بے ٹی فریڈین اور سیمون دی بووا۔ دو فیمنسٹوں کا تاریخ ساز مکالمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بے ٹی فریڈین امریکی فیمنسٹ ہیں جن کی کتاب THE FEMININE MYSTIQUEنے شمالی امریکہ کی لاکھوں عورتوں کی زندگیاں بدل دیں اور سیمون دی بووا ایک فرانسیسی فیمنسٹ ہیں جن کی کتاب THE SECOND SEXکے بہت سی زبانوں میں ترجمے ہوئے۔ ان دونوں خواتین کی زندگی کا مقصد عورتوں کی آزادی و خودمختاری کی تحریک کو بڑھاوا دینا تھا۔ ان کی منزل ایک تھی لیکن راستے جدا تھے اس لیے ان کا مکالمہ فیمنزم کی مختلف تحریکوں کی نفسیات ’سیاسیات اور سماجیات سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ میں اس تاریخ ساز مکالمے کا ترجمہ‘ ہم سب ’کے قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

بے ٹی فریڈین: میری نگاہ میں یہ اہم تھا کہ ہم تحریک نسواں کے بارے میں تبادلہ خیال کریں۔ ہم دونوں نے اپنی تخلیقات ’خیالات اور نظریات سے اس تحریک کو متاثر کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ تحریک اس دور میں سب سے بڑی اور فعال تحریک ہے اور یہ واحد تحریک ہے جو پچھلی دہائی میں معاشرتی تبدیلیاں لانے میں کامیاب رہی ہے۔ امریکہ میں یہ تحریک بہت زور و شور سے شروع ہوئی لیکن اب کچھ سست پڑ گئی ہے۔

سیمون دی بووا: فرانس میں بھی یہی عالم ہے۔

بے ٹی: امریکہ میں پچھلے دو سالوں میں بین الاقوامی نظریاتی تضادات کی وجہ سے ہماری توانائیاں بکھر گئی ہیں۔ جب سے ملک میں 1972 کے الیکشن سے پہلے۔ مساوی حقوق۔ کا قانون پاس ہوا ہے اور سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کے بارے میں فیصلہ سنایا ہے عورتوں کو اپنی سیاسی طاقت کا اندازہ ہو رہا ہے۔ تحریک نسواں کو چند طاقتوں نے تشدد اور افراتفری کی طرف لے جانے کی کوشش کی ہے اور تحریک کو جنسی سیاست میں ملوث کرنے کی سعی کی ہے۔ انہوں نے

مردوں
ماں بننے اور
بچے پیدا کرنے

کے خلاف جذبات ابھارے ہیں۔ میرے خیال میں تحریک کی سیاست میں جنسیات اور لیسبیزم کے مسائل کو ابھار کر اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایسی باتوں سے تحریک نسواں کی شدت اور زور متاثر ہوا ہے۔

سیمون: کیا آپ کا خیال ہے کہ بچے نہ پیدا کرنے اور لیسبین ازم کو فروغ دینے سے تحریک نسواں بری طرح متاثر ہوئی ہے؟

بے ٹی: ان باتوں نے تحریک کو سیاسی طور پر مفلوج کیا ہے۔ تحریک کے مختلف کارکنوں میں کچھ نظریاتی اختلافات ہیں۔ بعض عورتوں کا خیال ہے کہ مردوں کے خلاف جدوجہد ایک طبقاتی جنگ ہے۔ ان کے نزدیک۔ اگرچہ مجھے ان سے اختلاف ہے۔ جنس ’ماں بننا اور بچے پیدا کرنا ہمارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ میرے نزدیک ہماری جدوجہد کا مرکز و مقصد عورتوں کی فلاح عامہ ہونا چاہیے۔ جنسی مسائل کو ابھارنے سے بعض کارکنوں نے تحریک کو سیاسی طور پر متاثر کیا ہے۔

کئی سروے یہ بتاتے ہیں کہ عورتوں کی اکثریت اور بہت سے مرد بھی معاشرے میں عورتوں کے بنیادی اور مساوی حقوق کے حق میں ہیں لیکن جب مردوں یا بچوں کی محبت کے خلاف محاذ کھڑا کیا جاتا ہے تو ہم بہت سی عورتوں کو کھو دیتے ہیں۔

سیمون: میں سمجھ رہی ہوں آپ کیا کہنا چاہتی ہوں۔

بے ٹی: اور اس طرح غیر ضروری طور پر ہم مردوں سے بھی دور ہٹ جاتے ہیں۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ اب اپنے آپ کو فیمنسٹ کہلاتی ہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ اب آپ کا سارا زور معاشی تبدیلیوں پر نہیں رہا۔ اور اس بات کو قبول کرنے لگی ہیں کہ معاشی انقلاب جیسا کہ کمیونزم کے نظام سے آتا ہے خود بخود عورتوں کی آزادی اور خود مختاری کا سبب نہیں بنتا۔ اب میں یہ جاننا چاہوں گی کہ آپ کے نظریات میں جو تبدیلیاں آئی ہیں ان کی رو سے آپ عورتوں کی جدوجہد کا بڑے پیمانے پر سیاسی و معاشی جدوجہد سے کیا تعلق دیکھتی ہیں؟

سیمون: میں بالکل نہیں سوچتی کہ کمیونزم یا کوئی اور سوشلسٹ انقلاب جیسا کہ ہمارے دور میں ظہور پذیر ہوا ہے عورتوں کے مسائل کا پورا حل پیش کرتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں پھر بھی عورتوں کی جدوجہد اور معاشی تبدیلیوں میں گہرا تعلق ہے۔ خاص کر فرانس میں۔ پچھلے دنوں یہاں پر ایک فیکٹری میں ہڑتال ہوئی اس فیکٹری کے اسی فیصد کارکن عورتیں تھیں ہڑتال کی قیادت بھی عورتوں نے کی۔ اور وہ چھ ماہ تک جاری رہی۔ اس طرح عورتوں کو اپنی معاشی اور اس کے توسط سے سیاسی طاقت کا اندازہ ہوا۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ اگرچہ عورتیں اس ہڑتال میں فعال تھیں لیکن جب رات کی ڈیوٹی دینے کا وقت آیا تو بہت سی عورتیں کہنے لگیں ہم نے ہڑتال کے لیے بہت قربانی دی ہے۔ ہم اس کی خاطر اپنی شادی داؤ پر نہیں لگا سکتیں کیونکہ ان کے شوہر اس کے حق میں نہ تھے۔ اس طرح وہ عورتیں فعال ہونے کے باوجود اپنے شوہروں کی ماتحت رہیں اور لاشعوری طور پر معاشرے میں عورت کے مقام اور اس کی روایت کو برقرار رکھتی ہیں۔

فرانس کی آزادی نسواں کی تحریک کی یہ کوشش ہے کہ وہ عورتوں کی معاشی آزادی اور خود مختاری کی جدوجہد کو قریب تر لا سکے۔

بے ٹی : کیا آپ کی جماعت کا زیادہ زور معاشی حالات کی تبدیلی پر ہے؟

سیمون: ہماری جماعت کے بھی دو حصے ہیں۔ ایک گروہ جنسی مسائل پر توجہ دیتا ہے ان کا مقصد مردوں کی مخالفت کرنا اور لیسبین ازم کو فروغ دینا ہے۔ دوسرا گروہ جس کا تعلق سوشلسٹ نقطہ نظر سے ہے وہ جنسی جدوجہد اور معاشی جدوجہد کو قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور کام کرنے والی عورتوں کا تعاون کر رہا ہے۔

بے ٹی: ہمارے ملک کے سماجی شعور میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ آج کل ہم معاشی بحران کا شکار ہین اور عورتوں کو ملازمت سے چھٹی مل رہی ہے۔ یونیورسٹیوں اور کارپوریشنز میں بجٹ کی کمی کی وجہ سے عورتیں متاثر ہو رہی ہیں لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں اس بے روزگاری کے عالم میں ہم عورتوں کو کیسے ملازمت دیں؟

سیمون: فرانس میں حالات اس سے مختلف ہیں۔ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ وہ عورتوں کو ورک فورس میں پوری طرح شامل کر رہی ہے عورتوں کو پولی ٹیکنیک اداروں میں داخلہ مل رہا ہے انہیں یونیورسٹی کا صدر منتخب کیا جا رہا ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ سب بعض لوگوں کا منہ بند کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے ان کی حیثیت ٹوکن سے زیادہ نہیں ہے۔ ایک عورت نے اعلیٰ عہدہ اختیار کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ ٹوکن نہیں بننا چاہتی۔

Betty_Friedan_1960

بے ٹی: ہمارے خیال میں عورتوں کو جو ملازمتیں ملیں وہ انہیں لے لینی چاہئیں اور دوسری عورتوں کے لیے مزید دروازے کھولنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے تا کہ ہم سطحی تبدیلیوں سے حقیقی تبدیلیوں کی طرف کا سفر جاری رکھ سکیں۔

سیمون: فرانس میں اس رویے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جو عورتیں اعلیٰ عہدے قبول کر لیتی ہیں ان پر کیریر وومن اور مراعاتی خواتین کا الزام لگتا ہے۔ جو عورتیں ان عہدوں سے انکار کر دیتی ہیں وہ زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔

بے ٹی: کیا آپ اتفاق نہیں کریں گی کہ بات صرف جنسی تعصب کی ہی نہیں بلکہ ہمیں چند بنیادی تبدیلیاں پیدا کرنی پڑیں گی اور رشتوں کے بنیادی اصول بدلنے پڑیں گے جیسے بوس اور سیکرٹری کا رشتہ ’نرس اور ڈاکٹر کا رشتہ۔

سیمون: مجھے اتفاق ہے اس لیے بعض عورتوں کا خیال ہے کہ جب تک بنیادی تبدیلیاں نہ ہوں وہ اس کھیل میں شریک نہیں ہونا چاہتیں۔

بے ٹی: تو پھر وہ کھائیں گی کہاں سے؟

سیمون: انہیں اعلیٰ ملازمتیں لینے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ یونیورسٹی کی پروفیسر ہونے کی بجائے سکول کی استانیاں بن سکتی ہیں۔

بے ٹی: کیا آپ ایسی عورتوں کی ہم خیال ہیں؟

سیمون: میں بھی اپنے آپ سے یہ سوال پوچھتی رہتی ہوں۔ اکثر اوقات سوچتی ہوں کہ اس میں بھی کچھ حقیقت ہی ہے اگر ہم معاشرے میں کوئی اہم اور بنیادی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان اعلیٰ ملازمتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔

بے ٹی: اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ معاشرے میں تبدیلی کے لیے عورتوں کے پاس ایسے مقامات ہونے چاہئیں کہ وہ نظام کو متاثر کر سکیں۔ اور اس قسم کی طاقت حاصل کرنے کے لیے ان میں اعتماد اور صلاحیتیں ہونی چاہئیں تا کہ وہ معاشرے کی رکاوٹوں کو کاٹتی ہوئی آگے بڑھ جائیں۔ آپ کا نقطہ نظر تو عورتوں کو ہمیشہ کم درجے کا شہری رکھے گا اور اگر ہم آپ کی دلیل ایک قدم آگے بڑھائیں تو ہم تعلیم حاصل کرنے سے بھی انکار کر دیں کیونکہ وہ بھی غلط نظام کی پروردہ ہے۔

سیمون: تعلیم کا معاملہ دوسرا ہے۔ ہمیں تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہیے کیونکہ وہ ہتھیار کی طرح ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ہم اس ہتھیار کو استعمال نہ کریں اور اعلیٰ عہدے قبول کرنے سے انکار کر دیں۔ ہم میں سے بہت سوں کا خیال ہے جن میں میں بھی شامل ہوں کہ اگر معاشرے کو تبدیل ہونا ہے تو وہ نیچے سے ہونا چاہیے نہ کہ اوپر سے۔

بے ٹی: ہم دونوں لکھنے والیاں ہیں اور معاشرے پر صحتمند تنقید کر کے ہم لاکھوں لوگوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا ہم عورتوں کے مقصد کی خدمت کر رہی ہوں گی اگر ہم اس طاقت کو استعمال نہ کریں۔

سیمون: جن حالات میں میری پرورش ہوئی اور آزادی نسواں کی تحریک کی عدم موجودگی میں مرد اور عورت برابر سمجھے جاتے تھے لیکن آج کل بہت سی عورتیں اتنی فیمنسٹ ہیں کہ وہ مردوں کی برابری قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ان کا مقصد معاشرے میں مقام حاصل کرنا نہیں بلکہ معاشرے کے موجودہ نظام کو تبدیل کرنا ہے۔ وہ مرد کی قائم کی ہوئی تمام روایتوں کے خلاف ہیں حتیٰ کہ وہ مضامین لکھتی ہیں تو اپنا نام تک ظاہر نہیں کرتیں وہ لوگوں کا سٹار بننے کے حق میں نہیں ہیں۔

بے ٹی: کیا آپ اپنی کتابوں پر اپنا نام نہیں لکھیں گی؟

سیمون: نہیں میری تربیت مختلف ہوئی ہے۔ میں نے جو سیکھا ہے وہی کروں گی۔ لیکن مجھے ان عورتوں سے ہمدردی ہے جو اپنا نام نہیں لکھتیں۔

بے ٹی: میرے خیال میں سٹار بننے کی روایت اس طرح ختم ہو سکتی ہے اگر معاشرے میں ہزاروں سیمون دی بووا اور ہزاروں بے ٹی فریڈین ہوں لیکن اگر ہم جو نام پیدا کر چکی ہیں اور عورتوں کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کو کہیں تو یہ مسئلہ ختم نہ ہوگا۔

سیمون: اگر ہزار سیمون دی بووا بن گئیں تو مجھے افسوس ہوگا میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جدوجہد کسی مقصد کے لیے ہونی چاہیے ذاتی نام و نمود و نمائش کے لیے نہیں۔

بے ٹی: عورتوں کی تحریک میں جیسا کہ طلبا اور میرے خیال میں کالوں کی تحریک میں امتیاز ختم کرنے کی کوشش نے جمہوری رویے کو نقصان پہنچایا ہے لیڈر شپ متاثر ہوئی ہے اور عمل میں سستی پڑ گئی ہے۔ ذمہ دار نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے طلبا کی تحریک معذور ہو گئی ہے۔

سیمون: فرانس میں عورتوں کی تحریک بے ساختہ بنیادی اور حقیقی ہے عورتیں ایک متبادل طرز زندگی اختیار کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں اگر کسی انتظامیہ میں مراتب نہ ہوں تو مسائل تو درپیش آتے ہیں لیکن اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص اور کارکن کو کلی اختیار اور آزادی کا موقع ملتا ہے۔ اور انتظامیہ چھوٹے چھوٹے آقاؤں کا سلسلہ نہیں بن جاتا۔

بے ٹی: میں نہیں چاہتی عورتیں مردوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنیں اور ان عورتوں کے ہاتھ میں جو مردوں کا انداز اختیار کرتی ہیں گوریلا فوج سے جنگ لڑنا زیادہ مشکل ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ عورتوں کی تحریک کے مقامی گروہوں کو آزادی حاصل ہو لیکن انہیں قومی پیمانے پر رہنمائی حاصل ہو۔ تا کہ ایسے فیصلے کیے جا سکیں جو پورے ملک کو متاثر کر سکیں۔

سیمون: ہم نے اسقاط حمل کے ساتھ یہی کیا۔ ہم نے نہ صرف پیرس بلکہ تمام صوبوں کو فعال بنا دیا لیکن وہ ایسا مسئلہ تھا جس میں ہر طبقے کے لوگ برابر کے شریک تھے۔ تمام عورتیں چاہے وہ کھیتی باڑی کرنے والی ہوں مزدور طبقہ حتیٰ کہ بورژوا عورتیں بھی سب ایک ہی کشتی میں سوار تھیں لیکن بعض دیگر مسائل پر تمام عورتوں کو یکجا کرنا مشکل ہے۔ مثال کے طور پر گھریلو کام کاج جو میرے نزدیک عورتوں کا ایک اہم مسئلہ ہے گھر کا کام کاج عورتوں کا بہت سا وقت لیتا ہے اور اس کا معاوضہ بھی نہیں ملتا۔

میرے نزدیک عورتوں سے گھر کا کام کروا کے مرد عورتوں کا استحصال کرتے ہیں۔ اس مسئلے پر پیٹی بورژوا انٹلیکچوئل اور مزدور طبقہ عورتوں کو تو یکجا کر سکتے ہیں لیکن مزدور مردوں کی کام نہ کرنے والی بیویاں آپ کا ساتھ نہ دیں گی۔ ان کی زندگی کا مقصد ہی گھریلو کام کاج ہے اس طرح عورتوں کے گروہ میں ایک بہت بڑی تفریق پیدا ہوگی۔

بے ٹی: میں نے عورتوں کے مسائل کے بارے میں بہت بڑا معاشی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ اس کا ایک پہلو گھریلو کام کاج کے لیے تنخواہ مقرر کرنا ہے جس کا اثر ان کے سوشل سیکورٹی پنشن اور طلاق کے فیصلوں پر ہوگا۔ اس فیصلے سے غریب اور درمیانے درجے کی بیویوں خوشگوار طور پر متاثر ہوں گی۔

Betty Friedan circa 1971 in New York

سیمون: میں آپ کے مشورے سے بالکل متفق نہیں ہوں۔ اس سے مردوں اور عورتوں کا تفاوت اور بڑھے گا اور عورتیں گھر میں مزید دھکیل دی جائیں گی۔ ہماری جماعت اس کے حق میں نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے بات قبول کرلی ہے کہ عورت کا مقام گھر میں ہے اور میں اس کے بالکل خلاف ہوں۔

بے ٹی: لیکن کیا آپ اس سے اتفاق نہیں کرتیں کہ وہ عورتیں جو گھر کے کام کرتی ہیں اور بچوں کا خیال رکھتی ہیں انہیں ان کی محنت کا معاوضہ ملنا چاہیے

سیمون: لیکن سوال یہ ہے کہ عورتیں کیوں یہ کام کریں کیا عورتیں گھریلو کام کے لیے ہی پیدا ہوئی ہیں۔ ؟

بے ٹی : نہیں میں یہ نہیں کہتی کہ عورتیں ہی ضرور یہ کام کریں۔ بچوں کی نگہداشت ماں باپ اور معاشرے کی برابر کی ذمہ داری ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں بہت سی عورتیں صرف گھریلو کاموں میں مشغول رہی ہیں خصوصاً جب کہ ان کے بچے چھوٹے تھے اور ان کے کام کو نا تو تسلیم کیا گیا اور نہ انہیں اس کام کا معاوضہ ملا۔ میرا یہ خیال ہے کہ ملک میں ایک ووچر سسٹم ہونا چاہیے جس کے تحت عورتوں کو ووچرز ملنے چاہئیں اگر عورتیں ملازمت کرنا چاہئیں یا تعلیم حاصل کرنا چاہئیں تو وہ یہ ووچر استعمال کر کے بچوں کی نگہداشت کا انتظام کر سکیں۔ لیکن اگر وہ اپنی بچوں کی خود نگہداشت کرنا چاہیں تو وہ رقم خود استعمال کر سکتی ہیں۔

سیمون: نہیں ہمارے خیال میں عورتوں کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کسی عورت کو گھر رہنے اور صرف بچوں کی نگہداشت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ معاشرہ پورے کا پورا بدل جانا چاہیے کیونکہ اگر عورتوں کو اس کی اجازت دے دی گئی تو بہت سی عورتیں گھر رہنا پسند کریں گی اور اس طرح ہم عورتوں کو ایک مخصوص طرز زندگی کی طرف دھکیل رہے ہوں گے۔

بے ٹی: میں آپ کا استدلال سمجھ رہی ہوں لیکن اس وقت سیاسی طور پر میں اس سے متفق نہیں۔ امریکہ میں بچوں کی نگہداشت کے لیے سنٹر نہیں ہیں اس کے علاوہ امریکہ میں شخصی آزادی کی ایسی روایت ہے کہ میں کبھی بھی یہ نہ کہہ سکوں گی کہ ہر عورت اپنے بچے سنٹر میں ضرور بھیجے۔

سیمون: لیکن ہم ایسا نہیں سوچتے ہم اسے ایک بڑی معاشرتی تبدیلی کا حصہ سمجھتے ہیں جس میں مرد اور عورت کے کاموں گھر اور باہر کی ذمہ داریوں کی تعریف مٹ جائے گی۔ ہمارے خیال میں ہر مرد اور عورت کو گھر سے باہر کام کرنا چاہیے اور خاندان اور بچوں کی ذمہ داریوں کا اجتماعی طور پر حل تلاش کرنا چاہیے۔ اس قسم کے کام کی مثال چین میں ملتی ہے جب ایک خاص دن بچے بوڑھے مرد اور عورتیں مل کر حسب استطاعت کپڑے دھورے ہیں عورتوں کی گھر میں رہنے کی حوصلہ افزائی کرنے سے معاشرہ نہیں بدلے گا۔

بے ٹی: میں ایک ایسے معاشرے کے بارے میں سوچتی ہوں جس میں عورتوں کے لیے ایک سے زیادہ راہیں کھلی ہوں گی عورتوں میں آج بھی خاندان اور ماں بننے کی خواہش اتنی شدید ہے کہ میں نہیں سمجھتی کہ ان روایات کو یکسر ختم کر دینا دانائی ہوگی۔ میری یہ خواہش ہے کہ معاشرے میں ایسے ادارے وجود میں آئیں کہ روایتی طرز زندگی میں فرق آ سکے جو لوگ گھریلو کام میں مشغول نہ ہونا چاہیں وہ نہ ہوں لیکن جو اس کام سے لطف اندوز ہوتی ہوں وہ جاری رکھ سکیں۔ اب تک مسئلہ یہ تھا کہ اب تک نئے راستے مہیا نہیں تھے جن میں سے عورتیں اپنی راہ کا انتخاب کر سکیں

سیمون: میرے خیال میں جب تک خاندان ماں بننے مادرانہ جبلت اور ان کے ساتھ اور بہت سے غلط عقیدوں کی اصلاح نہیں ہوگی عورتوں کے مظلوم و مجبور رہنے میں کوئی اہم فرق نہ آئے گا۔

بے ٹی : میں آپ سے متفق نہیں ہوں ماں بننے کی خواہش غلط عقیدہ نہیں ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ اس روایت کے ساتھ کچھ غلط قسم کا تقدس گھل مل گیا ہے۔

سیمون: جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے اسے ماں بننے کا پیشہ سکھایا جاتا ہے گھر میں کام کرنا برتن صاف کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے کیونکہ معاشرہ ان سے گھر کے کام کروانا چاہتا ہے وہ اسے ماں بننے کی ترغیب دیتا ہے لیکن ماں بننا کوئی پیشہ نہیں ہے جب تک معاشرے کی یہ روایت ختم نہ ہوگی ہم کوئی بنیادی تبدیلی نہ لا سکیں گے۔ اسقاط حمل کی جدوجہد کا مقصد ہی یہ ثابت کرنا تھا کہ عورت بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں ہے۔

بے ٹی : تو کیا آپ کا یہ ایمان ہے کہ عورتوں کو ماں نہیں بننا چاہیے؟

سیمون: نہیں میں یہ نہیں کہہ رہی۔ آپ اختیار کی بات کر رہی ہیں میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ہر لڑکی کے اس طرح تربیت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ بڑی ہو کر ضرور ماں بنے۔ میں یہ بھی نہیں کہتی کہ مردوں کو باپ نہیں بننا چاہیے بات اتنی ہے کہ انہیں یہ فیصلہ خود سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ نہ کہ معاشرے کی توقعات کو پورا کرنے کے لیے ایسا قدم اٹھانا چاہیے۔

بے ٹی : مجھے اس بات سے اتفاق ہے کہ عورتوں کو خود یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ ماں بننا چاہتی ہیں یا نہیں اور بننا چاہتی ہیں تو زندگی کے کس مرحلے پر ہم پورے معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں تاکہ وہ عورتیں جو مائیں بنیں وہ زندگی کے بقیہ حصے سے بھی پورا استفادہ کر سکیں۔ بچوں کی نگہداشت کا پورا نظام ہی بدلنا ہوگا۔ جس میں ماں باپ بچوں کے سنٹر اور ماحول سب شامل ہیں۔ اگر پورا نظام بہتر ہو جائے تو بہت سی عورتیں خوشی خوشی ماں بننا پسند کریں گی۔ میرے نزدیک ماں بننا ایک احسن قدر ہے میری ذاتی زندگی کا وہ ایک اچھا پہلو تھا میرے خیال میں بہت سی عورتیں۔

سیمون: ماں بننے اور گھر کے کام کرنے کو یکجا کیوں کیا جائے اس تعلق سے جو عورت ماں بنتی ہے وہ گھر کا کام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور ہمیں اس روایت سے اتفاق نہیں ہے میری نگاہ سے عورتوں کو گھر کا کام کرنے سے آزاد ہونا چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر لڑکی کو بچپن سے ماں بننے کی ترغیب ملتی رہے تو جب وہ بیس برس کی ہوتی ہے تو اس کا اختیار ختم ہو چکا ہوتا ہے

بے ٹی : اس کو اور چیزوں اور راستوں سے بھی اختیار ہونا چاہیے۔ لیکن ماں بننے کا راستہ بھی کھلا رہنا چاہیے جب آپ نے پی ایچ ڈی حاصل کی تو آپ ایک غیر معمولی عورت تھیں اب ماحول بدل چکا ہے اس زمانے میں کسی کا ماں بن جانا اس کا باقی زندگی سے قطع تعلق ہو جانے کے لیے کافی تھا لیکن اب تو ایسی صورت حال نہیں ہے اب تو لازم نہیں کہ عورت ان میں سے صرف ایک کو اختیار کرے۔

سیمون: میں نے سوچا تھا کہ میں بچے پیدا نہیں کر سکتی کیونکہ میں نے لکھنا تھا لیکن ہم موضوع سے ہٹتے جا رہے ہیں میرے خیال میں اگر عورتوں کو گھر کے کام کی اجرت ملنی شروع ہو گئی تو ہم اس نظام کو جس میں گھر کا کام عورت کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے بدلنے میں کامیاب نہ ہو سکیں گے۔ اور میں اس کے بالکل حق میں نہیں ہوں۔

بے ٹی: تو آپ کی نگاہ میں عورتوں کے گھر کے کام کی کوئی قدر نہیں ہے؟

سیمون: ایسی قدر ہے جس میں ہم مردوں اور معاشرے کو شریک کرنا چاہتے ہیں تاکہ عورتیں گھر کا کام کرنے پہ مجبور نہ ہوں۔

بے ٹی: مجھے اس سے اتفاق ہے۔

سیمون: اس لیے گھر کے کام کا معاوضہ نہیں ہونا چاہیے۔ معاشرہ ایسا ہو کہ اس قسم کا کام اجتماعی طور پر ہو سکے۔ ایک چینی مرد نے کہا تھا میں اپنے دانت خود صاف کرتا ہوں میں اپنی بیوی سے دانت صاف نہیں کرواتا باقی کاموں کا بھی یہی حال ہونا چاہیے۔ لانڈری کے سنٹر ہونے چاہئیں جہاں پوری بلڈنگ کے کپڑے دھل سکیں ہم اس راستے پر چل رہے ہیں جہاں لوگ مختلف کاموں میں تخصص حاصل کر لیں گے۔

بے ٹی؛ کیا ہم آج کے معاشرے کی بات کر رہے ہیں یا مستقبل بعید کے معاشرے کی بعض کمیونسٹ ممالک میں ملازمتوں کی ایسی تفریق ہے کہ اس میں گھریلو کام بھی شامل ہو سکے۔ انہوں نے عورتوں کے گھر کا کام کرنے کی تنخواہ دینی شروع کر دی اور مردوں کو زیادہ تنخواہ دینے لگے تا کہ وہ اپنی عورتوں کو گھر میں رکھ سکیں۔ میرے نزدیک یہ حالات کا سخت رد عمل تھا امریکہ میں حالات مختلف ہیں لوگوں کو گھر میں رہ کر سوشل سیکورٹی اور پنشن مل سکتی ہے میری نگاہ میں جو شخص جو کام کرتا ہے اس کی قدر ہونی چاہیے۔

سیمون: اگر آپ ماضی کی بات کر رہی ہیں تو وہ اور بات ہے۔ لیکن مستقبل میں حالات بدلنے چاہئیں جیسے آپ کسی شخص کو اپنے دانت صاف کرنے اور ہاتھ دھونے کا معاوضہ نہیں دیتے اسی طرح ہر شخص کو اپنا کام خود کرنا چاہیے۔ اپنے برتن صاف کرنا کمرے کی صفائی کرنا بستر بنانا اس طرح گھریلو کام کا تصور بھی بدل جائے گا اور مسئلہ ختم ہو جائے گا۔

بے ٹی: جہاں تک ماں بننے کا تعلق ہے ہمیں اس کے اچھے پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے عورت کو ماں بننے یا نہ بننے کا اختیار ہونا چاہیے لیکن ماں بننا بذات خود ایک قابل قدر چیز ہے۔

سیمون: باپ بننا بھی قابل قدر چیز ہے لیکن اس کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ زندگی کی بہت سے اقدار ہیں لیکن بعض مشکوک قسم کی اقدار ہیں۔ بچوں کی آزادی بھی ایک اچھا خیال ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ بچوں کی نگہداشت کس قسم کی ہو رہی ہے۔ والدین اور بچوں کا رشتہ ایک شکل رشتہ ہے

بے ٹی : تو پھر ہم نسل انسانی کو آگے کیسے بڑھائیں گے؟
سیمون: کرہ ارض پر پہلے ہی بہت سے لوگ ہیں

بے ٹی: میں چند لمحوں کے لیے محبت شادی اور جنس کے حوالے اور ان کی عورتوں کی تحریک آزادی کے ساتھ تعلق کے حوالے سے گفتگو کرنا چاہتی ہوں میری نگاہ میں مرد کے ساتھ جنسی تعلق لازمی نہیں کہ منفی اور غیر صحتمندانہ ہو میں اس رشتے کو عورتوں کی تحریک کا دشمن نہیں سمجھتی میرے نزدیک جانبین کو جنسی اختلاط سے لطف اندوز ہونا چاہیے لیکن موجودہ دور میں چونکہ عورت کا مقام معاشرے میں گر چکا ہے اس لیے جنس عورتوں کے استحصال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ جب تک عورت مردوں کے برابر نہ ہوگی صحیح معنوں میں جنسی آزادی حاصل نہیں ہو سکتی۔

سیمون: آج کل کے جنسی تعلقات میں ایسا لگتا ہے جیسے ایک اونچے طبقے کا شخص نچلے طبقے کے ساتھ گھل مل رہا ہو۔

بے ٹی: جب عورتیں معاشی طور پر خود مختار ہو جائیں گی ان کی شناخت مستحکم ہو جائے گی اور وہ مردوں کی طرح اپنے آپ کو پسند کرنے لگیں گی تب ہم مردوں سے برابری سے مل سکیں گے۔

سیمون: لیکن اس وقت ہم جنسی مساوات سے بہت دور ہیں
بے ٹی: آپ جنسی مسائل کو برابری کے مسئلے سے حل کرنا چاہتی ہیں نہ کہ جنسی تعلقات کو کمتر بنا کے۔

سیمون: نہیں بالکل نہیں اگر معاشرہ مساوات کے اصول پر مبنی ہو تو مرد اور عورت برابر رہ کر مل سکتے ہیں لیکن اس ناہموار معاشرے میں عورت ایک بڑا خطرہ مول لیتی ہے

بے ٹی: میں ایک بات کا ذکر کیا کرتی ہوں جو میں نے آپ کی کتاب میں پڑھی تھی۔ عورت کا جنسی تعلق میں نچلی پوزیشن اختیار کرنا اس کے معاشرے میں مقام کی ترجمانی کرتا ہے

سیمون: یہ ایک معاشرتی حقیقت ہے
بے ٹی: تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنسی تعلق نہیں بلکہ معاشرہ عورت کو نچلا مقام دیتا ہے
سیمون: یقیناً لیکن جنس معاشرے کے رویے کا استعارہ بن جاتی ہے
بے ٹی: جب ہم معاشرے کو بدلیں گے تو ہمیں اپنی جنسی زندگی کی زیادہ آزادی ہوگی۔
سیمون: مجھے اس سے اتفاق ہے

بے ٹی: میں سیاسی صورت حال کی طرف دوبارہ آنا چاہتی ہوں عورتیں اپنی مجبور و مظلوم کیفیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور بڑی بڑی طاقتیں اس سے ڈر رہی ہیں سوال یہ ہے کہ کیا عورتیں اپنی جدوجہد میں دیگر بڑے سیاسی اہم مسائل سے کٹ کر کامیاب ہو سکتی ہیں یا نہیں؟

سیمون۔ موجودہ سیاست سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں میں ذاتی طور پر ووٹ بھی نہیں ڈالتی میری دلچسپی عورتوں کی تحریک اور دیگر انقلابی گروہوں کی کارکردگی میں ہے وہ گروہ جو سیاست میں شامل نہیں لیکن نظام کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ عورتوں کی سیاست کو مردوں کے جھگڑوں میں شامل نہیں ہونا چاہیے ایک حد تک مجھے اس سے اتفاق ہے یہ بھی اہم مسئلہ ہے کہ کون سا مسئلہ زیر بحث ہے

بے ٹی : اگر عورتوں کی تحریک مردوں کی سیاست سے علیحدہ رہتی ہے تو اس وقت کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے جب مرد فاشسٹ بن جائیں یا ایٹمی جنگ شروع کر دیں؟

سیمون: اس لیے میں نے کہا ایک حد تک۔ اگر میں امریکن ہوتی تو ویٹ نام کی جنگ کے خلاف لڑتی لیکن ہمیں یہ بھی خیال رکھنا ہے کہ ہم مردوں کی سیاست میں ملوث نہ ہوں

بے ٹی: وہ کیسے؟

سیمون: یہ بہت پیچیدہ اور گنجلک سوال ہے۔ ایٹمی جنگ کے خلاف جدوجہد ایک گمبھیر مسئلہ ہے۔ یہ گفتگو ہمیں موضوع سے دور لے جائے گی۔ آپ کے اٹھائے ہوئے سوالوں کے جواب اس وقت ملیں گے جب معاشرے میں اہم تبدیلیاں آئیں گی

بے ٹی : لیکن وہ تبدیلیاں کیسے آئیں گی؟

سیمون: ہم کوشش کر رہے ہیں سیاہ فام اپنی جدوجہد کر رہے ہیں نوجوان اور عورتیں بھی مصروف ہین اور یہ گروہ اقلیتیں نہیں ہیں عورتیں بھی اقلیت اور غیر اہم نہیں ہیں

بے ٹی: میں بھی یہی کہنا چاہتی ہوں مختلف تحریکوں کو آپس مین مل کر کام کرنا چاہیے تا کہ معاشرے میں ہم اہم تبدیلیاں لا سکین ورنہ ہم ایک دوسرے سے بے تعلق رہین گے اور معاشرہ فاشزم کی نذر ہو جائے گا

سیمون: نہیں مل کر جدوجہد کرنے کی ضرورت نہیں ہر گروہ اپنا کام کرتا رہے اپنے طریقے سے ہر گروہ تبدیلی لائے گا ان کا ایک دوسرے سے رابطہ ضرور رہنا چاہیے

بے ٹی: بہر حال ہم معاشرے کو کسی نہ کسی طریقے سے بدلنے اور بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 480 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments