ایک دور تھا جب سلطنت اسلامیہ کے حکمران کہا کرتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے کتا بھی مر گیا تو اس کا ذمہ دار حاکم ہے اور آج کی اسلامی جمہوری سلطنت میں کتا دور کی بات ہے انسانوں کا چیڑ پھاڑ کیا جا رہا ہے۔ انسانیت سسک رہی ہے۔ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والے خاموش ہیں۔ کبھی زینب کی روح تڑپتی ہے تو کبھی ملکی شاہراؤں پر ایک ماں کی عزت اس کی اولاد کے سامنے ہی تار تار کر دی جاتی ہے۔ یہ کیسی اسلامی جمہوریہ ہے جہاں نہ شیر خوار محفوظ ہیں اور نہ مائیں محفوظ ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہر طرف درندے پھر رہے ہیں۔ اسلامی سلطنت کا ایسا عظیم دور تھا جب مکہ مدینہ سے کوفہ تک جوان عورت بے خوف و خطر سفر کرتی تھی اور آج مملکت خداداد میں راہ جاتی ایک ماں اپنے بچوں کے سامنے عزت لوٹا بیٹھتی ہے اور پھر بھی ہم ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ آج شاید زمین و آسمان بھی شرمندہ ہوں گے مگر حضرت انسان کو پتہ ہی نہیں کہ شرمندگی ہے کیا؟ اگر پاکستان میں پچھلے تین چار سالوں میں دیکھا جائے تو ہر روز میڈیا پر اس طرح کے واقعات سننے کو ملے ہیں اور پتہ نہیں اس سے کہیں زیادہ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو میڈیا کو پتہ نہیں چلتا۔
Read more