صحافی بغاوت کیوں کرتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حامد میر کو ’کیپیٹل ٹاک‘ کی میزبانی سے ہٹانے کے فیصلہ پر صحافی و انسانی حقوق تنظیموں کے شدید رد عمل کے بعد جیو و جنگ گروپ نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں تسلیم کیا گیا ہے کہ حامد میر کو ایک احتجاجی اجتماع میں تقریر کرنے کے ’الزام‘ میں پروگرام سے علیحدہ کیا گیا ہے تاکہ اس تقریر کے مواد کا ’ادارتی و قانونی‘ جائزہ لیا جاسکے۔ اس دوران پروگرام کی عارضی میزبانی کسی دوسرے صحافی کے سپرد کی گئی ہے۔
ملک کے اہم اور بڑے میڈیا گروپ کی طرف سے یہ وضاحت غیر معمولی نوعیت کی حامل ہے کیوں کہ گزشتہ جمعہ کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر ہونے والا مظاہرہ ایک صحافی کے ساتھ تشدد کے خلاف تھا اور اس موقع پر حامد میر سمیت مختلف صحافیوں نے اس بدسلوکی پراحتجاج کیا اور حملوں میں ملوث عناصر کوایسی حرکتوں سے باز رہنے کے لئے کہا گیا۔ البتہ حامد میر نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ ضرور کہا کہ ’اگر گھر میں گھس کر تشدد کا سلسلہ جاری رہا تو صحافی گھروں میں تو نہیں گھس سکتے لیکن وہ گھر کی باتیں باہر ضرور لائیں گے‘۔ اس کے باوجود کسی اجتماع میں کہی گئی باتوں کا عدالتی نظام کے تحت تو نوٹس لیا جاسکتا ہے لیکن اس پر کسی میڈیا ہاؤس کی ادارتی ذمہ داری کی بات لایعنی دلیل ہے۔
حامد میر کے بیان میں نہ کسی فرد کا نام لیا گیا اور نہ ہی کسی ادارے کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ تاہم حکومت کے نمائیندوں سمیت عام شہریوں نے یہی سمجھا کہ یہ اشارہ ملکی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کی طرف کیا گیا تھا۔ آئی ایس آئی نے وزارت داخلہ کے ذریعے اسد طور پر حملے اور تشدد کے الزامات کو مسترد کیا ہے ۔ اس کے بعد معاملہ رفع ہوجانا چاہئے تھا اور پولیس کو بے خوفی سے ملزمان کی شناخت سامنے لانی چاہئے تھی لیکن سی سی ٹی وی کیمروں میں حملہ آوروں کے چہرے دیکھنے کے باوجود وزیر داخلہ میڈیا کو یہ طفل تسلی دینے پر مجبور ہیں کہ اسد طور پر حملہ میں ملوث لوگوں میں سے ایک کی شناخت جلد ہی کرلی جائے گی۔ اسی سانس میں انہوں نے یہ وضاحت کرنا بھی ضروری سمجھا کہ ’میں نہ تو حامد میر کے پروگرام میں جاتا ہوں اور نہ ہی ساری زندگی اس پروگرام میں شرکت کروں گا‘۔ ایسے میں سوال تو پیدا ہوگا کہ ملک کا وزیر داخلہ اس بیان سے کون سی قوتوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلوانا چاہتا ہے؟ حالانکہ ایسے وقت میں جب ایک ممتاز صحافی کو اس کے حق اظہار رائے سے محروم کیا گیا ہے، تمام حکومتی نمائیندوں کو اس کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا چاہئے تھا۔ اس کی بجائےحامد میر کے بارے میں یہ تاثر قوی کیا رہا ہے کہ اصل قصور وار وہی ہیں۔ اس قصور کا سراغ لگایا جائے تو یہ نتیجہ نکلے گا کہ : حکومت اور ادارے چاہتے ہیں کہ تشدد کے بعد نہ تو احتجاج کیا جائے اور نہ ہی ممکنہ قصور وار کی طرف اشارہ کیا جائے۔ ورنہ ساری ریاستی مشینری صحافیوں اور احتجاج کرنے والوں کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان عائد کرے گی۔
یہ چھپا ہؤا انتباہ دینے کا مقصد مستقبل میں ایسے ہی کسی واقعہ کے بعد کسی ’ناقابل قبول‘ احتجاج یا تقریروں کی روک تھام کے لئے ہے۔ حامد میر کو پروگرام سے علیحدہ کرکے بھی یہی پیغام دیا گیا ہے کہ اگر اظہار رائے کے لئے مقرر ہ ’سرخ لائن‘ عبور کی جائے گی تو ریاستی ادارے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ اس پیغام کو مزید واضح کرنے کے لئے آج ’محب وطن ‘ شہریوں نے اسلام آباد میں حامد میر کے خلاف احتجاج کیا اور ایک زیادہ محب وطن نے گوجرانولہ میں حامد میر کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروایا۔ اگرچہ جیسے صحافیوں پر حملوں میں ملوث لوگوں کا کبھی سراغ نہیں ملتا ، اسی طرح ایسے مقدمے بھی بے نتیجہ رہتے ہیں اور صرف اشارے دینے کے لئے درج کروائے جاتے ہیں تاکہ واضح کیا جاسکے کہ تم تقریریں کرو گے تو یاد رکھو کسی کو محب وطن اور غدار قرار دینے کا اختیار کسی اور کے پاس ہے۔
یہ کسی بھی ملک کے لئے خوشگوار صورت حال نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت تمام ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ذمہ داری قبول کرے کہ گزشتہ چند سال کے دوران جن صحافیوں پر حملے ہوئے ہیں، ان کی تحقیقات مکمل کرکے سارے حقائق سامنے لائے جائیں ۔ لیکن عام لوگوں کی طرح حکومت کے ذمہ داران بھی جانتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ رپورٹر اطلاعات دیتے ہیں کہ اس قسم کی تحقیقات کرنے والے اعلیٰ ترین کمیشن و کمیٹیوں میں شامل اعلیٰ عہدوں پر فائز جج بھی متاثرین سے یہی کہتے ہیں کہ ’ آپ کی طرح ہمیں بھی پتہ ہے کہ ایسے کام کون کرتا ہے‘۔ لیکن تحقیقات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔ گویا تحقیقات کے دوران کمیشن یا کمیٹی میں شامل ارکان اپنی مجبوری ظاہر کرکے یہ واضح کرتے ہیں کہ کسی نتیجہ کی امید نہ رکھی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ سلیم شہزاد کا قتل ہو یا حامد میر ،ابصار عالم پر فائرنگ کا واقعہ یا اسد طور کی طرح متعدد دوسرے صحافیوں کے ساتھ مارپیٹ، تشدد اور ہراساں کرنے کے معاملات، پولیس کبھی کسی نتیجہ تک نہیں پہنچتی۔ کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوتا اور کسی کو سزا نہیں ملتی۔
ایسی پراسرا ر صورت حال میں شبہ اسی ادارے پر کیا جائے گا جو ملک کا سب سے طاقت ور ادارہ سمجھا جاتا ہے اور جس کے ذریعے ملک کے سیاسی و انتظامی معاملات کو کنٹرول کرنے کا مبسوط نظام کام کرتا ہے۔ اس شبہ کو رفع کرنے کی بجائے جب وزیر خاموشی اختیار کریں یا متاثرین سے فاصلہ ظاہر کرنے کی کوشش کریں۔ اور ملکی نظام ظلم کا شکار ہونے والوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف ہی متحرک ہوجائے تو شبہ یقین میں بدلنے لگتا ہے۔ زیر بحث معاملہ میں بھی پولیس یا حکام اسد طور کو تشددکا نشانہ بنانے والوں کا سراغ تو نہیں لگایا جاسکا لیکن ایف آئی اے نے انہیں ملکی اداروں کے خلاف ’توہین آمیز‘ باتیں کرنے کے الزامات کا جواب دینے کے لئے ضرور طلب کرلیا ہے۔ اور اسد طور کے لئے آواز بلند کرنے کے جرم میں حامد میر کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔
جیو کی انتظامیہ کا مؤقف پڑھ کر موجودہ ملکی حالات میں کسی ٹی وی انتظامیہ کی مجبوری کو سمجھا جاسکتا ہے۔ ادارے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اپنے ناظرین اور قارئین کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ملک میں کسی بھی دوسرے میڈیا ادارے کے مقابلے میں کرپشن، توہین مذہب اور غداری جیسے سینکڑوں جھوٹے الزامات پر جیو جنگ گروپ کو بند کیا گیا۔ ہمارے صحافیوں کو مارا پیٹا گیا، اپنے ناظرین اور قارئین کو حالات سے باخبر رکھنے میں ادارے کو 10 ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا‘۔ یعنی جیو یہ وضاحت دے رہا ہے کہ اس نے آزادی اظہار کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اب وہ مزید برداشت نہیں کرسکتا۔ حالانکہ اسی بیان میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ ’حامد میر اور دوسرے صحافی حملے پر جس غم و غصے یا مایوسی کا شکار ہوئے اس پر مشترکہ اور شدید تشویش ہے۔ لیکن صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے بہتر طریقے اور ذرائع موجود ہیں‘۔ یعنی حامد میر اور غیر قانونی تشدد پر احتجاج کرنے والوں کے لئے بذریعہ جیو یہ پیغام ہے کہ : ’صحافی اپنے تحفظ کے بہتر ذرائع استعمال کریں‘۔ ان ذرائع کی وضاحت چونکہ بیان میں موجود نہیں ہے اور تقریر کرنے کو ’نامناسب‘ طریقہ کہا گیا ہے لہذا یہ سمجھنا درست ہوگا کہ خاموش رہنا ہی مناسب طریقہ ہے۔
ملک میں میڈیا کو دباؤ میں لانے اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کا جو ماحول پیدا کیا گیا ہے، اسد طور پر حملے، حامد میر کے خلاف کارروائی اور جیو کے وضاحتی بیان نے اس میں شدت پیدا کی ہے۔ اس سے واضح ہورہا ہے کہ ملک میں اگرچہ جمہوری حکومت ہے لیکن آزادی سے بات کہنے کا جمہوری حق دستیاب نہیں ہے۔ جس منتخب حکومت کو اس پریشان کن صورت حال میں صحافیوں کی دلجوئی کرنی چاہئے ، وہ صحافیوں اور صحافت کو کنٹرول کرنے کے لئے ’پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ قائم کرنے کا بل قومی اسمبلی میں لائی ہے ۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ، انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور پاکستان بار کونسل نے ایک مشترکہ بیان میں اس بل کو آزادیٔ اظہار کو کنٹرول کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ حکومت نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ یہ بل پارلیمنٹ میں منظوری سے پہلے ایک آرڈی ننس کے ذریعے نافذ کیا جاسکتا ہے۔ گویا صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز سے رائے لینے کی بات محض ڈھونگ ہے۔ ملک میں صحافیوں کے تحفظ اور ان کے حق اظہار کے لئے جاری بحث کے دوران یہ متنازعہ بل پیش کرکے دراصل حکومت نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ملکی میڈیا کی رہی سہی آزادی بھی سلب کرنا چاہتی ہے تاکہ نہ بانس رہے نہ بانسری بجے۔ جب خودمختاری سے بات کرنا ہی خلاف قانون ہو گا تو کسی کو بھی گرفتار کرنا اور اس کے خلاف مقدمہ قائم کرنا سہل ہوجائے گا۔ یوں صحافیوں پر پراسرار حملوں کا تدارک کیاجائے گا۔
اس صورت حال میں چار سوالات ضرور سامنے آتے ہیں: 1)صحافی تقریریں کیوں کرتے ہیں ۔ 2)قانون شکنی اسلام آباد میں ہو تو غداری کا مقدمہ گوجرانوالہ میں کیوں درج ہوتا ہے۔ 3)حکومت ہمیشہ لاقانونیت کا دفاع کیوں کرتی ہے۔ 4) اداروں کوپریشانی ہو تو وہ قانونی طریقہ سے اختیارکرنے کی کی بجائے قانون ہاتھ میں لینا کیوں ضروری سمجھتے ہیں ؟
یہ بات طے ہے کہ جیسے اداروں کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے، اسی طرح صحافیوں کو بھی اپنے دائرہ کار کے بارے میں چوکنا رہنے اور بلاجواز اشتعال انگیزی سے گریز کرنا چاہئے۔ تاکہ غداری کے الزامات کی نوبت نہ آئے اور حکومت مسلسل دفاعی پوزیشن میں نہ رہے۔ اس کا ایک جواب نواز شریف کے تازہ ٹوئٹ میں موجود ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’حامد میر پر تازہ ترین وار ہؤا ہے۔ سلیم شہزاد کا قتل، ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ، مطیع اللہ جان اور گل بخاری کا اغوا یا احمد نورانی، اسد طور، عمر چیمہ، بلال فاروقی اور اعزاز سید کو زد و کوب کرنا۔ اس سے پہلے کہ فسطائیت پاکستان کا وجود خطرے میں ڈال دے، ہمیں اس کا راستہ روکنا ہو گا‘۔ یہ راستہ کٹھن اور دشوار ہے۔ اکیلے صحافی یہ انقلابی جدوجہد نہیں کرسکتے۔ سیاسی پارٹیوں کی ایک تصویر شیخ رشید اور فواد چوہدری کے بیانات کی صورت میں سامنے ہے اور اپوزیشن کے پاس حکومت مخالف بیانات کے سوا کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔ حتی کہ خود نواز شریف کی پارٹی مزاحمت کے بعد اب شہباز شریف کے ذریعے مصالحت کی منتظر ہے۔
ان سوالوں سے پیدا ہونے والی صورت حال کا واحد معتدل حل یہی ہے کہ صحافیوں سمیت سب ادارے حقوق کے ساتھ ذمہ داریوں کا ادراک بھی کریں۔ دوسرے کا گریبان پکڑنے سے پہلے خود احتسابی کا اہتمام کیا جائے۔ اگر صحافی تنظیمیں ضیا دور کی نظریاتی تقسیم سے ماورا ہو کر خالص پیشہ وارانہ انداز میں ملکی صحافت میں ذمہ داری کا چلن متعارف کرواسکیں تو حملوں میں ملوث ہونے والے عناصر کو بھی حدود مقرر کرنا پڑیں گی ۔ اور حکومت بھی میڈیا پر حملہ آور ہونے کا حوصلہ نہیں کرے گی۔
صحافیوں میں یک جہتی اور احساس ذمہ داری کے بغیر یہ بحران شدید ہوگا۔ پھر صحافی جوش میں باغیانہ تقریرں کرتے رہیں گے اور ملکی نظام ان پر غداری کا الزام عائد کرتا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1877 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *