انتخابی اصلاحات، دھاندلی اور تیسری آنکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے علاقہ ویلز میں دنیا کا پہلا تین آنکھوں والا بچھڑا دیکھا گیا ہے۔ بچھڑے کے ماتھے پر درمیان میں ایک تیسری آنکھ موجود ہے۔ بچھڑا چار ماہ کا ہو چکا ہے اور صحت مند ہے۔ تیسری آنکھ اس کے ماتھے پر موجود ہے مگر بند ہونے کے سبب اس تیسری آنکھ کا کسی بھی قسم کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اگر وہ آنکھ دیکھنے کے عمل میں شامل ہوتی تو یقینی طور پر بچھڑے کو بہت مشکل پیش آتی۔ قدرت نے جانداروں کے نقوش میں ایک مماثلت رکھی ہے۔ اگر کسی ذی روح میں اس ترتیب کا ہیر پھیر ہو جائے تو خد و خال عجیب ہیئت اختیار کر لیتے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کی پیدائش کے ساتھ ہی ایک تیسری آنکھ بھی پیدا ہو گئی تھی۔ جن ممالک میں امور ریاست آئین و قانون کے مطابق چلائے جاتے ہیں وہاں معاملات کو دو آنکھوں (حکومت اور اپوزیشن کی نگاہ) سے ہی دیکھا جاتا ہے اور چہرے پر تیسری آنکھ کی موجودگی کا شائبہ بھی نہیں ہوتا لیکن جہاں طاقتور خود کو ماورائے آئین سمجھیں، ہر احتساب سے بالاتر ہو جائیں، وہاں اس تیسری آنکھ (طاقتور اسٹیبلشمنٹ) کی نشو و نما باقی نقوش کی نسبت تیز ہو جاتی ہے۔ اس اضافی آنکھ کا ادراک قائداعظم محمد علی جناح کو بھی ہو گیا تھا اسی لئے وہ وقتاً فوقتاً تنبیہ بھی کرتے رہے، کبھی اپنے خطاب میں افسران کا حلف دہرا کر اور کبھی انھیں آئینی حدود میں رہنے کی تلقین کرتے ہوئے اصل فرائض منصبی یاد کرواتے رہے۔ بدقسمتی سے قائد کی رحلت کے بعد تیسری آنکھ نے تیزی سے پھلنا پھولنا شروع کر دیا اور اب تیسری آنکھ بہت بڑی ہو چکی ہے اور اس نے ایسا ہالہ باندھا ہے کہ دیگر تمام نقوش اس کے عکس تلے چھپ گئے ہیں۔ اب تیسری آنکھ نہ صرف مناظر کو اپنے من پسند انداز سے دیکھتی ہے بلکہ بقیہ دو آنکھوں پر بھی اپنا زاویۂ نگاہ مسلط کرنا چاہتی ہے۔

گزشتہ چند ماہ سے انتخابی اصلاحات کی بازگشت جاری ہے، اصلاحات کے اہم نکات الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی تکنیکی خصوصیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے ہم ایک کالم میں تفصیلی بات کر چکے ہیں۔ ان مشینوں کے حوالے سے صدرمملکت اور وزیراطلاعات جو مبہم تاویلیں پیش کر رہے ہیں وہ کسی طور مناسب نہیں۔ مشینوں کی تیاری پر اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی انتخابی نتائج میں شفافیت کا فقدان رہے گا۔

اپوزیشن اتحاد PDM اور پیپلز پارٹی نے الیکٹرانک ووٹنگ کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور الیکشن کمیشن کی 20 مئی 2021 کی پریس ریلیز کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان مشینوں کے فوری استعمال کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ وہ اس عمل کو ابھی مزید پرکھنا چاہتے ہیں تاکہ اس کو نقائص سے پاک کیا جا سکے لیکن حکومتی اقدامات کی رو سے گمان ہوتا ہے کہ حکومت اس نئے طریقۂ انتخاب کے لئے بہت جلدی میں نظر آ رہی ہے۔ صدر مملکت ان مشینوں کو دھاندلی سے پاک سمجھتے ہوئے جو توجیہات پیش کر رہے ہیں وہ قابل فہم نہیں ہیں۔ اس نئے انتخابی طریق سے الزامات کی بھٹی سلگانا مزید آسان ہو جائے گا۔ زیادہ پرانی بات نہیں، مئی 2013 کے انتخابات کو دھاندلی زدہ ثابت کرنے کے لئے عمران خان نے اردو بازار سے بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ سمیت کئی ایسے الزامات لگائے جو بعد میں غلط ثابت ہوئے لیکن صورتحال کشیدہ بنائے رکھنے کے لئے ایک طویل عرصہ تک انہوں نے اپنے بے سروپا الزامات سے اودھم مچائے رکھا۔ ایسے ماحول میں جہاں فریقین کو بدگمانیوں نے گھیرا ہو، آپس میں اعتماد کا فقدان ہو اور ہر طرف بے یقینی کے سائے ہوں وہاں مشینوں کے اس نئے طریقۂ انتخاب کو یک طرفہ طور پر نافذ کرنے سے انتخابی عمل مزید متنازعہ ہو جائے گا۔ ایسی صورتحال میں نئی اصلاحات دھاندلی الزامات کے لئے مزید ایندھن مہیا کرنے کا سبب بنیں گی۔ مزید براں موجودہ حکومت جس میں اربوں روپے کی کرپشن کے ان گنت سکینڈلز آئے ہیں، شاید اس لیے بھی مشینوں کی تیاری میں دل چسپی رکھتی ہے تاکہ کسی اے ٹی ایم کو نوازا جا سکے۔

ملکی تاریخ کے تمام جنرل انتخابات میں ہارنے والوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات معمول بن چکا ہے۔ حتیٰ کہ عمران خان کی جانب سے شفافیت کی سند قبولیت حاصل کرنے والے سنہ 1970 کے انتخابات کے بارے میں بھی محترم حامد میر صاحب نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ کیوں فری اینڈ فیئر نہیں تھے۔ میر صاحب نے اس دور کے الیکشن کمیشن اور مقتدرہ کی جانبداری کو مستند حوالوں سے ثابت کیا ہے۔ الزامات لگانے کی اس روش کو اب تبدیل ہونا چاہیے۔ موجودہ انتخابی ایکٹ تمام جماعتوں کا متفقہ مسودہ ہے۔ اس لئے نت نئی تبدیلیاں لاگو کرنے کی بجائے اسی موجودہ نظام کی بے ضابطگیاں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

حالیہ ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنی غلطیوں کو سدھار کر اس نظام کو بہتر کرنے کی خاطرخواہ کوشش کی ہے۔ چند ہفتوں پہلے خوشاب میں ہونے والے ضمنی انتخاب کو پہلا نتیجہ کہا جا سکتا ہے جس میں ہارنے والے امیدوار نے کسی دھاندلی کا الزام نہیں لگایا۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن کا کردار لائق تحسین ہے۔ فارن فنڈنگ کیس کے مسلسل التوا سے صرف نظر کریں تو موجودہ الیکشن کمیشن ہر لحاظ سے بہتری کی طرف گامزن ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ الیکشن کمیشن جلد ہی اس کیس میں بھی کسی حتمی نتیجہ پر پہنچ جائے گا۔ بے قاعدگیاں دور کرنے کے ساتھ الیکشن کمیشن پاکستان کو الیکشن ٹریبونلز کے حوالے سے بھی بہتری لانی چاہیے تاکہ مقررہ مدت میں انتخابی درخواستوں کا فیصلہ ہو سکے اور سیاسی جماعتوں کو بھی ایسی قانون سازی کرنی چاہیے کہ مقدمات سالوں لٹکانے کی بجائے طے شدہ وقت میں فیصلہ دیا جا سکے بھلے ججز کو اضافی وقت میں بھی بیٹھنا پڑے۔

اصلاحات کی بات کی جائے تو پاکستان کے لئے سب سے زیادہ اہم اصلاح ’تیسری آنکھ‘ کا کردار ختم کرنا ہے۔ الیکشن سے پہلے اور بعد میں سیاسی قوتیں آپس میں میل ملاپ سے حکومتیں بنائیں تو سیاسی نظام مضبوط ہوتا ہے لیکن جب الیکشن سے ایک ہفتہ پہلے طاقتور افراد نہ صرف کاغذی سروے کے ذریعے فرضی رجحان بتائیں اور RTS بند کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کرتے ہیں تو وہ حقیقی نتائج کی بجائے ”تیسری آنکھ ’کے من پسند نتائج کہلاتے ہیں۔ جب وہ چھتیس اراکین کو چونسٹھ اراکین سے جتوا دیتے ہیں تو دراصل وہ پاکستان کے چہرے کو داغدار کر رہے ہوتے ہیں۔ خارجی معاملات ہوں یا داخلی اس‘ تیسری آنکھ ’کو اب سمجھ جانا چاہیے کہ اسے تصویر کا صرف ایک رخ نظر آ تا ہے۔ آرمی چیف کے تنہا دورہ افغانستان کے کچھ ہی دن بعد افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ کہاں تو ہم دنیا کی پچیسویں معیشت بن رہے تھے اور کہاں اب افغانستان بھی ہمیں دھمکیاں دیتا ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ مسائل حل کرنے کے لئے میچور سیاسی قیادت ازحد ضروری ہے۔

’تیسری آنکھ‘ کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ اس کی بے جا مداخلت پاکستان کے دیگر نقوش پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اس کی من مرضی کا خمیازہ عوام اور پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد PDM کا لانگ مارچ کی بجائے جولائی سے جلسوں کا اعلان ایک مثبت پیش رفت ہے اور شہباز شریف بھی مذاکرات کے لئے کافی تگ و دو کر رہے ہیں۔ یہ بہترین وقت ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز آپس میں رنجشیں بھلا کر ڈائیلاگ کریں۔ یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ ’تیسری آنکھ‘ اب پاکستان کے خوبصورت نقوش کو دھندلا رہی ہے۔ اس کا بڑھتا سائز پاکستان کے چہرے پر بوجھ بن رہا ہے۔ اگر پاکستان کے چہرے کو مزید خوش شکل بنانا ہے، اس کے چہرے سے مارشل لائی داغ دھبے دور کرنے ہیں تو ’تیسری آنکھ‘ کو محدود کرنے میں ہی عافیت ہے۔ مذاکرات کریں اس سے پہلے کہ پانی سر سے اونچا ہو جائے، اس سے پہلے کہ کوئی نیا سانحہ ہو جائے آپس میں مل بیٹھیں کیونکہ ان تمام مسائل کا صرف ایک ہی حل ہے ڈائیلاگ، ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *