آبادی بڑھنے کی شرح میں مسلسل کمی، چین میں تین بچے پیدا کرنے کی اجازت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین نے حالیہ مردم شماری میں ملکی آبادی میں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر جوڑوں کو تین بچے پیدا کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘شنہوا’ کے مطابق یہ فیصلہ پیر کو صدر شی جن پنگ کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔

فیملی پلاننگ میں نرمی کا یہ فیصلہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب گزشتہ ماہ چین کے ادارۂ شماریات نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ آبادی بڑھانے کی کوششوں کے باوجود 2020 میں ایک کروڑ 20 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوئی جو 2016 میں ایک کروڑ 80 لاکھ بچوں سے بہت کم ہے۔

خیال رہے کہ چین نے آبادی بڑھنے کی کم شرح کے باعث 1978 میں نافذ کی جانے والی ‘ون چائلڈ’ پالیسی 2016 میں ختم کر دی تھی جس کے بعد جوڑوں کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

حکومت کے نئے فیصلے کے بعد جوڑے تین بچے پیدا کر سکتے ہیں۔

اپریل 2021 میں ادارۂ شماریات کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چین میں شرح تولید 1.3 فی صد ہے جو آبادی بڑھنے کی مستحکم شرح سے بہت کم ہے۔

دہائی میں ایک مرتبہ جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے تھا کہ 2020 میں چین کی آبادی بڑھنے کی شرح 1960 کے بعد کم ترین رہی جب کہ ملک کی اس وقت آبادی ایک ارب 41 کروڑ ہے۔

چین میں آبادی بڑھنے کی شرح ایسے وقت میں کم ہو رہی ہے جب چینی حکام کے مطابق ملک میں ورک فورس یعنی کام کرنے والی نوجوان نسل مسلسل کم ہو رہی ہے جب کہ عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

چین کی ون چائلڈ پالیسی کیا تھی؟

چین کی حکومت کی جانب سے 1978 میں متعارف کرائی گئی ‘ون چائلڈ’ پالیسی کا مقصد آبادی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح کو کنٹرول کرنا اور غربت میں کمی لانا تھا۔

پالیسی کے تحت جوڑوں کو صرف ایک بچہ پیدا کرنے کی اجازت تھی۔ تاہم 80 کی دہائی میں پالیسی میں کچھ تبدیلی کرتے ہوئے دیہی آبادی کو پہلی اولاد لڑکی ہونے کی صورت میں ایک اور بچہ پیدا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

البتہ، آبادی میں مسلسل کمی کے پیشِ نظر چینی حکومت نے 2016 میں ‘ون چائلڈ’ پالیسی ختم کرتے ہوئے دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس اجازت کے باوجود حکومت کی توقعات کے مطابق آبادی نہیں بڑھ سکی۔

چین میں ون چائلڈ پالیسی کی وجہ سے صنفی توازن کا مسئلہ بھی درپیش رہا ہے۔ نوجوان مردوں کو شادی کے لیے لڑکی کا ملنا بھی اہم مسئلہ بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق ‘ون چائلڈ’ پالیسی اور روایتی سماجی پہلوؤں کی وجہ سے لوگ لڑکے پیدا کرنے کو ترجیح دیتے رہے ہیں اور لڑکیوں کی پیدائش روکنے کے لیے اسقاطِ حمل کا بھی رجحان رہا ہے۔

چین کے ادارۂ شماریات کے مطابق گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ساڑھے تین کروڑ مرد خواتین کی نسبت زیادہ تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2212 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *