امن و امان کا بہانہ یا کچھ اور
اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی کے حالات کئی دہائیوں سے بہت دگر گوں رہے ہیں اور یہاں وقفے وقفے سے کئی جنگ پلاسیاں لڑی جاتی رہی ہیں لیکن ارباب اختیار و اقتدار نے کبھی اس بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کیا کہ اس خرابی حالات میں خود ارباب اقتدار و اختیار کا کتنا ہاتھ رہا ہے۔
کراچی کے حالات کی خرابی کا آغاز ایوبی دور سے ہوا تھا جب ایوب خان کو مادر ملت کے مقابلے میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا سیاسی مخالفت اور مقابلے کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ ایک شہر پر لشکر کشی کر کے نسلی و لسانی نفرتوں کو پروان چڑھایا جائے اور اختلاف رکھنے والوں کو ملک کا غدار اور پڑوسی ملک کا ایجنٹ قرار دیدیا جائے۔ دشمنی کو اس حد تک لے جایا جائے کہ بابائے قوم کی بہن جو آج بھی مادر ملت کہلائی جاتیں ہیں، ان پر پڑوسی ملک کی ایجنٹ ہونے کا الزام لگا کر تحریر و تقریر کی پابندی لگا دی جائے۔
نفرتوں کے اس سلسلے کو ختم کرنے اور آپس میں اتحاد و یگانگت پیدا کرنے کی بجائے آنے والے بھٹوئی دور میں مزید آگ بھڑ کائی گئی اور پورے سندھ سے ہجرت کرنے والوں کو ایک اور ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا، ان کی عزت و آبرو اور جان و مال سے ہولی کھیلنے پر بھی صبر و قرار نہ آنے کے بعد ان پر کوٹا سسٹم عائد کر کے ان کا معاشی قتل عام کیا گیا اور اس وقت کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی آبادی کو جہالت کی جانب دھکیلنے کی ایسی منصوبہ سازی کی گئی جس کا سلسلہ تا قیامت ٹوٹتا دکھائی نہیں دیتا۔
کسی بھی قوم پر غداری کے الزامات جیسے اقدامات، ان پر معاشی جکڑ بندیاں، ان کی عزت و آبرو کی بربادیاں اور ان کے خون سے ہولیاں کھیلنے کے بعد یہ امیدیں وابستہ کرنا کہ وہ اپنے لہجے میں مٹھاس، آوازوں میں ٹھہراؤ اور اخلاق میں خوش خلقی جیسے اوصاف بھی پیدا کریں، ایک ایسی سوچ تھی جن کی توقع فرشتوں یا ولیوں سے تو کی جا سکتی تھی، گوشت پوست کے انسانوں سے نہیں۔ ایک تسلسل کے ساتھ نسلی و لسانی تعصبانہ، امتیازانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کے نتیجے میں کسی بھی انسانی گروہ کے مزاج میں تبدیلیاں آجانا کوئی ایسی بات نہیں جو خلاف فطرت قرار دی جا سکتی ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر عمل کے خلاف جو بھی رد عمل ہوتا ہے وہ کیے جانے والے عمل سے کہیں زیادہ شدید ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مزاجوں کا تیکھا پن خون خرابے تک جا پہنچا اور جن ہاتھوں میں قلم ہوا کرتا تھا ان ہاتھوں نے ہتھیار تھام لئے اور یوں کراچی کے حالات مخدوش سے مخدوش تر ہوتے چلے گئے۔
پاکستان میں ہتھیار کس قوم کے پاس نہیں۔ ان کا رکھنا، ان کی سر عام نمائش، ان کا آزادانہ استعمال اتنا عام ہے جیسے پاکستان انسانوں کی نہیں جنونی جنگجو قبیلوں کی آماج گاہ ہو۔ اصولاً تو عام ہتھیار بھی کسی شہری کے ہاتھ میں ہونا نہایت خطرناک بات ہے لیکن حد یہ ہے یہاں ہر قوم کے پاس ایسے ایسے خوفناک ہتھیار ہیں جو ملکوں کی افواج کے پاس ہوا کرتے ہیں۔ ہتھیار کسی وقت بھی بڑے پیمانے پر تباہی اور خون خرابے کا سبب بن سکتے ہیں جس کی وجہ سے ضروری تھا کہ کراچی جیسے معاشی حب شہر کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے پاک کیا جائے۔
اس سلسلے میں کیے جانے والے آپریشنوں کے نتیجے میں کراچی کافی حد تک ہتھیاروں سے آزاد کرا لیا گیا ہے لیکن ہتھیاروں سے پاک شہر صرف ایک مخصوص قسم کی آبادی کی حد تک محدود رکھ کر ایک ایسی خوف اور دہشت کی فضا قائم کردی گئی ہے جس کا تدارک اگر نہ کیا گیا تو ممکن ہے کہ مستقبل میں اس کے نتائج مقامی آبادی کے لئے مقبوضہ کشمیریوں یا ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کی سی ہو جائیں۔ کراچی میں صرف ایک مخصوص آبادی کو مکمل آرام لیس کر دینا اور لاکھوں کی تعداد میں کراچی سے باہر رہنے والی ہر آبادی کے پاس نہ صرف ہتھیاروں کا موجود ہونا اور وہ بھی خودکار اور غیر ممنوعہ، ایک بہت خوفناک صورت حال ہے جس کے لئے بہت سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ہتھیار صرف کراچی کے شہریوں کے پاس ہونا ہی جرم اور امن و امان کے لئے خطرہ نہیں، پورے پاکستان کے پاس جن جن قوموں اور قبیلوں کے پاس بھی ہتھیار ہیں کیا وہ جرم نہیں۔ پاکستان کے میدانی علاقے ہوں یا پہاڑی شمالی علاقے، ہر قوم و قبیلے کے پاس نہ صرف ہتھیار موجود ہیں بلکہ ایسے ایسے جنگی ہتھیار ہیں جس کو اگر واپس لینے کا منصوبہ بنالیا جاتا ہے تو بکتر بند گاڑیوں، ٹینکوں، جنگی ہیلی کاپٹروں سے لے کر بمبار طیاروں تک کی مدد لینی پڑتی ہے۔
اس سوال میں پڑے بغیر کہ بھاری جنگی ہتھیار پاکستان کے میدانی علاقوں تک پہنچنا کس کی کمزوری ہے، ان کو بہر صورت ختم کیا جانا پاکستان کی سلامتی کے لئے نہایت ضروری ہونے کے باوجود اگر کراچی میں 4 دہائیوں سے فوج کا موجود رہنا ضروری سمجھا گیا ہے تو وہ علاقے جو ریاست کے اندر ریاست جیسی شکل اختیار کیے ہوئے ہیں، وہاں ایک بہت بڑے گرینڈ آپریشن کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی۔ کیا اس لئے کہ ہر قبیلے، گینگ اور ہتھیار بند دستوں کے خلاف آپریشن سے کہیں زیادہ سافٹ کارنر کراچی کو ہی سمجھا گیا ہے۔
اگر ان تمام پہلوؤں پر غور کیا جائے تو 4 دہائیوں سے بھی زیادہ جاری آپریشن کے پس پردہ صرف امن و امان کی بحالی کا بہانہ ہی نہیں، مختلف سیاسی پارٹیوں کی طرح کراچی کے وسائل پر دسترس حاصل کرنا بھی ایک مقصد ہو سکتا ہے۔ کراچی جیسی پڑھی لکھی اور مہذب آبادی کے لئے بھی اگر چالیس پچاس سال گزر جانے کے باوجود بحالی امن ممکن نہیں بن سکا ہے تو باقی ماندہ درندہ صفت قبائلیوں اور جنونیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے تو شاید امریکا کی فوج بھی کم پڑ جائے لہٰذا معاملے کو شفاف کیا جائے اور نہ صرف امن و امان کو یقینی و شفاف بنایا جائے بلکہ ہر قسم کے وسائل وسائل سویلین حکومت ہی کے پاس ہی رہنے دیے جائیں اسی میں پاکستان کی بقا اور سلامتی پوشیدہ ہے۔


