پشتون تحفظ موومنٹ دوراہے پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ سال قبل جب سے پشتون تحفظ موومنٹ نے عوامی مقبولیت حاصل کی ہے تب سے اور اس تحریک کے رہنماؤں سے ایک عجیب جذباتی وابستگی محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ میرا اپنا تعلق اس خطہ سے ہے جہاں ریاست کی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کی وجہ سے ہم سب بالواسطہ یا بلاواسطہ متاثر ہوئے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ نے بلا شبہ ریاست کی بھیانک حکمت عملی کو بیچ چوراہے ننگا کیا ہے اور یہ ہی نہیں اس تحریک نے تاریخ کی جانب عام پاکستانی بالخصوص عام پشتون کی نگاہیں موڑی ہیں۔

جدید ریاست اور جدید سیاسی تصورات کے مطابق اس تحریک نے شعور اور آگاہی عام کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ اس کے پیچھے پس منظر میں لاتعداد وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی اور بنیادی وجہ اس تحریک کا جنگ زدہ علاقوں سے وابستہ ہونا ہے۔ یہ تحریک دہائیوں سے جاری ریاستی استبداد اور جبر کے خلاف ایک رد عمل ہے۔ ایک ری ایکشن جسے شاید بس اور نہیں دبایا جا سکتا تھا۔ جہاں جنگ سے نسلیں اجڑ جاتی ہیں وہاں لوگوں کے پاس کھونے کو رہ کیا جاتا ہے؟ اس لئے شاید تحریک کے بڑوں سے لے کر عام کارکنان تک سب ان معاملات پر بھی متحرک دکھائی دیتے ہیں جن پر بات کرنا بھی گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا۔

لیکن ان تمام تر خوبیوں کے باوجود نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ یہ تحریک ایک متحرک پریشر گروپ کے طور پر سامنے آئی، اس کے اہداف اول تو کچھ زیادہ واضح نظر نہیں آئے اور اگر نظر آئے بھی تو اہداف کی تکمیل کہیں بھی محسوس نہیں ہوئی۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ پی ٹی ایم کو ریاست کی جانب سے پہلے پہل جو توجہ ملتی رہی اس میں کمی دیکھنے کو ملی اور ساتھ ہی ساتھ تحریک کے ذمہ داروں اور کارکنان کو کئی موقعوں پر کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ دھرنے سے دھرنے تک کا سفر جاری رہا لیکن تحریک کی تذبذب کبھی کبھار نظر آنے لگی۔ شاید یہ کہنا مبالغہ آرائی ہوگی کہ پی ٹی ایم رفتہ رفتہ مقبولیت کھونے لگی لیکن یہ حقیقت ہے کہ غیر متعین اہداف اور واضح لائن آف ایکشن نہ ہونے کی وجہ سے اس کی توانائی کم ضرور ہوئی۔

کامیاب تحریکیں، پریشر گروپ سے سیاسی پلیٹ فارم اور پارلیمانی پلیٹ فارم تک کا سفر طے کرتی ہیں۔ تب کہیں جا کر اہداف حاصل کیے جاتے ہیں۔ غیر پارلیمانی سیاست یا جدوجہد کی عمر کم ہوتی ہے اور اس کے علاوہ مستقبل میں غیر پارلیمانی جدوجہد پر لوگوں کا اعتماد کم ہوتا جاتا ہے۔

پی ٹی ایم میں شاید اوائل سے ہی اس بات پر اختلاف رہا کہ اس تحریک کی حیثیت پارلیمانی ہونی چاہیے یا غیر پارلیمانی؟ اور یہ سوال کئی زاویوں سے اہم بھی تھا۔ پی ٹی ایم میں شامل اکثر لوگ سیاسی اعتبار سے دو میں سٹریم قوم پرست جماعتوں کی طرف جھکاؤ رکتے ہیں اور اس کے علاوہ بڑی تعداد میں ایسے لوگ بھی اس کا حصہ ہیں جن کی جدوجہد شروع ہی پی ٹی ایم سے ہوئی ہے۔ دوسرے قسم کے کارکنان کی کچھ تعداد محض ری ایکشنری ہیں۔

جو منظور پشتین کے خیالات کے حامی ہیں اور جو پر اعتماد ہیں کہ احتجاجی اور پر امن جدوجہد سے اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ جنہیں ریاست سے جواب چاہیے ہر اس ظلم پر جو اس خطہ کے لوگوں پر کیا گیا۔ اس فیکشن کا بنیادی نکتہ نظر یہ ہے کہ جدوجہد جتنی غیر پارلیمانی رہے گی اتنا شفاف ہوگی اور باقی پارٹیوں کی طرح اقتدار اور سیاست کی خاطر سمجھوتوں سے گریز کرے گی۔ دوسرے فیکشن کا خیال ہے کہ عوامی جدوجہد کے ساتھ ساتھ قانون سازی اور پارلیمانی راستوں سے زیادہ سے زیادہ حقوق لئے جا سکتے ہیں۔

ان کا تصور یہ ہے کہ ریاست پر ایک جانب سے بطور پریشر گروپ توجہ مانگی جائے اور دوسری جانب پارلیمان سے اہداف حاصل کیے جائیں۔ وہ لوگ جو باقی قوم پرست جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پی ٹی ایم کا حصہ بھی ہیں انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ پی ٹی ایم کی پارلیمانی سیاست میں انٹری کی وجہ سے انہیں بوجوہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس پورے معاملے میں دو مین سٹریم کی قوم پرست جماعتیں شروع دن سے الگ رویہ اپنائے ہوئی ہیں جن پر تفصیل سے بات کی جا سکتی ہے لیکن اس بات کو کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔

پی ٹی ایم سے متعلق قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ ان لوگوں کے نمائندہ ہیں جو پی ٹی ایم کی پارلیمانی سیاست اور جدوجہد کے حق میں ہیں۔ پشتون سٹوڈنٹ فیڈریشن، این وائی او اور عوامی نیشنل پارٹی کا حصہ رہنے والے محسن داوڑ آزاد حیثیت سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تب ہی سے یہ خدشہ ظاہر ہونا شروع ہو گیا تھا کہ پی ٹی ایم جلد یا بہ دیر اس دوراہے پر آ کھڑی ہوگی کہ جہاں پی ٹی ایم کے سیاسی جدوجہد کے طریقہ کار پر آراء تقسیم ہو جائیں گی۔ شاید اسی مخمصے کو ختم کرنے کے لئے محسن داوڑ نے الگ سیاسی جماعت بنانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ مختلف حلقوں کے مطابق یہ پارٹی پورے پاکستان کے ترقی پسند فکر لوگوں پر مشتمل ہوگی جس کے قائدین میں اے این پی کے سابقہ سینیٹر اور رہنما افراسیاب خٹک بھی شامل ہوں گے۔

پی ٹی ایم سے قطع نظر، محسن داوڑ کا ترقی پسند فکر کے لوگوں پر مشتمل پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا امکانات لے کر آئے گا اور اس کے باقی دو اہم قوم پرست جماعتوں پر کیا اثرات مراتب ہوں گے اس پر علیحدہ سے بحث کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ سوالات بذات خود بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *