شیخ ابوالحسن شاذلی لائبریری کا قیام۔ تصوف اور اسلام۔ ایک نقطہ نظر
ماضی میں بھی ہمارے ہاں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ارباب اقتدار نے اپنے ذاتی ذوق اور رجحانات، پسند اور ناپسند کو پوری قوم پر مسلط کرنے کی روایت پر عمل پیرا رہے ہیں۔ چند روز قبل خاتون اول نے لاہور میں شیخ ابوالحسن شاذلی لائبریری کا افتتاح کیا، جسے جدید خانقاہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے جو علم کی ترویج کی جانب اٹھایا گیا ہے۔ اس سنٹر میں اسلام، صوفی ازم، مذہبی افکار، رواداری، سائنس و ٹیکنا لوجی اور جدید علوم پر تحقیق کی جائے گی۔ برصغیر ہندو پاک میں تصوف کے ایک غیر معروف سلسلے کے نام پر ایک تحقیقی مرکز کا قیام اور وہ بھی لاہور جیسے شہر میں جہاں صاحب کشف المحجوب علی عثمان ہجویری مدفن ہیں، خود ایک سوال ہے۔
اس موقع پر شیخ ابوالحسن شاذلی کے افکار پر گفتگو کی بجائے جو خوشامدانہ تقاریر کی گئیں طالب علم نے اسے مروجہ کلچر کی رعایت دے کر صرف نظر کرتے ہوئے خانقاہی نظام، تصوف او ر اس سے متعلق اسلامی نظریات پر اپنی رائے پیش کرنے کی سعی کی ہے۔
سندھ کے معروف مؤرخ، ادیب، شاعر اور تذکرہ نگار میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی فارسی تالیف ”معیار سالکان طریقت“ 1203 ہجری میں تصنیف کی گئی۔ اس کا قلمی نسخہ برٹش میوزیم لندن میں محفوظ ہے۔ جس کی نقل ڈاکٹر خضر نوشاہی نے حاصل کر کے پی ایچ ڈی کے لیے اس کا اردو ترجمہ کیا، حواشیات، تعلیقات اور مفید تفصیلی مقدمہ کے ساتھ اس کی تدوین کی۔ اس کتاب میں پہلی صدی ہجری سے بارہویں صدی ہجری تک کے صوفیہ کرام کا تذکرہ موجود ہے۔
اس شہ پارے کا اردو ترجمہ ”اذکار عارفان حقیقت“ کے نام سے 2015 ء میں محکمہ ثقافت و سیاحت، حکومت سندھ نے شائع کیا۔ شیخ ابوالحسن علی بن عبد اللہ مغربی شاذلی کے متعلق اس کتاب میں جو مختصر تفصیلات اس میں درج ہیں وہ یہ ہیں کہ : ”آپ کا نام علی بن عبد اللہ ہے۔ آپ حسینی سید ہیں۔ اسکندریہ میں سکونت رکھتے تھے، اور لوگوں کی کثیر تعداد آپ کی صحبت سے وابستہ تھی۔ آپ اکابر اولیاء اور عظیم مشائخ سے تھے۔ جب کوئی آپ سے دعا کی درخواست کرتا تو آپ کہتے“ کان اللہ لک ”یعنی اللہ تمھارے لیے کافی ہے۔
یہ جملہ اگرچہ چھوٹا ہے۔ لیکن تمام خواہشات کا حل اس میں موجود ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اگر کسی کے ساتھ ہو تو اس کی خواہشات از خود پوری ہوجاتی ہیں۔ مگر خدا اسی کے ساتھ ہوتا ہے جو خدا کا ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اللہ کے لیے ہے اللہ بھی اسی کے لیے ہے۔ شیخ ابو الحسن شاذلی فرماتے ہیں : وہ فقیر ہرگز نہیں ہو سکتا جس میں یہ چار صفات نہ ہوں، 1 : چھوٹوں سے شفقت کرنا، 2 :بڑوں کی عزت کرنا۔ 3 : اپنے نفس کا پاک کرنا، 4 :دوسروں پر ایثار کرنا۔
آپ کا وصال 654 ہ میں ایسے صحرا میں ہوا جس کا پانی نمکین تھا، مگر جب آپ کو اس زمین میں دفن کیا گیا تو وہاں کا پانی میٹھا ہو گیا۔ طریقہ شاذلی آپ سے منسوب ہے۔ اس سلسلے کا طریقہ یہ ہے :ریاضت، زہد، مجاہدات کرنا۔ کثرت سے روزے رکھنا، کم سونا، صحراؤں میں قیام کرنا۔ قبرستان میں عبرت کے لیے جانا، دنیا کے فریب سے بچنے کے لیے قرآن پاک تلاوت اکثر کرنا اور اپنے شیخ کے بتائے ہوئے وظائف پہ کاربند رہنا۔ اور اللہ کے صفاتی نام مثلاً العلی، العظیم و الحکیم و العزیز الرحیم کا ذکر کرنا۔ کلمۂ توحید اور نفی اثبات کا ذکر ہر وقت خود پہ لازم رکھنا ”۔
نفس کو پاکیزہ بنانے کا عمل تزکیۂ نفس کہلاتا ہے۔ نفس کی پاکیزگی کے کئی پہلو ہیں۔ ہماری شخصیت میں ایک حصہ عقل کا ہے جس میں پیدا ہونے والے شبہات کو صاف کر کے صحیح راستے پر رکھا جائے۔ نظریات اور عقائد کو صاف رکھا جائے جیسے کہ خدا پر ایمان کو شرک کی غلاظت سے پاک کر کے توحید کا درست تصور قائم کیا جائے۔ یہ تزکیۂ ہے ہماری عقل اور علم کا۔ اسی طرح ہمارے عمل کا تزکیۂ ہے جس میں ہم اپنے اعمال کو اچھا بناتے ہیں اور اپنی زندگی تعمیر صحیح خطوط پر کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں خانقاہی نظام کی بنیاد بھی اسی مقصد کے لیے رکھی گئی کہ جب انسان ذہنی اور نفسی آلودگی میں پڑ جائے تو اس کے تزکیہ ء کے لیے خانقاہ سے رجوع کرے۔ خانقاہی نصاب اور اس کے مشغولات سے قطع نظر ذہنی اور نفسی آلودگی سے نجات کے لیے اس کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔
ہمارا خانقاہی نظام جن بنیادوں پر استوار ہے اسے تصوف کہا جاتا ہے۔ معروف اسکالر جناب جاوید احمد صاحب غامدی بتاتے ہیں کہ تصوف اس دین کے اصول و مبادی سے بالکل مختلف ہے جس کی دعوت اور تعلیم قرآن مجید نے دی ہے اور خاتم النبینﷺ کا اسوہ حسنہ اس کی عملی مثال ہے۔ تصوف ولایت کے جس تصور کی بات کرتا ہے قرآن مجید کے لیے یہ تصور اجنبی ہے۔ صوفیانہ مذاہب میں کمال کی انتہا یہ ہی ہے کہ انسان خدا کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرے خدا علیم و خبیر ہے تو وہ بھی عالم غیب کا واقف حال ہو، خدا کی شان تجرد ہے تو وہ بھی تجرد کو اختیار کرے۔
خدا بے نیاز ہے تو وہ بھی بشری ضروریات سے ماورا ہو جائے۔ خدا اگر انفس و آفاق میں تصرف کرتا ہے تو وہ بھی پانی پر چلے، آگ کو برف سمجھے، بیماروں کو شفا دے اور مردوں کو زندہ کرے۔ لیکن قرآن انسان کے جمال و کمال کی جو خصوصیات بیان فرماتا ہے وہ خدا کی صفات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور اس کے نتیجے میں ان اوصاف کا حامل بن کر جینے میں ہے جو سورہ الاحزاب آیات 33۔ 35 میں بیان فرمائی ہیں : ”وہ مرد اور عورتیں جو مسلمان ہیں، مومن ہیں، بندگی کرنے والے ہیں، سچے ہیں، صبر کرنے والے ہیں، اللہ کے آگے جھک کر رہنے والے ہیں، خیرات کرنے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والے ہیں، ان کے لیے اللہ نے مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔“ اب یہاں چلوں، مراقبوں، ریاضتوں، صحرا نوردی، تجرد اور روحانی مکاشفات کا ذکر تک نہیں ہے۔
عہد حاضر میں دین کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ایسے میں ضرورت تو اس کی ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کھولا جائے، دین کو بدعات سے دور کیا جائے اور نئے تقاضوں سے جو سوال اور مسائل جنم لے رہے ہیں ان کو حل کرنے کی سعی کی جائے۔ قرآن مجید نے ملوکیت، مذہبی پیشوائیت اور سرمایہ پرستی کے حوالے سے فرعون، ہامان اور قارون کے کردار بتائے ہیں ہمیں آج کے ان کرداروں کے معاشرے پر تسلط کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اجتہاد کے لیے معاشرے میں سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ماڈل جمعہ خطبات مرتب کر رہی ہے تاکہ خطیب حضرات کو یہ بتایا جاسکے کہ کون کون سے سماجی مسائل پر توجہ دی جانی چاہیے۔ اس پر اس قدر سخت رد عمل آیا اور مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا دفتر ہی لپیٹ دیا جائے۔ ایک طرف جدید عصری تقاضے اور دوسری طرف رجعت اور روایت پسندی۔ ایسے میں ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ :
یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات

