یورپی یونین نے 750 ارب یورو کے کرونا بحالی منصوبے کی منظوری دے دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یورپین کونسل نے اعلان کیا ہے کہ یورپین یونین کے رکن 27 ممالک کے کرونا وائرس سے بحالی کے مالی منصوبے کی منظوری کے بعد اس پر عمل در آمد جون سے شروع ہو سکے گا۔

یورپین کونسل کے چیئرمین اور پرتگال کے وزیرِ اعظم انتونیو کوسٹا نے پیر کو آگاہ کیا کہ یونین اب اس قابل ہے کہ وہ یورپین شہریوں کی سماجی اور معاشی بہتری کے لیے فنڈ مختص کر سکے۔

یونین کے تمام ممالک سے منصوبے کی منظوری کے بعد اب اس پر عمل درآمد کے لیے فنڈنگ کا انتظام کیا جائے گا۔

یورپ کے اس 750 ارب یورو (لگ بھگ 910 ارب ڈالرز) کے ریکوری پلان کو ’نیکسٹ جنریشن یورپین یونین‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ گزشتہ برس جولائی میں پیش کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس منصوبے پر عمل در آمد کے لیے ضروری تھا کہ یونین کے رکن 27 ممالک بھی اس کی منظوری دیں۔

انتونیو کوسٹا کا کہنا تھا کہ یونین کے 27 ممالک کی حکومتوں اور پارلیمان نے مضبوط اتحاد اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مزید وقت ضائع نہیں کر سکتے۔ ہمیں پہلی ریکوری کی منظوری جون کے آخر تک لازمی دینا ہو گی۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق منصوبے کے لیے رقوم کے حصول کے حوالے سے فرانس کے یورپ کے معاملات کے وزیر کیلما بونا کا میڈیا سے گفتگو کہنا تھا کہ یورپین یونین منگل سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور یورپین بینکوں سے رابطے شروع کرے گی۔

یورپی ممالک آسٹریا اور پولینڈ کی پارلیمان نے گزشتہ جمعرات کو خسارے کے طریقۂ کار کی منظوری دی تھی۔

یونین کے رکن اسپین اور اٹلی کرونا وائرس سے بدترین متاثرہ ممالک میں شامل ہیں۔ یہ دونوں ملک منصوبے کے تحت فنڈ کے زیادہ حق دار ہوں گے۔ دونوں ممالک کو 70، 70 ارب یوروز ملیں گے۔

رکن ممالک کو ملنے والی رقوم کا بڑا حصہ انفراسٹرکچر کی بہتری اور ماحولیات سے متعلق منصوبوں پر خرچ ہوا گا جن میں مرکزی کام الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کے لیے اسٹیشنز کی تعمیر شامل ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ تیز ترین ٹیلی کمیونی کیشن اور ڈیٹا محفوظ بنانے کے لیے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2234 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *