جدید نوآبادیات پر مبنی نیا استعماری منصوبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام عالم، گزشتہ دو صدیوں سے استعماریت کے نرغے میں ہے یہ استعماریت ادارہ جاتی تشکیل کی صورت میں مملکتوں میں سرایت کر چکی ہے۔ سامراجیت، استعماریت اور نو آبادیات ایک ایسی تکون ہے جو سماج میں بالاتر طبقات کی اجارہ داری کا تسلط برپا کر کے پیدائش دولت کو گرفت میں لیتی ہے۔ اس تکون کی کوکھ سے ہی عالمی سرمایہ داریت نے جنم لیا اور انسانیت کے استحصال پر مبنی منصوبوں کو عملی تصور دینے کے لیے سرمایہ دارانہ جمہوریت کی پیوند کاری کی گئی تاکہ ان کی نرسریوں سے تہذیب یافتہ ہونے والے افراد کو جمہوریت کا گھوٹالا دے کر رام کیا جاسکے۔

اس تکون کو توڑنے والی تحریکوں کو جنم لینے سے پہلے ہی تہس نہس کر دیا جاتا ہے، رواں صدی کی پہلی دہائی میں اٹھنے والی وال سٹریٹ گھیراؤ تحریک اس کی کلاسیکل مثال ہے۔ تکون کے تسلط کو برقرار رکھنے والی عالمی سرمایہ داریت اپنی بقاء کی نئی راہیں تلاش کرتی رہی ہے تاکہ انسانیت پر بھوک مسلط کر کے چند کمپنیوں اور خاندانوں کے پیٹ کی آگ بجھائی جاتی رہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سرمایہ داریت نے اب خود کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے روپ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کمپنیوں نے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کا نیا استعماری منصوبہ تشکیل دیا ہے۔

مائیکروسافٹ اور ایمیزون حتیٰ کہ راک فیلر فاؤنڈیشن جیسے اداروں نے فوڈ سیکٹر میں داخل ہونا شروع کر دیا ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں اور مقامی فوڈ سسٹم کا مستقبل کیا ہوگا؟ یہ درست ہے کہ کسانوں، صارفین، کھیت مزدوروں اور ماحولیات کے لئے کام کرنے کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز ضروری ہیں لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی محض ایک بلبلہ میں ترقی نہیں کرتی ہے بلکہ اس کی تشکیل میں پیسہ اور طاقت شامل ہوتی ہے، عہد جدید میں چند کارپوریشنز مواصلات، ڈیٹا اور فوڈ سسٹم پر غیر معمولی کنٹرول رکھتے ہیں، ڈیجیٹل زراعت کا منصوبہ ان طریقوں سے تیار ہو رہا ہے جس سے ان کی طاقت اور منافع کو تقویت ملے گی جب تک اس منصوبہ کے خلاف مزاحمت نہیں کی جاتی ہے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی دنیا میں طاقت کا مرکزہ ڈیٹا پر مبنی ہے، بڑی کمپنیاں آج زیادہ سے زیادہ ڈیٹا جمع کرنے کی دوڑ میں ہیں اور زرعی کاروبار سے متعلقہ معلومات اور فوڈ سسٹم پر مبنی ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ اس ڈیٹا سے نفع حاصل کیا جاسکے۔ ڈیجیٹل ایگری کلچر کے منصوبہ کے ذریعہ سے فوڈ سسٹم پر کارپوریٹ اداروں کی گرفت کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ ایگری بزنس کمپنیاں، بالخصوص بیج، کیڑے مار ادویات اور کھاد بیچنے والی کمپنیوں نے اپنے ٹیکنالوجی ہاؤسز قائم کر لیے ہیں ان کمپینیوں نے اپنی موبائل ایپس تشکیل کر لی ہیں جس سے لاکھوں ہیکٹر زرعی زمین آباد کرنے والے کاشت کار اپنی مصنوعات کے لیے مفت مشوروں کے عوض انھیں ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔ کیڑے مار ادویات اور بیجوں کی بڑی کمپنی بائر نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ ان کی موبائل ایپ کو امریکا، کینیڈا، برازیل، یورپ اور ارجنٹائن میں دو کروڑ چالیس لاکھ ہیکٹر رقبے پر مشتمل فارمز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

مائیکرو سافٹ نے ازور فارم بیٹس کے نام سے ڈیجیٹل کاشتکاری کا پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم کاشت کاروں کو اپنی زرعی زمین، فصلوں کی نشوونما، کیٹروں اور بیماریوں کی صورتحال، موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں رئیل ٹائم ڈیٹا اور تجزیہ فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، یہ معلومات اور مشورہ ڈیٹا کے حجم پر منحصر ہے جسے مائیکروسافٹ اپنے الگورتھم کے ذریعہ سے تجزیہ کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مائیکروسافٹ زراعت کے لیے ڈرون، سینسری آلات تیار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ شراکت کر رہا ہے اور مائیکرو سافٹ فارم بیٹس سے حاصل شدہ ڈیٹا ان پارٹنر کمپنیوں کو فراہم کرتا ہے۔ ہائی ٹیک ٹریکٹرز، کیڑے مار دوار چھڑکنے والے ڈرون اور دیگر زرعی آلات کو ازور کلاؤڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔

یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ بائر کمپنی کو، کلاؤڈ سروسز کو کنٹرول کرنے والی بگ ٹیک کمپنیوں سے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر لیز پر حاصل کرنا پڑا تاکہ وہ اپنی سروس کو برقرار رکھ سکے۔ یہ سروس ایمیزون ویب سروسز ہے، ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں یہ سروس مائیکروسافٹ، گوگل اور علی بابا سے بھی زیادہ معیاری ہے بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ کلاؤڈ سروس کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔

مائیکروسافٹ کی طرح ایمیزون بھی اپنا ڈیجیٹل زراعت پلیٹ فارم تیار کر رہا ہے، جو بائر اور متعدد دیگر کمپنیوں کے ذریعہ جمع کردہ ڈیٹا کو ممکنہ طور پر استعمال کر سکتا ہے اس طرح ان کمپنیوں سے نہ صرف زرعی اعداد و شمار تک رسائی حاصل ہوگی بلکہ اس ڈیٹا کا تجزیہ بھی ہو سکے گا۔ کسانوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم مہیا کرنے کا مقصد ڈیٹا جمع کرنا ہے۔ ڈیجیٹل زراعت میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کا مقصد لاکھوں چھوٹے کسانوں کو ایک وسیع اور مرکزی کنٹرولڈ ڈیجیٹل نیٹ ورک میں ضم کرنا ہے تاکہ ان کسانوں تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیٹا بھی حاصل کیا جاسکے۔

کمپنیوں نے ڈیجیٹل زراعت کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی شروع کر رکھی ہے۔ کورونا عہد میں آن لائن خرید و فروخت سے اس منصوبے میں تیزی آئی ہے چنانچہ علی بابا اور ایمیزون جیسی بڑی کمپنیوں نے بھی اس کی افادیت کو بڑھاوا دیا ہے۔ یہ کمپنیاں ان ممالک میں توجہ مرکوز کرتی ہیں جہاں اب بھی بڑے پیمانے پر ریٹیلر اور ہول سیلرز کو کا وسیع نیٹ ورک ہے، چنانچہ یہ کمپنیاں کسانوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو ترجیحی مارکیٹنگ سٹریٹیجی کے طور پر اختیار کرنے پر زور دیتی ہیں جو کہ درحقیقت کمپنیوں کے اجارہ داری قائم کرنے کے عزائم ہیں۔

مثال کے طور پر بھارت میں، جہاں ریٹیل کے وسیع نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے جوڑ توڑ کی جا رہی ہے، کمپنیاں ای کامرس کے ذریعہ سے ریٹیل مارکیٹ کو کالونائزڈ کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ 2016 ء میں وال مارٹ نے بھارت کی ریٹیل مارکیٹ کو توڑنے کے لیے تین ارب تیس کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کے ذریعے سے jet.com لانچ کی، اس کے دو سال بعد سولہ ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری سے فلپ کارڈ کا منصوبہ لانچ کر کے بھارت کی ریٹیل مارکیٹ پر قبضہ کیا گیا، ایمیزون بھی اس دوڑ میں شامل ہے، آج ہندستان میں وال مارٹ اور ایمیزون ریٹیل سیکٹر کے تقریباً دو تہائی حصہ کو کنٹرول کرتے ہیں۔

ایمیزون نے دو ہزار سترہ میں امریکا میں 400 زائد دکانوں پر مشتمل فوڈ گروسری نیٹ ورک خریدا اور اس کے ذریعے سے ایمیزون فوڈ انڈسٹری میں اپنا قدم جما چکا ہے۔ پاکستان میں بھی ایمیزون کی انٹری کے لیے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں، ریاستی ادارے پاکستان پوسٹ آفس اپنا پورا انفراسٹرکچر حتیٰ کہ ویئر ہاؤس ایمیزون کو مہیا کرنے پر آمادہ ہو چکا ہے، اگلے فیز میں یہی ایمیزون پاکستان کی زرعی و پیداواری معیشت کو اپنے گرفت میں لے گا۔

مائیکروسافٹ، ایپل، فیس بک، گوگل، علی بابا بھی ڈیجیٹل ایگری کلچر کے شعبہ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور اس شعبہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ایسی صورت میں ریاستوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس نئے جدید طرز کے استعماری منصوبہ سے ملک کو کیسے بچاتے ہیں۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف تو کمپنیوں کی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے اپنی معاونت اور ممالک پر دباؤ جاری رکھے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *