہا ہے اور چلتا رہے گا۔

ہم زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتے ہیں کہ انفرادی طور پر اپنی روزمرہ کی زندگی میں ایک اچھے انسان بننے کی کوشش کریں۔ اپنے اطراف میں پھیلے لوگوں کی راحت کا کوئی بندوبست کردیں اور اپنی ذات سے معاشرے میں کوئی بگاڑ نہ ہونے دیں۔ اگر اتنا بھی ہو جائے تو مجھے یقین ہے کہ ہماری کوئی تو سمت مقرر ہو پائے گی یا پھر جس طرح سب چل رہا ہے چلنے دیں اور کسے غیبی مدد یا کسی اوتار کے انتظار می خواب غفلت کے مزے لیتے رہیں۔

ایک قطعہ۔
تم کہ ہو کوہ گرفتہ زندگی سے دور۔
مردہ ساحروں کی بے نشاں قبروں کے سجادہ نشیں۔
سایہ ابر گریزاں کو دیکھتے رہنا تمھارا جزو دین۔

Facebook Comments HS

One thought on “ملکوں کی محاذ آرائی اور کسی معاشرے کی داخلی طبقاتی کشمکش میں فرق

  • 01/06/2021 at 6:55 صبح
    Permalink

    ہماری کم از کم قومی ذمّہ داری یہی ہے کہ اپنے گھر اور اپنے کام کی جگہ پر اپنے زیرِ اثر افراد کو انصاف فراہم کریں اور ان کو راہِ راست پر رکھنے کی کوشش کریں۔

Comments are closed.