یہاں ہم خواب دیکھ سکتے ہیں!

چند ہفتے پہلے میں نے سٹور سے سامان منگوایا۔ ڈلیوری والے لڑکے کو سو درہم دیے۔ بل پچھتر درہم تھا۔ اس نے کہا بقایا پچیس درہم وہ تھوڑی دیر بعد لے آئے گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ مجھے ہسپتال کے لئے نکلنا تھا اور اہلیہ کی دفتر سے واپسی میں چند گھنٹے رہتے تھے۔ خیر میں چلا گیا۔ رات گئے واپس آیا تو اہلیہ نے کہا دروازے کے پاس پچیس درہم پڑے تھے۔ اس کو تفصیل بتائی۔ ایک حیرت

Read more

سماجی مذہبی پروجیکٹس، مدرسے اور سیاست

اجمل خٹک اپنی کتاب ”قصہ میری ادبی زندگی کا“ میں لکھتے ہیں کر تقسیم کے بعد دیو بند میں پڑھانے والے استاد مولانا عبدالحق مرحوم اکوڑہ خٹک میں ہی رہ گئے تو انہوں نے گاؤں کے لوگوں کے لئے اور طلبا کے لئے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا جس کے انتظام کا ذمہ گاؤں کے لوگوں بالخصوص باچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک کے ساتھیوں نے اپنے ذمہ لیا۔ اجمل خٹک مزید لکھتے ہیں کہ جب طلبا

Read more

ٹرانس جینڈر ایکٹیوسٹ ڈاکٹر مہرب معیز اعوان کے نام

تصویر پر ایک دیو مالائی قدامت چھائی ہوئی تھی۔ صدیوں پرانی۔ کمرے میں پھیلی سنجیدگی نے ایک تکلیف دہ ماحول بنا دیا تھا۔ اس نے سگریٹ کا گہرا کش لیا اور کہنے لگی ” سامنے تصویر دیکھ رہے ہو؟ اس میں کیا خاص ہے؟“ میں نے ایک دفعہ پھر غور سے تصویر کو دیکھا۔ ایک توانا مرد جس کے سر پر سینگ ہیں اور ایک عورت کا چہرہ جس کا دھڑ گائے کا ہے۔ پس منظر میں آسمان اور سورج، نیچے

Read more

پندرہ سالہ مسنگ پرسن حیدر علی، خزاں کے تیرہ سال

سوات خیبر پختونخوا! تشدد، عسکریت، انتہا پسندی، طالبان، فوج ظلم، قتل و غارت ایک تصویر۔ دوسری جانب افضل خان لالہ، خان نواب خاندان اور سوات کے بیٹوں کی جرات اور مزاحمت کی داستانیں۔ سوات نے اس بیچ بہت کچھ کھویا۔ سکون، چین، آرام، کاروبار، روزگار، امن سب کچھ۔ پھر بڑوں کے درمیان معاملات طے پا گئے اور جو خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔ فوج کا دعوی تھا کہ وہ امن کی ضامن ہے۔ اس بات کی تصدیق کے

Read more

باچا خان لائبریری لتمبر اور اپنے حصے کی شمع

خیبر پختونخوا کا ضلع کرک، گاؤں لتمبر، گاؤں کے کونے میں ایک لائبریری، لائبریری کا نام باچا خان لائبریری لتمبر۔ یہ لائبریری کیسے بنی؟ کچھ لوگوں کے پاس کتابیں تھیں مگر وقت نہیں تھا۔ کچھ کے پاس وقت بہت سارا تھا مگر کتابیں نہیں تھیں۔ جن کے پاس کتابیں تھیں انہوں نے کتابیں عطیہ کر دیں اور جن کے پاس وقت تھا وہ جھولی میں وقت بھر کر لے آئے۔ محترم راشد خٹک اور ان کے دوستوں نے سامان اور

Read more

عورت ”جیب“ اور جنسی تفریق

جیب بھی ظالم شے ہے۔ کسی بھی مرد کو روک کر پوچھیں کہ جیب کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جھٹ سے جواب دے گا کہ بھائی جیب سائنس کی چند شاندار ایجادوں میں سے ایک ہے۔ کرنسی، کارڈ، ہلکے پھلکے کاغذات کوئی چھوٹی موٹی کھانے کی چیز کچھ بھی ٹھونس دیں اس میں یہ مینج کر لیتی ہے۔ سب سے بہترین بات، آپ کھڑے ہیں سامنے بندہ بات کر رہا ہے آپ بات سن رہے ہیں اور بہت دیر

Read more

پاکستان اور ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت

کچھ عرصہ پہلے منظور پشتون نے ایک نہایت اہم بات کہی تھی کہ ریاست اور عوام کے بیچ آئین ہوتا ہے۔ یعنی یہ آئین ہی طے کرتا کرتا ہے کہ عوام اور ریاست اپنے اپنے فرائض پوری طرح سے ادا کر رہے ہیں اور کیا عوام کو ان کے حقوق درست طریقے سے فراہم کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔ آئین ایک عمرانی معاہدہ ہے جو عوام کے ہر مکتبہ فکر، شناخت اور پہچان کے لوگوں کی اجتماعی سوچ کے

Read more

جب ایک لائبریری نے ایک بچے کی جان بچائی

اسکول میں چھٹی کی گھنٹی بج چکی تھی۔ سب بچے قطار در قطار کھڑے اسکول سے جانے کی اجازت کے انتظار میں تھے۔ آٹھویں جماعت کے بچے جب کلاس سے نکلنے لگے تب اسلامیات کے استاد مولانا صاحب نے دو بچوں کو رکنے کا اشارہ کیا۔ جب پوری کلاس چلی گئی تو انہوں نے ان دونوں کو بیٹھنے کا کہا اور کہنے لگے، ” آپ دونوں بہت ذہین ہیں۔ آپ لوگوں کی فطانت دیکھ کر مجھے رشک آتا ہے۔ خوشی

Read more

بنوں شوز، ٹاپوں کی آواز اور ریل کی سیٹی

کچھ منظر یاداشت پر ایسے نقش ہو جاتے ہیں جیسے کل کی بات ہو۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ ابا جان (والد صاحب کے بڑے بھائی، تایا ابو) اسکول آئے تھے مجھے لینے۔ پانچویں میں تھا شاید جب پہلی دفعہ بنوں جانا ہوا تھا۔ بنوں ہمارے گاؤں کے بہت قریب ہے لیکن پتہ نہیں کیوں پانچویں تک انتظار رہا۔ عجیب سی سرشاری تھی کہ تایا ابو اسکول مجھے لینے آئے ہیں۔ پرنسپل صاحب نے کلاس ٹیچر کو بلاوا بھیجا اور ان

Read more

فرشتہ بہار کا مجموعہ چغار می اورہ

ضلع کرک خیبر پختونخوا میں دور، ضلع بنوں کے ساتھ سرحد پر ایک گاؤں ہے جس کا نام ہے لتمبر! لتمبر شاعروں کی سر زمین ہے۔ اس صدی کی دوسری دہائی سے پہلے تک یہاں لطافت کا دور تھا (پھر بد قسمتی سے کثیف جذبوں نے بھی اپنی جگہ بنا لی ) ۔ یہاں لوگ اسی خاک سے وابستہ سید حسن استاد اور شمس الزمان شمس صاحب کے اشعار محاوروں کی طور پر پڑھتے ہیں۔ کہیں عمران صابر کی مترنم

Read more

مجھے ہسپتال میں یوں نہیں کرنا چاہیے تھا

وارڈ میں نائٹ ڈیوٹی تھی۔ خیبر تدریسی ہسپتال کا میڈیکل بی وارڈ مریضوں سے بھر گیا تھا۔ مزید مریض داخل ہو رہے تھے اور وارڈ میں بستر ختم ہو گئے تھے۔

میں کاؤنٹر پر ایک مریض کے داخلے سے فارغ ہوا تو سامنے ایک معمر مریض ایک وہیل چیئر پر بیٹھے نظر آئے۔ ان کے ہمراہ تین مرد تیماردار بھی تھے۔ مریض کا تسلی سے معائنہ کیا اور ان کو عارضی طور پر میڈیکل سی وارڈ جانے کو کہا۔ میں پلٹ ہی رہا تھا کہ ایک اٹینڈنٹ نے مجھے روکا اور کہنے لگا، ”ڈاکٹر صاحب میں ڈی ایچ او کے ساتھ ڈرائیور ہوں اور یہ میرا کارڈ ہے۔ یہ مریض میرے دوست کے والد صاحب ہیں۔ ان کا خصوصی خیال رکھئے گا“ ۔

Read more

پشتون تحفظ موومنٹ دوراہے پر

کچھ سال قبل جب سے پشتون تحفظ موومنٹ نے عوامی مقبولیت حاصل کی ہے تب سے اور اس تحریک کے رہنماؤں سے ایک عجیب جذباتی وابستگی محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ میرا اپنا تعلق اس خطہ سے ہے جہاں ریاست کی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کی وجہ سے ہم سب بالواسطہ یا بلاواسطہ متاثر ہوئے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ نے بلا شبہ ریاست کی بھیانک حکمت عملی کو بیچ چوراہے ننگا کیا ہے اور یہ ہی نہیں اس تحریک نے تاریخ کی جانب عام پاکستانی بالخصوص عام پشتون کی نگاہیں موڑی ہیں۔

Read more