پاکستان میں بائیو ٹیکنالوجی کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بائیو ٹیکنالوجی سے مراد انسان کے فائدے کے لئے مائیکرآرگنزم، پودوں اور جانوروں کا استعمال کرنا ہے۔ یہ سائنس میں متعارف ہونے والی جدید اصطلاحات میں سے ایک ہے۔ بائیوٹیکنٹلوجی ایک وسیع مضمون ہے جس نے دور حاضر کے مختلف شعبہ جات میں انقلاب برپا کیا ہے۔ میڈیکل، زراعت، ماحولیات اور انڈسٹری کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میڈیکل کے شعبے میں مختلف ادویات بائیو ٹیکنالوجی کی بدولت تیار کی جا رہی ہیں جن میں اینٹی بائیوٹکس، سٹیرائڈز اور اینزائم تیار کیے جا رہے ہیں۔ انسولین کی تیاری بائیو ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے۔ اس کے علاوہ کینسر کے علاج کے لئے جین تھراپی متعارف کرائی گئی ہے جس کی بدولت آج کینسر قابل علاج ہے۔ ویکسین بائیو ٹیکنالوجی کی سب سے اہم دریافت ہے۔ حال ہی میں کرونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹ اور ویکسین بائیو ٹیکنالوجی کی قابل قدر پراڈکٹس ہیں۔

اسی طرح زراعت میں بائیو ٹیکنالوجی نے انقلاب برپا کیا ہے۔ بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی فصلیں متعارف کرائی گئی ہیں جن کو کیڑے مار ادویات کا سپرے کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ BT۔ Cotton اس کی بہترین مثال ہے جو قدرتی زہر پیدا کر کے کیڑوں کو مار دیتی ہے۔ اسی طرح ماحولیات کے شعبے میں بائیو فلٹر متعارف کرائے گئے ہیں جو کہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اسی طرح فوڈ انڈسٹری کی بہتری کے لئے بائیوٹیکنٹلوجی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

اگر پاکستان میں دیکھا جائے تو بائیو ٹیکنالوجی ابھی نمو پا رہی ہے۔ پاکستان میں 40 کے قریب بائیو ٹیکنالوجی کے ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ادارے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجنیئرنگ نے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے ذیلی ادارے CEMB، CAMB اور SBS اہم خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ 2005 میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے ایک کمیشن بنایا جس کا مقصد بائیو ٹیکنالوجی کو پروان چڑھانا تھا اور اس کمیشن کے تحت 2005۔

2010 کا منصوبہ بنایا گیا اور اس کے لئے 2 بلین مختص کیے گئے مگر اس منصوبے پر خاطر خواہ توجہ نہ دی جا سکی اور اس کی وجہ وسائل اور فنڈز کی عدم دستیابی تھی۔ اگر اس منصوبے کو جاری رکھا جاتا تو کرونا وائرس کی حالیہ صورتحال میں پاکستان اپنی ٹیسٹنگ کٹس اور ویکسین بنانے کے بہت جلد قابل ہوتا۔ اس کی نسبت اگر ہمسایہ ملک بھارت کو دیکھا جائے تو وہاں بائیو ٹیکنالوجی کے لئے بجٹ مختص کیا گیا ہے اور کے ابتدائی دنوں میں ٹیسٹنگ کٹ بنانے میں کامیاب ہوئے اور ویکسین بھی جلد ہی بنا لی۔

مگر خوش آئندہ بات ہے کے پاکستان بھی چینی کمپنی سے مدد لے کر اپنی ویکسین فراہم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس وقت وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو بائیو ٹیکنالوجی کی طرف توجہ دینا ہو گی تاکہ ہم مختلف شعبوں خود کفالت حاصل کر سکیں۔ اس سلسلے مین نجی شعبے کے سٹیک ہولڈرز کو بھی توجہ دینی چاہیے۔ اس طرف فارماسیوٹیکل انڈسٹری، فوڈ انڈسٹری، زراعت سے منسلک سٹیک ہولڈرز کی توجہ کی ضرورت ہے۔ اس شعبے پر اگر خاطر خواہ توجہ دی جائے تو آنے والے چند سالوں میں ایشین ٹائیگر بن سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *