پائیدار ترقی اور دنیا کا مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پائیدار ترقی یا sustainable development کا تصور پہلی بار 1987 میں پیش کیا گیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ معاشرے کی تشکیل ایسے کی جائے کہ معاشرہ لمبے عرصے تک قائم رہ سکے۔ یعنی پالیسی اور فیصلہ سازی میں مستقبل کو مدنظر رکھا جائے اور ترقی کے ایسے طریقے اپنائے جائیں جو نہ صرف معاشرے کو استحکام بخشیں بلکہ قدرتی وسائل کے کم سے کم استعمال کے ساتھ سماجی و معاشی برابری کو عام کریں کیونکہ جن معاشروں میں سماجی و معاشی ناہمواریاں واضح ہوتی ہیں وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ پاتے۔

پائیدار ترقی کا خواب صنعتی انقلاب کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ انیسویں صدی کے وسط میں یورپ میں یہ تصور راسخ ہونا شروع ہو گیا کہ جدید معاشی اور صنعتی ترقی کا ڈائریکٹ اثر قدرتی ماحول پر ہوتا ہے اور یہ سماجی ناہمواری کی وجہ بھی بنتی ہے۔ اس کے بعد ترقی کے ایک ایسے تصور کو وضع کیا گیا جو زیادہ پائیدار ہو جس کا ماحول اور معاشرے پر منفی اثر کم سے کم ہو۔ جدید دنیا میں کچھ ایسے بحران وقوع پذیر ہوئے جن کے نتیجے میں پائیدار ترقی کی سوچ تیزی سے علمی و سیاسی بحث کی صورت اختیار کر گئی۔

جیسے 1907 میں امریکہ میں پیدا ہونے والے بینکنگ کا بحران، 1929 کا مالیاتی بحران، 1968 میں دنیا میں افسر شاہی کے خلاف ہونے والے مظاہرے، 1973 سے 1979 تک پٹرولیم کا بحران، 1986 چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ کا حادثہ، 1989 میں الاسکا کے سمندر میں بحری حادثے میں بڑے پیمانے پر سمندر میں آئل کا اخراج، گلوبل وارمنگ، ماحولیاتی آلودگی، اوزون کی تہہ میں کمی اور مختلف قسم کے وبائی امراض وغیرہ۔ ان بحرانوں اور ان حادثوں نے دنیا کو یہ ضرور باور کروا دیا کہ یہ پوری دنیا کے انسانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لئے کوئی مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

1972 میں کمپیوٹر سیمولیشن کے ذریعے مطالعہ کیا گیا کہ اگر ترقی کے لئے دنیا کے وسائل بے دریغ استعمال ہوتے رہے تو اکیسویں صدی کے اختتام پر دنیا کس قسم کے بحران سے دوچار ہو گی۔ اس مطالعے کی بنیاد پانچ اجزاء پر رکھی گئی جن میں دنیا کی آبادی میں اضافہ، صنعتی ترقی، ماحولیاتی آلودگی، خوراک کی پیداوار اور انرجی کے غیر قابل تجدید ذرائع پیداوار کا استعمال شامل تھے۔ کمپیوٹر سیمولیشن سے جو نتیجہ برآمد ہوا وہ خوفناک تھا کہ اگر انسان نے ترقی کی کوئی لمٹ مقرر نہ کی تو اکیسویں صدی کے آخر میں دنیا شدید ترین معاشی اور معاشرتی بحران کی زد میں ہو گی جس سے نکلنا ممکن نہ ہو گا۔

صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے دنیا کی پہلی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا انعقاد اقوام متحدہ نے 1972 میں کیا جس کا بڑا موضوع ماحولیاتی اور قدرتی وسائل کا تحفظ تھا۔ اس کانفرنس کا مقصد ایسے عالمی اصول وضع کرنا تھا جن کو اپنا کر دنیا میں متوازن ترقی کے ساتھ قدرتی ماحول کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرہ ارض کے وسائل محدود ہیں اور اگر انہیں ترقی کے لئے بغیر کسی حکمت عملی کے بے دریغ خرچ کیا جائے تو یہ ختم ہو جائیں گے۔

قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کے منفی اثرات دنیا میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں جن میں قابل ذکر ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہیں۔ 1992 میں شروع ہونے والی اس بحث کو سمیٹتے ہوئے 2015 میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے دنیا میں پائیدار ترقی کے سترہ گولز (SDGs) وضع کیے گئے اور طے کیا گیا کہ دنیا میں ان 2030 تک ان پر مکمل عملدرآمد کروایا جائے گا۔ یہ گولز غربت کے خاتمے، خوراک کی فراہمی، صحت کی سہولیات، کوالٹی ایجوکیشن، صنفی مساوات، صاف پانی و صفائی کی سہولیات، محفوظ ذرائع انرجی، معاشی ترقی، صنعتی ترقی، ناہمواریوں کے خاتمے، موسمیاتی تبدیلی، سمندری حیات کا تحفظ، امن اور انصاف کے متعلق ہیں۔ آج اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک اینڈ سوشل افیئرز کے زیر انتظام ان گولز پر دنیا میں عملدرآمد اور کپیسٹی بلڈنگ کے لئے باقاعدہ ایک ڈویژن کام کر رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کسی ایک قوم یا ملک کا مسئلہ نہیں۔ یہ اس کرہ ارض پر بسنے والے ہر انسان کا مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ نے دنیا میں پائیدار ترقی اور اس کے گولز کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لئے جامع حکمت عملی ترتیب دی ہے جس پر عمل ہو رہا ہے مگر یہ دنیا کی تمام گورنمنٹ کی بھی ذمہ داری ہے کیونکہ ان کی ایکٹیو شمولیت کے بغیر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ہر گورنمنٹ کو چاہیے کہ ان گولز پر عملدرآمد کے لئے باقاعدہ قانون سازی کرے اور عوام میں آگاہی پیدا کرے۔ ہر شہری کا بھی یہ فرض ہے کہ ان گولز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے کیونکہ یہ ہم سب کے مستقبل کا سوال ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک مستحکم و متوازن معاشرہ اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *