میرا حق ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”بابا مجھے نکاح نامہ پڑھنے تو دیں رابعہ نے نکاح نامہ پر دستخط کرنے سے پہلے بابا سے کہا۔“ کیا کرو گی پڑھ کر؟ کوئی ضرورت نہیں دستخط کرو یہیں کافی ہے ”“ بابا میری پوری زندگی کا سوال ہے اور یہ کیا آدھی شقیں تو اس میں کٹی ہوئی ہیں آپ مجھ سے میرے حقوق میرے ہی ہاتھوں تلف کروا رہے ہیں؟ ”“ صحیح کہتے ہیں بیٹیوں کو تعلیم سے روشناس نہیں کروانا چاہیے کیونکہ اس کے بعد وہ والدین کے آگے زبان چلاتی ہیں ”۔“ بابا میں زبان نہیں چلا رہی میں اپنے حقوق کی بات کر رہی ہوں مجھے میرے حقوق چاہیے ”“ تماشا نہیں بناؤ دستخط کرو ”۔“ نہیں کر رہی میں دستخط ”۔ یہ کہتے ہوئے رابعہ بھرے خاندان کے سامنے سے اٹھ کر چلی گئی۔

نکاح نامہ میں جہاں عورت کے حقوق درج ہوتے ہیں اس حصہ کو بڑی بے دردی سے کاٹ دیا جاتا ہے اور روبعہ جیسی سو میں سے کوئی ایک ہوتی ہے جو دستخط سے انکاری ہو باقی ڈاکٹر، انجینیئر، پی ایچ ڈی کتنی بھی ڈگری یافتہ کیوں نہ ہو چپ چاپ دستخط کر دیتی ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس خانے میں کون سی ایسی شقیں ہوتی ہیں جنھیں بے دردی سے کاٹ دیا جاتا ہے۔

ان شقوں میں عورت کو طلاق کا حق تفویض کیا جاتا ہے، ماہانہ خرچ کے بابت پوچھا جاتا ہے، جائیداد، ورثہ اور دوسری شادی کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اس سب کو بے دردی سے کاٹ دیا جاتا ہے۔

اس سب کا سب سے زیادہ نقصان عورت کو ہوتا ہے اگر شادی کے بعد نباہ نہیں ہو پاتا تو عورت خلع کے لیے عدالتوں کے دھکے کھا رہی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ مرد ماہانہ خرچ کے نام پر بیوی کے ہاتھ پر رقم رکھنے کا بھی خود کو پابند نہیں سمجھتے بلکہ وہ بے چاری تو کبھی کبھار اتنی بے بس بھی ہوتی ہے کہ گائنی کا نمبر لینے کے لیے لائن میں کھڑی ہوئی ہوتی ہے اور شوہر نامدار پیچھے والٹ لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ ابھی فیس بتائے گی اور وہ رقم ہاتھ میں تھمائیں گے وہ عورت جو دن اور رات آپ کی اور آپ کے ہوتے سوتوں کی خدمت کر رہی ہوتی ہے کیا اس کے پاس اتنا بھی حق نہیں کہ ڈاکٹر کے یہاں جانے سے قبل اسے پیسے دیے جائیے تاکہ وہ فیس دینے کے لیے آپ کی طرف نہ دیکھے مگر یہاں تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا مرد نکاح کر کے نان نفقے کی فراہمی کا احسان کرتے ہیں اور انھیں بیویوں کی آنکھوں میں مانگنے کا تاثر دیکھ کر خوشی ملتی ہے حتی کہ وہ عورت جو ذلت اور تذلیل محسوس کرتی ہیں اس کا اندازہ آپ کے لیے کرنا ہی ناممکن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *